آج کا شعر - 4

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

کاشفی

محفلین
امتحاں لیتی ہے پہلے پھر سبق دیتی ہے یہ
زندگی بالکل جدا ہے مکتب و استاد سے

(شبنم ناز)
 

کاشفی

محفلین
ترے ہونٹوں سے چاہت کا اگر اظہار ہوجائے
بہت مظبوط اور پختہ ہمارا پیار ہوجائے

نگاہیں دیکھتی ہیں آج بھی تیری ہی راہوں کو
ترستا ہے دلِ ناداں کہیں دیدار ہوجائے

(شبنم ناز)
 

کاشفی

محفلین
کبھی خوفِ خزاں ہے اور کبھی صیاد کا کھٹکا
بناؤں کیا سمجھ کر آشیانہ اس گلستاں میں

(رند)
 

کاشفی

محفلین
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

(اکبر الہ آبادی)
 

کاشفی

محفلین
ملا ہے ہم کو یہ مضمون روشن چشم بینا سے
کہ چھوڑی جس نے خودبینی اسے سب کچھ نظر آیا

(اکبر الہ آبادی)
 

کاشفی

محفلین
حیا سے سر جھکا لینا ، ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے ، بجلی گرا دینا

(اکبر الہ آبادی)
 

کاشفی

محفلین
یہ کیا کہیں احباب کیا کارنمایاں کر گئے
بی-اے ہوئے، نوکر ہوئے، پنشن ملی پھر مر گئے

(اکبر الہ آبادی)
 

کاشفی

محفلین
بتاؤں آپ سے مرنے کے بعد کیاہوگا
پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا

(اکبر الہ آبادی)
 

کاشفی

محفلین
مِری زبان سے پوچھو مزا محبت کا
یہ خوب جانتی ہے ذائقا محبت کا

نصیب فتح ہو یا ہو مجھے شکست اختر
خدا بچائے ہوا سامنا محبت کا

(شاہ اختر)
 

کاشفی

محفلین
تم شوق سے جابیٹھو اغیار کی صحبت میں
لو ہم تو چلے یاں سے اے یار خدا حافظ

محشر میں یہ بولیں گے سب رند کہ نکلا ہے
چشتی کے گناہوں کا انبار خدا حافظ

(چشتی - دہلی کے رہنے والے شاعر تھے، میرتقی میر کے پاس دہلی سے آئے اور ان کے شاگرد ہوئے اور تازندگی لکھنؤ میں رہے۔ زبان سیکھنے کی لالچ میں استاد کی خدمت کرتے رہے، لکھنؤ میں عہدِ ناسخ میں انتقال کیا۔)
 

کاشفی

محفلین
ہیں حسیں اور بھی پر تجھ میں ہے ہر بات نئی
دھج نئی، وضع نئی، گات نئی، بات نئی

(ناسخ)
 

کاشفی

محفلین
شبہ ناسخ نہیں کچھ میر کی اُستادی میں
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں

(ناسخ)
 

کاشفی

محفلین
کل مر گیا تھا جن کو بچانے میں پہلے باپ
اب کے فساد میں وہی بچے نہیں رہے

(نواز دیوبندی)
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top