آج کا شعر - 4

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

فرخ منظور

لائبریرین
خوبرویوں سے یاریاں نہ گئیں
دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں
عقل صبر آزما سے کچھ نہ ہوا
شوق کی بے قراریاں نہ گئیں
تھے جو ہم رنگ ناز ان کے ستم
دل کی امّیدواریاں نہ گئیں
حسن جب تک رہا نظّارہ فروش
صبر کی شرمساریاں نہ گئیں

(حسرت موہانی)
 
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
ہو زندگی شمع کی صورت خدایا میری

یہ دعا واقعی میں میرے دل سے نکلی ہے ، کیونکہ اپنے دل کی کیفیت کے حسب حال مجھے اس بہتر شعر ابھی کوئی نہیں‌ملا۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
ہو زندگی شمع کی صورت خدایا میری

یہ دعا واقعی میں میرے دل سے نکلی ہے ، کیونکہ اپنے دل کی کیفیت کے حسب حال مجھے اس بہتر شعر ابھی کوئی نہیں‌ملا۔

صحیح شعر یوں ہے۔

لپ پہ آتی ہے دعا بن کے تمنّا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
 

مغزل

محفلین
میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے


درست یوں ہے :

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے
میں جس مکان میں‌رہتا ہوں‌اس کو گھر کردے

میں اپنے خواب سے کٹ کر جیوں تو میرے خدا
اجاڑ دے مری مٹی کو در بدر کردے

افتخار عارف
 

مغزل

محفلین
لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا

خواجہ حیدر علی آتش
 

مغزل

محفلین
کتنے شیریں ہیں تیرے لب،کہ رقیب
گالیا ں کھا کے بے مزہ نہ ہوا

اسداللہ خاں غالب ( دہلوی)
 

مغزل

محفلین
وضو کو مانگ کے پانی خجل نہ کر اے میر
و ہ مفلسی ہے ، تیمم کو گھر میں خاک نہیں

میر تقی میر
 

مغزل

محفلین
ہے کوئی جوہری اشکوں کے نگینوں کا یہاں
آنکھ بازار میں اک جنسِ گراں لائی ہے

میر تقی میر
 

مغزل

محفلین
نمو پاکر خس وخاشا ک ہونا
مقدر ہے ہمارا خاک ہونا
یہ موسم کون سا موسم ہے جس میں
گریبا ں چاہتا ہے چاک ہونا

ہزاروں دل کھلے حیرت کے طاہر
میسر ہو اگر ادراک ہونا

ڈاکٹر طاہر عباس، کراچی
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top