آئیے سماجی بہبود کریں!

جاسمن نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 12, 2014

  1. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,236
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    ہمیں بھی!!
    مگر ہم نے پالے نہیں۔ ان کی گھات کے قریب پہنچنے سے پہلے ایک دو "وٹّے" اٹھالیتے ہیں۔ خوب ہے!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  2. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    10,875
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  3. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    10,875
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    کیس نمبر1:
    ایمی اپنی ایک ہم جماعت کے بارے میں بتایا کرتی تھی کہ اس کی امی فوت ہو چکی ہیں۔ وہ دو بہنیں ہیں۔ ابو باہر ہیں اور دادی جان ہی ان کے ساتھ رہتی ہیں۔ پڑھائی میں وہ بہت کمزور ہے۔ ہمارے گھر سے نزدیک ہی گھر ہے۔
    میں اسے کہتی کہ مجھے اس کے گھر لے کے چلو۔ کئی بار اسے کہا اور خود بھی دل میں سوچا کہ اس بچی کے لیے کچھ کیا جائے۔ وہ ایمی کے ساتھ بیٹھ کے پڑھ لیا کرے۔ ایمی خود ہی پڑھتی ہے۔ مدد کبھی کبھار ہی لیتی ہے۔
    ایسے ہی کچھ وقت گذر گیا۔ ایک دن کسی ٹرم کے نتیجہ کے موقع پہ دادی جان اپنی چھوٹی پوتی کے ساتھ سکول میں آئیں اور ان کے آنے سے پہلے میں استانی جی سے اس بڑی بچی کی معلومات اور دادی جان کا فون نمبر لے چکی تھی۔ وہ فیل تھی۔ دادی جان اور چھوٹی بچی سے ملاقات ہوئی۔ انھیں گاڑی پہ گھر کے قریب چھوڑا۔
    چند دن بعد ان کی ٹیوٹر سے ملاقات کرنے گئی۔ دادی جان بھی تھیں۔ بچی سے بات کی تو وہ رونے لگی۔ ابو دوسری شادی کر چکے تھے۔ دوسری امی کا میکہ ساتھ والے گھر میں ہے۔ وہ بالکل بھی نہیں پوچھتیں۔ ایم فل کر رہی ہیں۔ بس اپنے کام سے کام رکھتی ہیں۔ کام والی ماسی کام کرتی ہے۔ وہی الٹا سیدھا پکا جاتی ہے۔ بڑی بچی بیمار بھی رہتی ہے۔ اسے تسلی دی۔ ٹیسٹ کرانے لے گئی۔ ٹیسٹ کی رپورٹ آئی۔ کچھ نہیں تھا۔ بس بخار رہتا ہے۔ دادی جان ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔ ڈاکٹر نے ڈپریشن بتایا۔
    اب صورت حال یہ ہے کہ میں کبھی کبھی سالن، پراٹھے وغیرہ جو بھی کچھ اچھا/ زیادہ بنا ہو اور موقع بھی مل جائے تو بھیج دیتی ہوں۔ کبھی خود چکر لگا لیتی ہوں۔ مصروفیت کے اس دور میں روز جانا یا روز کھانا بھیجنا بھی مشکل ہے۔ بہرحال ابھی چند پہلے دادی جان بھی بیمار تھیں۔ انھیں چھوٹی بچی کے ساتھ رکشہ کرا کے دیا کہ فلاں ڈاکٹر کے پاس جائیں۔
    ایک دن بیچاری ہمارے گھر کا راستہ بھول گئیں اور بہت پریشانی اٹھانے کے بعد ملا۔
    اب وہ بیٹے کے مشورہ پہ سکول بدلنا چاہ رہی ہیں۔ میں نےکچھ سکولوں دے متعلق معلومات لی ہیں۔ دیکھیں۔۔۔۔
    آج نتیجہ تھا۔ بڑی بچی فیل تھی۔
    دادی جان کا موبائل خراب ریتا ہے۔ بیٹے نے باہر سے جو موبائل بھیجا۔ بہو نے نجانے کون سا تھمایا کہ وہ بھی خراب ہے۔
    اب ارادہ ہے کہ کسی دن بیٹے سے فون پہ بات کروں ۔۔۔
    آپ میں سے کسی کے ذہن میں کوئی تجویز ہو تو شریک کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    15,577
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آپی اللہ کریم آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں ۔آمین
    ان شاء اللہ وقت نکال کر کچھ نکات پیش کرتے ہیں ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    15,577
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آپی جی جو سب سے اہم کام ہے وہ یہ کہ سب سے پہلے دادی جان کے موبائل کا مسئلہ حل کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی ایمرجنسی میں وہ مدد کے لیے رابطہ کر سکیں ۔
    ان کے بیٹے سے بات کرکے ان کے گھریلو حالات سے مطلع کیا جائے ،بیٹے سے بات کرکے آپ کو یہ بھی انداز ہو جائے گا کہ وہ اپنے گھریلو معاملات میں کتنی دلچسپی رکھتا ہے ،ہوسکتا ہو کہ موجود صورتحال سے وہ ناواقف ہو یا معلومات رکھنے کے باوجود بھی غافل ہو ۔
    بیٹھے سے بات چیت کر کے دادی اور بیٹوں کے لیےملازمہ کا انتظام بھی کیا جاسکتا ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 30, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    10,875
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    ملازمہ تو روز آتی ہے اور دیگر کاموں کے ساتھ جیسا تیسا کھانا بھی پکا جاتی ہے لیکن وہ اکثر بچیوں کو پسند نہیں آتا، نیز بڑی بچی تو کھانا کھاتی ہی نہیں۔ ڈپریشن کی وجہ سے اکثر بھوکی رہتی ہے۔ میں کبھی چلی جاؤں تو جو چیز لے کے جاتی ہوں، ڈانٹ کر ، پیار سے کھلا دیتی ہوں۔ بچیاں پیار و محبت اور توجہ کی متلاشی ہیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    15,577
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آپی جی محبت اور توجہ جو اپنے سگے رشتوں سے میسر آتی ہے وہ کسی اور سے شاید ممکن نہیں ہوتی ۔
    اب ان کا مسائل کا حل صرف ان کے بیٹے کا پاس ہے ۔
    آپ وقت طور ان کی خدمت کر سکتی ہیں ہمدردی جتا سکتیں ہیں مگر مستقل ان کے ساتھ وقت نہیں گزار سکتیں ۔
     
    • متفق متفق × 1
  8. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    9,144
    جھنڈا:
    Pakistan
    خالصتاً اخلاص بھرا جملہ۔۔۔
    ایک آیت اگر چہ کھانا کھلانے کے باب میں ہے لیکن اس آیت کو لوگوں کے ساتھ کی جانے والی تمام نیکیوں پر محیط جانئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

    إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰہ ِلَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَّ لَا شُكُورًا
    ہم تمہیں کھانا کھلانے کی جو نیکی کررہے ہیں وہ تمہارے لیے نہیں ہے بلکہ صرف اللہ
    کے لیے ہے۔ اسی لیے ہم کو تمہاری طرف سے نہ کوئی جزا اور صلہ مطلوب ہے اور نہ ہی کسی قسم کے شکریہ و ستائش کا اظہار !!!
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 30, 2019
    • زبردست زبردست × 2
  9. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    10,875
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    استغفراللہ۔
    توبہ توبہ۔
    اتنے دنوں کی مختصر ترین کہانی یہ ہے کہ بچیوں کو ایک کم درجہ کے این جی او سکول میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ داخلہ تو "آنٹی" نئی ماں نے کرایا اور باقی سب کام میں نے اماں کے ساتھ مل کے کیے کیونکہ بیٹئے نے صرف 5000 بھیجنے کو کہا تھا اور شام تک بھیج بھی دیے تھے۔ بچیوں کے یونیفارمز، کتابیں، جوتے، اور کئی طرح کی چیزیں۔۔۔صرف 5000۔
    وہ شخص اپنی بہنوں کی طرف سے بھی کوئی نصیحت نہیں سنتا، ماں کی بھی بے عزتی کرتا ہے۔ اس لیے میں اسے فون نہیں کر رہی۔ آج صبح بھی اماں میرے پاس آکر روتی رہیں۔ انھوں نے اپنے میاں کی دوسری شادی، خود کو گھر سے نکال دینے اور میکہ جا کے رہنے کا احوال سنایا۔ کیسے سخت محنتیں کر کے بچے پالے، پڑھائے۔ زیور، جائیداد بیچی۔۔۔ اب گھر بھی نئی بیوی کے نام ہے۔
    کل ماں سے کہنا لگا کہ آپ لوگ میری بیوی کا مقابلہ کرتے ہیں کہ اگر اُسے ایک لاکھ بھیجتا ہوں تو آپ کو بھی بھیجوں۔ وہ تو میرا فرض ہے۔ اور آپ لوگ اتنے خرچے کرے ہیں۔ میرے پاس درختوں پہ نوٹ نہیں لگے۔ اتنی مشکل سے کماتا ہوں۔ وغیرہ
    اماں بتانے لگیں کہ بڑی پوتی یہ سب سُٖن کے روتی رہی۔ رات کو اسے دیکھا تو جاگ رہی تھی اور چپ لیٹی چھت کو دیکھتی تھی۔
    اماں بھی آج کل کھانسی اور بخار میں مبتلا ہیں۔ بڑی پوتی تو تھوڑے تھوڑے دن بعد بیمار ہو جاتی ہے۔ کوئی پُرسانِ حال نہیں۔
    بہو کہتی ہے کہ سارا فرض بیٹے کا ہی نہیں، بیٹیوں کا بھی تو فرض ہے۔
    پہلے بیٹا ہر دو تین ماہ بعد آجاتا تھا، اب ایک سال ہونے کو آیا، نئی بہو خود جا کر مل آتی ہے۔
    وٹزایپ پہ تینوں کی نئے سکول کے دروازہ پہ تصویر کھینچ کے بھیجی تو بیٹے کا فون آگیا اور بہت زیادہ ناراض ہوا۔
    اب سوچ رہی ہوں کہ اُس ملک میں کسی جاننے والے سے رابطہ کروں ، شاید اسے سمجھانے کا کچھ سلسلہ بن سکے!
    محفلین تجاویز دیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    15,577
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آپی جی آپ نے جو حالات و واقعات بیان کیے ہیں وہ واقعی نہایت افسوس ناک اور رنجیدہ کر دینے والے ہیں۔اللہ کریم ان بچیوں کا حامی و ناصر ہے ،یقینا کوئی نا کوئی اسباب پیدا ہو ہی جائے گا ،ان پر جو آج سختی کا وقت ہے وہ بھی گزر جائے گا مگر ان کی ذہنی نشوونما اور اور ان کا مستقبل کیا ہوگا ،پریہ بھی ایک سوالیا نشان ہے ۔
    بیٹا نئی بیوی کے شکنجے میں بری طرح کساوا معلوم ہو رہا ہے ۔اس کے ذہن و دل پر شاید ہی کسی کی نصیحت اثر کرے ۔اللہ کریم ہی اس کے دل و دماغ پر چھائی کثافت دور کرنے کی راہ پیدا کر سکتے ہیں۔
    تجاویز تو یہی ہے کہ آپ کی جانب سے جو بھی ممکن مدد ہو وہ کیے جائیں ۔اللہ کریم آپ کو اس مدد کا بہترین بدل عطا فرمائیں ۔آمین
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,562
    انشاءاللہ لکھوں گا
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر