آج کا شعر - 4

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

کاشفی

محفلین
سوتے نہیں اِس وہم سے وہ بسترِ گُل پر
ڈالیں تنِ نازک پہ نشاں پھُول نہ دب کے

(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
 

جٹ صاحب

محفلین
مجھے علم تھا میں سراب تھا، سو میرا نصیب خراب تھا
وہ جو ریزہ ریزہ ہوا میں تھا، وہی میرا خواب و خیال تھا
 

کاشفی

محفلین
جان جب لی تھی حیا ان کو نہیں آئی تھی
شرم آتی ہے اُنہیں قبر پر اب آنے میں

(جناب ثمر بسوانی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
مری سمت چلنے لگی ہوا کہ چراغ تھا مرے ہاتھ میں
مر ا جُرم صرف یہی تو تھا کہ چراغ تھا مرے ہاتھ میں
(پرویز اختر)
 

کاشفی

محفلین
میں دیتا تھا دل جب کسی نے نہ روکا
نہ دو جان اب لوگ سمجھا رہے ہیں

(سخنورانِ باکمال جلال لکھنوی)
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top