آئیے سماجی بہبود کریں!

جاسمن

مدیر
ہم اُس نبی کے ماننے والے ہیں جو کسی بھی اِمتیاز کے بغیر سارےاِنسانوں کے کام آتے تھے۔ چاہے اُس کافر عورت کی عیادت و تیمارداری ہو جو
آپ پہ کُوڑا پھینکتی تھی۔ چاہے اُس کافر بُوڑھی عورت کی گٹھڑی اُٹھانی ہو جو آپ سے بچنے کے لئے دُور جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے اِرد گرد مسائل میں گھرے انسان کسی مدد کی آس میں تڑپ رہے ہیں۔بیمار،لاچار،بے سہارا،یتیم،بیوہ خواتین، غریب،مسکین،بے گھر،
سیلاب یا دوسری کئی آفتوں کے شکار مصیبت زدہ لوگ۔۔۔یہ ہم ہیں۔یہ ہمی ہیں۔ آئیے اپنی مدد کریں۔۔۔
یہاں دو باتیں ہیں۔
1۔ ایک ہاتھ سے دو کہ دوسرے کو خبر نہ ہو۔
2۔ اِس خیال سے دُوسروں کو بتانا جائز ہے کہ اُن میں بھی کارِ خیر کا شوق پیدا ہو۔

آپ نے اپنی زندگی میں کسی بھی قسم کا سوشل ورک کیا ہو تو شیئر کریں۔۔۔
اور آجکل آپ اپنے لوگوں کے لئے کیا کر رہے ہیں یا کیا منصوبہ ہے؟
ضرور شیئر کریں کہ ہم سب کو اچھے کاموں کے لئے تحریک ملے۔۔۔
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
مثبت تبدیلی لانا
اپنے آپ سے دریافت کیجیے کہ آپ لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے کے لیے کیا کریں گے؟
وہ کیا سر گرمیاں ہیں جنہیں آپ اس کرہ ارض کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے شروع کر سکتے ہیں؟ (شجر کاری ، ماحول دوستی)
آپ اس سر زمین کو روشن تر بنانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ ( شمسی توانائی)
آپ کسی کی زندگی کیسے بچا سکتے ہیں (ادویات ، عطیہ خون )
ایک بچے کی زندگی میں بہتر مقام حاصل کرنے کے لیے آپ کیا کر سکتے ہیں ( تعلیمی منصوبے)

  • چند درخت لگانا
  • ماحول کو صاف رکھنے کے لیے علاقے میں کام کرنا
  • کسی بچے کی تعلیمی ذمہ داری اٹھانا
  • معاشرتی بہبود کے دوسرے کاموں میں مشغول رہنا
  • کسی بچے کے لیے کتابیں یا یونیفارم خریدنا
  • کسی کے لیے نئے کپڑے خریدنا
  • مستحقین کے لیے ادویات خریدنا
  • کسی بیوہ کے لیے سلائی مشین خریدنا
  • سکولوں یا کالجوں میں بلا معاوضہ لیکچر دینا
  • کینسر کے مریضوں کے ساتھ چند گھنٹے گزارنا
  • کسی غریب گھرانے کی گذر اوقات بہتر بنانے کے لیے انہیں کسی زندگی بخش کام یا کاروباری مہارت بڑھانے کے لیے ان کے کام میں رہنمائی کرنا
  • مسجد صاف کرنے میں چند گھنٹے گزارنا
  • مقامی مسجد کو مختلف چیزیں مثلا پنکھے ، واٹر کولر وغیرہ عطیہ کرنا
  • کسی غیر منافع بخش ہسپتال کو ایمبولینس عطیہ کرنا
  • کسی سکول ، ڈسپنسری یا مسجد کی تعمیر میں مدد دینا
  • علاقے کے لیے سٹریٹ لائٹس کا عطیہ دینا
  • کسی مصروف گلی میں پیدل چلنے والوں کے لیے واٹر کولر کا عطیہ دینا
  • تعلیم بالغاں کے لیے کام کرنا
  • سیلاب ، زلزلہ قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی مدد کرنا

"زیادہ بوو ، زیادہ کاٹو ، کم بوو ، کم کاٹو" (چینی کہاوت)

(شاہراہِ کامیابی از فائز ایچ سیال سے ماخوذ)
 

جاسمن

مدیر
جب سے شعور کی آنکھ کھُلی امّی جان کو لوگوں کے کام آتے دیکھا۔جانوروں سے بھی رحم کا برتاؤ کرتی ہیں۔ اکثر یہ جُملہ کہتی سُنائی دیتی ہیں۔
" پتہ نہیں اللہ کیس گل توں راضی اے۔"
میٹرک کے امتحان ہو رہے تھے۔ لگتا تھا میرے نہیں امّی جان کے اِمتحان ہو رہے ہیں۔رات کو دیر تک پڑھ کے اُن سے کہتی کہ مجھے تین بجے جگا دیجئے گا۔ وہ جاگتی رہتیں کہ اُن کی آنکھ نہ کھُل سکی تو میرا نقصان ہو گا۔ ایک رات باہر کُتا بھونکا تو اُنہوں نے اُسے روٹی دے دی۔ پھر تو وہ روز آنے لگا۔تین بجے رات کو آتا اور دروازہ ایسے کھٹکھٹاتا جیسے کوئی اِنسان کھٹکھٹاتا ہو۔ اُس کے لئے روٹی کا پہلے سے اِنتظام ہوتا تھا۔ امّی جان مسکراتیں اور اُسے روٹی دیتیں۔وہ مزے سے کھاتا جاتا اور دُم ہِلاتا جاتا۔
 
آخری تدوین:

جاسمن

مدیر
کشمیر: لاکھوں افراد ابھی بھی امداد کے منتظر
ہفتہ 13 ستمبر 2014
140912120629_kashmir_flood_624x351_reuters.jpg

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایک لاکھ 42 ہزار افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچا دیا گیا ہے جبکہ امدادی کارروائی زور و شور سے جاری ہے۔
حکام کے مطابق ابھی تک لاکھوں افراد مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے لوگوں سے بڑے پیمانے پر تعاون کی اپیل کی ہے۔
140913092941_kashmir_flood_624x351__nocredit.jpg


140913033950_kashmir_flood_624x351_ap.jpg

نوجوان ٹولیاں بناکر ضروت مندوں تک امداد فراہم کرنے کی کوشش میں لگے ہیں
سری نگر سے ہی صحافی شجاعت بخاری نے بتایا کہ اس سیلاب میں امداد باہمی کا زبردست منظر سامنے آیا ہے۔ ہر کس و ناکس گھر سے نکل کر پانی میں ڈوبی سڑکوں پر اتر آیا ہے اور جو ضرورت مند تھے انھیں امداد فراہم کرنے کی کوشش کی۔
نوجوان ٹولیوں میں کام کر رہے ہیں اور جہاں کشتی دستیاب نہیں ہے وہ ڈرم اور ٹرک کے ٹیوب یا لکڑی کے سہارے تیر کر امداد بہم پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/09/140913_kashmir_flood_update_day12_mb.shtml
 

جاسمن

مدیر
سامنے والے گھر میں ایک ماں اپنے اکلوتے بیٹےکے ساتھ بیوگی کی زندگی گذار رہی تھی۔ بیٹے کی شادی کی تو کچھ دنوں بعد بہو نے رنگ دِکھائے اور ماں بھوکی پیاسی
درخت کی چھاؤں میں بیٹھی رہتی۔ اُس کی دونوں آنکھوں میں موتیا اُترا ہؤا تھا۔بیٹا علاج بھی نہیں کرواتا تھا۔ امّی جان کا فلاحی جذبہ عود کے آیا اور وہ خاتون ہمارے گھر نظر آنے لگی۔ کبھی کھانا کھا رہی ہے،کبھی سو رہی ہے،کبھی بیٹھی باتیں کر رہی ہے۔ مجھے بڑی چِڑ ہوتی۔ کوئی پرائیویسی نہ تھی۔ اُ سکا کوئی وقت مقرر نہ تھا۔ ہمارا چھوٹا سا گھر تھا اور میں نے نوکری سے جب گھر آنا ،اُسے اپنے گھر پانا۔ امّی جان کو میں اکثر کہتی کہ آپ اپنے فلاحی کام گھر سے باہر رکھا کریں۔ گھر میں مت لایا کریں۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
"اللہ پتہ نہیں کیس گل توں خوش اے۔"
اُس کو ہسپتال لے جا کر امّی جان نے اُس کی آنکھوں کا علاج کروایا۔ علاقے کے کونسلر سے مِل کر بیٹے کی شکایت کی۔ خاتون کے بھائی کو کراچی خط لکھوائے۔ اُنہیں بُلوایا۔
پنچائیت کرائی۔ خاتون کا مسلۂ حل ہؤا تو اُس نے امّی جان سے بے رُخی اختیا ر کر لی۔ ہم اُنہیں خوب چھیڑتے۔کبھی وہ مُسکرا دیتیں اور کبھی چِڑ کے کہتیں "فیر کی ہویا۔
اللہ تے ویکھ رہیا اے۔کوئی دوجا جو مرضی کرے اسی نہ کریے۔ ہر بندے نے اپنا حساب دینا اے۔"
اللہ میری امّی جان کو کسی کا محتاج نہ کرے،چلتے ہاتھ پاؤں رکھے،اُن سے راضی رہےاوراولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کرے۔ آمین!
 

عزیزامین

محفلین
مثبت تبدیلی لانا
اپنے آپ سے دریافت کیجیے کہ آپ لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے کے لیے کیا کریں گے؟
وہ کیا سر گرمیاں ہیں جنہیں آپ اس کرہ ارض کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے شروع کر سکتے ہیں؟ (شجر کاری ، ماحول دوستی)
آپ اس سر زمین کو روشن تر بنانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ ( شمسی توانائی)
آپ کسی کی زندگی کیسے بچا سکتے ہیں (ادویات ، عطیہ خون )
ایک بچے کی زندگی میں بہتر مقام حاصل کرنے کے لیے آپ کیا کر سکتے ہیں ( تعلیمی منصوبے)

  • چند درخت لگانا
  • ماحول کو صاف رکھنے کے لیے علاقے میں کام کرنا
  • کسی بچے کی تعلیمی ذمہ داری اٹھانا
  • معاشرتی بہبود کے دوسرے کاموں میں مشغول رہنا
  • کسی بچے کے لیے کتابیں یا یونیفارم خریدنا
  • کسی کے لیے نئے کپڑے خریدنا
  • مستحقین کے لیے ادویات خریدنا
  • کسی بیوہ کے لیے سلائی مشین خریدنا
  • سکولوں یا کالجوں میں بلا معاوضہ لیکچر دینا
  • کینسر کے مریضوں کے ساتھ چند گھنٹے گزارنا
  • کسی غریب گھرانے کی گذر اوقات بہتر بنانے کے لیے انہیں کسی زندگی بخش کام یا کاروباری مہارت بڑھانے کے لیے ان کے کام میں رہنمائی کرنا
  • مسجد صاف کرنے میں چند گھنٹے گزارنا
  • مقامی مسجد کو مختلف چیزیں مثلا پنکھے ، واٹر کولر وغیرہ عطیہ کرنا
  • کسی غیر منافع بخش ہسپتال کو ایمبولینس عطیہ کرنا
  • کسی سکول ، ڈسپنسری یا مسجد کی تعمیر میں مدد دینا
  • علاقے کے لیے سٹریٹ لائٹس کا عطیہ دینا
  • کسی مصروف گلی میں پیدل چلنے والوں کے لیے واٹر کولر کا عطیہ دینا
  • تعلیم بالغاں کے لیے کام کرنا
  • سیلاب ، زلزلہ قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی مدد کرنا

"زیادہ بوو ، زیادہ کاٹو ، کم بوو ، کم کاٹو" (چینی کہاوت)

(شاہراہِ کامیابی از فائز ایچ سیال سے ماخوذ)
پوائینٹ نمبر دس سب سے آسان ہے اور اچھا ہے
 

جاسمن

مدیر
انفرادی سوشل ورک
شایان تمثیل ہفتہ 5 جنوری 2013




اس ملک کے حالات ہر دور میں ہی دگرگوں رہے ہیں، کبھی انارکی و دہشت گردی تو کبھی بے روزگاری، مہنگائی، غربت اور بھوک کا عفریت معاشرے کو نگلتا نظر آتا ہے، اس پر مستزاد رحم، ہمدردی، خلوص و محبت جیسے مثبت جذبے اس معاشرے سے ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دم توڑتے خوبصورت جذبوں کو معاشرے میں دوبارہ پنپنے کا موقع دیا جائے تا کہ ملک میں پھیلتی انارکی کا توڑ ہو سکے۔
ہر کام اور اپنے ہر مسئلے کے حل کے لیے حکومت وقت اور ریاستی اداروں پر مکمل انحصار کرنا کسی طور پر بھی درست اقدام نہیں، کئی مسائل ایسے ہیں جو عوام انفرادی طور پر خود بھی حل کر سکتے ہیں، کم از کم اپنی اخلاقی اقدار جو مشرقی روایات کا خاصا ہیں انھیں اپنی شخصیت کا حصہ بنا کر عوام اس سنہری دور کی جانب لوٹ سکتے ہیں جب خاندانی نظام اس معاشرے میں مستحکم تھا اور پاس پڑوس محلے میں ایک دوسرے کی خبر گیری کا رواج عام تھا۔ لیکن عام مشاہدہ ہے کہ
اپنی خرابیوں کو پسِ پشت ڈال کر
ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے
سب سے پہلے اخلاقی گراوٹ کے شکار معاشرے کا تذکرہ کرتے ہیں، وجوہات پہلے بھی کئی بار ان ہی صفحات پر بیان کی جا چکی ہیں کہ کس طرح بڑوں کی لاپرواہی اور ٹوٹے پھوٹے خاندانی نظام کے باعث ہمارے معاشرے کو اخلاقی طور پر زوال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ بچوں کی تربیت میں لاپرواہی اور بڑوں کا اپنے مشاغل میں انہماک معاشرتی انحطاط کا باعث بن رہا ہے۔
اگر آج سے ہر شخص مصمم ارادہ کر لے کہ وہ ذاتی طور پر اپنے اطراف، اپنے خاندان اور بطور خاص اپنے گھرانے کے بچوں کی اخلاقی تربیت پر اپنا کچھ وقت صرف کرے گا تو یقیناً بہت جلد اس کے مثبت اثرات معاشرے میں ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ ہم باتیں تو بہت بناتے ہیں لیکن عمل سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ ہمارے ہی معاشرے میں کئی ناصح ایسے ہیں جو محافل کو اپنی شعلہ بیانی سے گرماتے نظر آئیں گے لیکن خود ان کے گھروں کا حال ان کی تقاریر کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ زمانے کی خرابیوں کا رونا رونے کے بجائے خود اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے اصلاح کی کوشش کی جائے۔
آج کا موضوع خاص اس لیے انفرادی سوشل ورک کو بنایا گیا ہے کہ اگر معاشرے کا ہر شخص ذاتی طور پر اپنی ذمے داریاں سمجھتے ہوئے تھوڑا بہت سوشل ورک اپنے ذمے لے لے تو معاشرے سے بہت سی خامیاں اور خرابیاں دور کرتے ہوئے بہتری کی جانب گامزن ہوا جا سکتا ہے۔ اکثر لوگ سوشل ورک کا نام سنتے ہی مالی پریشانیوں کا عذر پیش کریں گے لیکن سوشل ورک صرف مالی طور پر ہی نہیں بلکہ کئی اخلاقی پہلوئوں کے لحاظ سے بھی کیا جا سکتا ہے، جس میں آپ کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہو گا البتہ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ حصہ ضرور صرف کرنا پڑے گا۔ بچوں کی تربیت کا تذکرہ تو کیا ہی جا چکا ہے لیکن اپنے گھر کے علاوہ اپنے اڑوس پڑوس اور محلے کی خبر گیری بھی اہم ہے۔
آج کے دور میں خود غرضی، بے حسی و بے اعتنائی اپنے پنجے گاڑ رہی ہے۔ ہمیں علم نہیں ہوتا کہ ہمارے پڑوس میں کون آباد ہے، اس کے کیا مسائل ہیں، پڑوس کے لوگ کن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جب کہ ہمارا مذہب پڑوسیوں کے حقوق پر بھی زور دیتا ہے۔ کیا ہم سب اپنی زندگی میں واقعی اتنا ہی مصروف ہیں کہ دس پندرہ منٹ پڑوسی کی خیریت دریافت کرنے میں بھی خرچ نہیں کر سکتے؟ آج ہم گھنٹوں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر تو اپنا وقت ضایع کر لیں گے لیکن محلے میں کیا ہو رہا ہے اس سے لاعلم یا دانستہ لاپروا رہیں گے۔ اگر آپ تھوڑی سی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں اور اپنے اچھے خیالات کا پرچار کریں تو اپنے محلے میں وہی روایات دوبارہ لاسکتے ہیں جو ستر اور اسی کی دہائی میں ہمارے معاشرے کا حسن ہوا کرتی تھی۔
آج کے دور میں بے روزگاری بھی اہم مسئلہ ہے، جس کی کئی وجوہات میں سے ایک قابل لوگوں کے پاس کسی سفارش کا نہ ہونا بھی ہے۔ بے شک سفارش کے ذریعے نوکری حاصل کرنا صحیح نہیں لیکن بطور مدد آپ جس ادارے میں کام کر رہے ہیں اگر وہاں کوئی جگہ خالی ہوتی ہے تو کسی اہل فرد کو وہاں متعارف تو کروا سکتے ہیں، بے شک آپ اس کی سفارش نہ کریں لیکن آپ کے توسط سے ہو سکتا ہے اس اہل بے روزگار کو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع مل سکے۔
انفرادی سوشل ورک کا موضوع کافی وسیع ہے اور ایک کالم میں اس کا احاطہ ممکن بھی نہیں اس لیے چیدہ چیدہ نکات ہی زیر بحث ہیں۔ ایک اور اہم مسئلہ جسے شاید مسئلہ سمجھا ہی نہیں جاتا، لڑکیوں کے رشتے کا ہے اور صرف لڑکیاں ہی نہیں آج کل لڑکوں کی شادی بھی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ جب تک خاندانی سسٹم اپنی اصل حیثیت میں برقرار تھا نوجوان لڑکے لڑکیوں کی شادی اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھی۔
خاندان ہی میں صحیح جوڑ میسر ہوتے تھے، اخلاقی پاسداری تھی اس لیے اسٹیٹس کو بھی اہمیت نہیں دی جاتی تھی، اگر لڑکے کی تنخواہ کم بھی ہوتی تو گھر کے بڑے اپنی ذمے داری پر رشتہ پکا کر دیا کرتے تھے، یہی صورت لڑکی کے ساتھ ہوتی کہ اگر تعلیم کم بھی ہے تو اس بات کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی کہ لڑکی کو گھر داری ہی کرنی ہے لیکن اب لڑکے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جاب کرنے والی لڑکی دیکھتے ہیں جب کہ عمر بھی کم ہونے کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے اور لڑکی والے بھی لڑکے کے اخلاق و اطوار سے زیادہ اہمیت اس کی کمائی کو دیتے ہیں۔
نتیجتاً کئی لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں شادی کی عمر سے گزر جاتی ہیں اور لڑکے بھی زیادہ کمانے کے لیے ادھیڑ عمر تک شادی نہیں کرتے۔ اس غلط رجحان کی وجہ سے معاشرے میں اخلاقی برائیوں کا شرمناک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، آئے روز اخبارات اور میڈیا میں لوگوں کی غلط کاریوں اور جرائم کی کہانیاں سامنے آتی ہیں۔ اگر نوجوان لڑکے لڑکیوں کی شادیاں صحیح عمر میں کر دی جائیں تو معاشرے کو ان غلط رجحانات اور گناہوں سے پاک کیا جا سکتا ہے۔
آپ جس جگہ رہتے ہیں، جہاں کام کرتے ہیں یقیناً آپ کے بہت سے لوگوں سے روابط ہوں گے، آپ کے محلے کا شریف گھرانہ ہو یا آفس کا کوئی ساتھی، اگر آپ کی نظر میں کوئی اچھا رشتہ ہو تو اسے آگے متعارف کرواتے ہوئے کسی بھی جھجک سے کام نہ لیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے ساتھی حضرات آپ کا مذاق اڑائیں یا مشورہ دیں کہ یہ کام شادی دفتر والوں کا ہے لیکن یاد رکھیں یہ ایک نیکی اور ثواب کا کام ہے۔ آپ خود سے متعلقہ لوگوں کو رشتوں کی بابت سمجھا سکتے ہیں اور ان کے غلط رجحانات اور خیالات کو دور کر سکتے ہیں، ساتھ ہی اپنے متعلقین اور گھرانے جو ایک دوسرے سے انجان ہوں رشتوں کے سلسلے میں ان کی ملاقات کروا سکتے ہیں۔
یقین مانیے، ایک اچھے اقدام سے آپ کو روحانی مسرت بھی حاصل ہو گی اور آپ ثواب بھی حاصل کر سکیں گے۔ زندگی کی مختلف جہتوں میں انفرادی طور پر سوشل ورک کرنے کے کئی پہلو موجود ہیں۔ آج سے اپنے اطراف میں نگاہ ڈالیے، آپ کو معاشرے سے جو شکایات ہیں انھیں پہلے خود میں تلاش کر کے ختم کرنے کی کوشش کیجیے، مسائل کے حل میں اپنا حصہ ڈالیں اور سب سے اہم تبدیلی کا عمل اپنے گھر بلکہ اپنی ذات سے شروع کیجیے، یقیناً ایک سنہری معاشرہ ہم سے زیادہ دور نہیں۔
انفرادی سوشل ورک - ایکسپریس اردو
 
آخری تدوین:

جاسمن

مدیر
سوشل ورک یا سستی شہرت ؟
29
Apr, 2014
by Andeel Ali
چند دن پہلے کی بات ہے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا، باتوں سے باتیں نکل رہی تھیں، نوکری، ملازمت، شادی، والدین کے حقوق ہر چیز پر باتیں ہو رہی تھیں، اچانک میرے دوست کو کچھ خیال آیا اور وہ بولا، ’آج مجھے اپنے سوشل ورکر ہونے کا یقین ہوگیا جب ایک نو سکھیا میرے احترام یا پھر دبدبہ سے تھر تھر کانپ رہا تھا، اور میں اس کو ایونٹ مینجمنٹ سمجھا رہا تھا۔‘ اپنے دوست کی بات سن کر میں نے اس کو ٹوکا، ’بھائی یہ تو کوئی دلیل نا ہوئی تمھارے سوشل ورکرہونے کی، تم گزشتہ3 سال سے مختلف این-جی-اوز سے منسلک ہو لیکن تم سوشل ورکر نہیں ہو!‘ میری اس بات پر اس نے برا منایا اور فوراً سوال داغ دیا کہ، 'اگر میں سوشل ورکر نہیں ہوں تو، فلاں، فلاں اور فلاں بھی نہیں ہیں! حالانکہ جو کام وہ کرتے ہیں وہی کام میں بھی کرتا ہوں وہ اپنے آپ کو سوشل ورکر کہتے ہیں میں بھی کہوں گا! لیکن اگر تم کہتے ہو کہ میں سوشل ورکر نہیں ہوں تو پھر سوشل ورکر کون ہوتے ہیں؟'
اس کے اسی سوال نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہاں سوشل ورکر کون ہوتا ہے؟ اور آخر کیوں آج ہمارے معاشرے میں اس طرح کے قول و فعل کے تضادات وجود میں آرہے ہیں۔ اپنے دوست کو تو میں نے مطمئن کردیا تھا لیکن میں خود بے چین ہو گیا تھا، میرے سامنے اچانک معاشرے کا بڑا عجیب مسئلہ آگیا تھا! اس لیے آج میں نے تہیہ کیا ہے کہ اس غلط فہمی کو دور کروں۔ میرا مقصد لوگوں خاص کر نوجوانان کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ انہیں مطلع و متنبہ کرنا ہے کہ وہ خود فریبی اور خود نمائی سے پرہیز کریں اور سچ کی بنیاد پر انہی کاوشوں کو استوار کریں۔ سننے اور کہنے سے یہ مسئلہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے لیکن اسی طرح کی چھٹی چھوٹی بے ضرر سی غلطیاں ہی آگے چل کر ہمارے لیئے عذاب بن جاتی ہیں۔
اگر آپ اب تک میرے ساتھ ہیں تو مبارک ہو آپ کو کہ آپ نے اب تک تین سو اٹھاون الفاظ پڑھ لیے ہیں۔ اب میں اپنے اصل مدعا کی طرف آتا ہوں یعنی کہ، سماجی کارکن کون ہوتا ہے اور کیا کرتا ہے؟ اگر ہم سماجی کارکن نہیں تو کیا ہیں؟ اور ہمارے ان افعال کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
پہلے ذرا ماضی پر نظر ڈال لیتے ہیں، پرانے زمانے میں لوگ خود کو یا دوسروں کو فلانتھراپسٹ کہنا، یا کہلوانا پسند کرتے تھے، امپورٹڈ لفظ تھا، با رعب بھی لگتا تھا، لیکن میں اور آپ وہ نہیں ہیں، کیوں؟ فلانتھراپی کی حالیہ شکل انیسویں صدی میں صنعتی دور کے ساتھ ساتھ سامنے آئی تھی۔ امراٗ غرباٗ کی غربت دور کرنے کے لیئےادارے قائم کردیا کرتے تھے، جن کو چلانے کے لیئے بھاری بھاری چندے دیئے جاتے تھے۔ آج کے دور میں سب سے بڑے فلانتھراپسٹ بِل گیٹس صاحب اور وارن بفے صاحب ہیں جنہوں نے اپنی کمائیوں میں سے اربوں روپے غربت، افلاس اور انسانیت کے بھلے کے لیئے مختص کر دئیے ہیں۔
ایک چیز اور بھی ہوتی ہے جسے انگریزی میں آلٹروازم کہتے ہیں، اس کی شروعات چرچ سے ہوئی تھی اور آج بھی آپ دیکھیں تو دنیا بھر میں چرچ اور تقریباً تمام ادیان کے عبادت خانے رفاہی و فلاحی کام کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن رکیے آپ اور میں آلٹروئسٹ بھی نہیں ہیں۔ وہ افراد جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیئے اپنے آپ کو فنا کردیں وہ فیس بک پر آ کر اپنے کارنامے گاتے اور گنواتے نہیں ہیں۔
سوشل ورک یا سماجی کارروائی، جی ہاں کاروائی سننے میں عجیب لگ رہا ہے ناں۔ کا اصل مقصد انسانی بہبود و ترقی کی تعلیم، ترویج، تحقیق اور تبلیغ کا کام ہے۔ یہ ایک باقاعدہ سائنس ہے، جس کو باقاعدہ طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ سوشل ورکر معاشرے میں طبقاتی تعصب کے خاتمے، انسانی حقوق کی پاسداری اور دیگر معاملات پر کام کرتے ہیں۔ جن میں مشاورت یا کونسلنگ سے لے کر، پالیسی سازی اور رائے سازی یا ایڈووکیسی شامل ہے۔ سوشل ورک کے زیادہ تر طالبِ علم مختلف این-جی-اوز میں یا پھر کارپوریٹ اداروں کے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی ڈپارٹمنٹس میں ملازمت اختیار کر لیتے ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہے، کچھ افراد اپنے ذاتی ادارے اور تحاریک بھی قائم کرلیتے ہیں، مثلاً عبدل ستار ایدھی، ڈاکٹر ادیب رضوی۔ یہ افراد جذبہِ انسانیت سے سرشار ہوتے ہیں، اب بتائیں ان کا اور ہمارا کیا مقابلہ؟
اب اور بڑا سوال اٹھتا ہے! ہم کیا ہیں؟ سچ یہ ہے ہم اس وقت تک خود کو سوشل ورکر نہیں کہہ سکتے جب تک ہم اس کام کی باقاعدہ تعلیم و تربیت حاصل نہ کرلیں یا پھر ایسے افراد پر مبنی ادارہ قائم نہ کرلیں جو اس کام میں تعلیم و تربیت یافتہ ہوں۔ ہم رضا کار ضرور ہیں اور اس بات پر ہمیں اور ہمارے جاننے والوں کو فخر بھی کرنا چاہیئے مگر ہمیں خود فریبی سے بچنا چاہیئے۔ مطلب یہ کہ ایک یتیم خانے میں ایک وقت مکڈونلڈز سے لا کر کھانا کھلانے اور پھر اس کارنامے کی تصاویر فیس بک پر آویزاں کرنے سے ہم سوشل ورکر نہیں بن جاتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ بہت سارے وزیروں، مشیروں، سماجی کارکنان، ماہرینِ عمرانیات وغیرہ، وغیرہ کو جانتے ہیں، آئے دن آپ کا آنا جانا ان کی محافل میں ہوتا رہتا ہے تو آپ سوشل ورکر بن گئے؟! جی نہیں ایسا کر کے آپ سوشلائٹ یا پھر ایک مشہور ہستی بن گئے ہیں، مشہور ہونے کا انسانی ترقی و بہبود سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اگر آپ معاشرے میں ہونے والے مظالم و مصائب ہر آواز اٹھاتے ہیں، لوگوں کی توجہ اس جانب مبذول کرواتے ہیں تو پھر آپ سول سوسائٹی کے ممبر کہلائیں گے۔
یاد رکھئیے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہیں جو آگے چل کر بڑے بڑے فرق پیدا کریں گی۔ ذرا سوچیئے، آج سے بیس سال بعد ہماری آنے والی نسلوں پر کیا گزرے گی جب وہ یہ دیکھیں گے کہ ہر دوسرا پاکستانی تو سماجی کارکن یعنی کہ عمرانی معاہدے کا سچا و پکا پاسدار تھا، لیکن ہم آج بھی ترقی پذیر ہیں؟ آخر کیوں تو کہیں نہ کہیں سے یہ جواب ضرور آئے گا ہاں ہمارے آبا و اجداد سب کہ سب سوشل ورکر تھے بس ذرا سوشل ورک کی تشریح غلط کر بیٹھے تھے۔ ان کے نزدیک انسانی بہبود و ترقی نہیں بلکہ ذاتی نمود و نمائش ہی سوشل ورک تھی۔
اگر آپ قوم، ملک، سلطنت اور انسانیت کے لیے واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو جائیے پہلے سوشل ورک سیکھیے، سمجھیے اور پھر دل و جان سے اس میں جت جائیں، قسم سے مزہ آجائے گا۔ اور شہرت بھی مل ہی جائے گی، وہ بھی اصلی، سچی اور دیرپا۔
آخری بات! سماجی کام کی چھ بنیادی اقدار ہیں ان پر ضرور عمل کیجیئے گا۔
اور ہوسکے تو اپنے ہر عمل کو ہزاریہ ترقیاتی مقاصد کی روشنی میں عملی جامہ پہنائیے گا۔
۱۔ مصائب میں گھرے لوگوں کی امداد و داد رسی کرنا۔
۲۔ سماجی رواداری کو یقینی بنانا اور معاشرے میں سماجی ناانصافیوں کے خلاف جد و جہد کرنا۔
۳۔ ہر شخص کا احترام کرنا اور اس کو پروقار سمجھنا۔
۴۔ آپسی تعلقات کو باقاعدہ قدر بخشنا۔
۵۔ خود کو ایماندار اور قابلِ اعتماد ثابت کرنا۔
۶۔ اپنے دائرہِ اختیار میں رہتے ہوئے ہی کام کرنا اور اپنی ذاتی و پیشہ ورانہ مہارتوں کو بہتر بنانے میں کوشاں رہنا۔
سوشل ورک یا سستی شہرت ؟ - Laaltain
 
بہت عمدہ تجربات شئر کئے آپ نے.
اور میں سمجھتا ہوں کہ سوشل ورک کرنا نہ صرف یہ کہ ہر کوئی کسی نہ کسی حیثیت میں کر سکتا ہے، بلکہ ہر کسی کی اپنی استطاعت کے مطابق ذمہ داری بھی ہے.

شروع سے ہی جب جب کچھ کرنے کا موقع ملا ہے، اس کام میں حصہ لیا ہے.

جب سکول کالج میں تھے تو ہر سال پیپرز کے بعد دوستوں کے ساتھ مل کر گھروں سے درسی کتب اکٹھی کرتے تھے. اور جو درسی کتب نہ دے سکے اس سے مالی امداد کی درخواست کرتے تھے. اس کے بعد مختلف جماعتوں کی کتب کے سیٹس بنا کر قریبی کم آمدنی والے افراد کی بستی میں سٹال لگاتے تھے. لوگ آ کر اپنے بچوں کی ضرورت کی کتابیں مفت لے جاتے تھے.
---

2005 زلزلے کے بعد عید کے ایام زلزلے سے متاثرہ شہر باغ میں گزارے اور امدادی سامان وہاں دور دور تک موجود لوگوں تک پہنچایا. بچوں میں عید گفٹس تقسیم کئے.
پہلی دفعہ پہاڑی علاقے میں بغیر سڑک کے چلنے کا اتفاق ہوا اور میلوں پھرنے کے بعد بھی الحمد للہ شام ہونے پر ہی نیچے آئے، ورنہ احساس نہ ہوا.

----
اس کے علاوہ بھی مختلف صورتوں میں اپنی استطاعت کے مطابق کوشش جاری رہتی ہے.
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کو وہ ٹوٹی پھوٹی کوششوں کو قبول فرمائے اور ہمت عطا فرمائے. آمین
 

جاسمن

مدیر
بہت عمدہ تجربات شئر کئے آپ نے.
اور میں سمجھتا ہوں کہ سوشل ورک کرنا نہ صرف یہ کہ ہر کوئی کسی نہ کسی حیثیت میں کر سکتا ہے، بلکہ ہر کسی کی اپنی استطاعت کے مطابق ذمہ داری بھی ہے.

شروع سے ہی جب جب کچھ کرنے کا موقع ملا ہے، اس کام میں حصہ لیا ہے.

جب سکول کالج میں تھے تو ہر سال پیپرز کے بعد دوستوں کے ساتھ مل کر گھروں سے درسی کتب اکٹھی کرتے تھے. اور جو درسی کتب نہ دے سکے اس سے مالی امداد کی درخواست کرتے تھے. اس کے بعد مختلف جماعتوں کی کتب کے سیٹس بنا کر قریبی کم آمدنی والے افراد کی بستی میں سٹال لگاتے تھے. لوگ آ کر اپنے بچوں کی ضرورت کی کتابیں مفت لے جاتے تھے.
---

2005 زلزلے کے بعد عید کے ایام زلزلے سے متاثرہ شہر باغ میں گزارے اور امدادی سامان وہاں دور دور تک موجود لوگوں تک پہنچایا. بچوں میں عید گفٹس تقسیم کئے.
پہلی دفعہ پہاڑی علاقے میں بغیر سڑک کے چلنے کا اتفاق ہوا اور میلوں پھرنے کے بعد بھی الحمد للہ شام ہونے پر ہی نیچے آئے، ورنہ احساس نہ ہوا.

----
اس کے علاوہ بھی مختلف صورتوں میں اپنی استطاعت کے مطابق کوشش جاری رہتی ہے.
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کو وہ ٹوٹی پھوٹی کوششوں کو قبول فرمائے اور ہمت عطا فرمائے. آمین
ماشاءاللہ!اللہ آپ کے سب سماجی کام قبول فرمائے اور مزید کاموں کی اسانی اور توفیق دے۔ آمین!
 
ہمیں کتوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔ اس خوف پر قابو پانے کے لیے ایلوپیتھک طریقے پر ہم نے کتے پال لیے۔ محلے والے اس بنا پر اکثر خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔ اب خداجانے یہ سماجی خدمت ہے یا نہیں مگر فی الحال ذہن میں اور کچھ نہیں آ رہا۔
 

جاسمن

مدیر
اپنے بچپن میں ایک دن چڑیا کے ایک بچے کو زمین پہ گرے دیکھا جو زخمی تھا۔ لو جی اپنا مزاج تو بچپن ہی سے سوشل ورکانہ یا سماجی بہبودانہ ہے۔دوستوں بشمول لڑکے لڑکیاں ساتھ لیا اور چل پڑے ڈنگر ڈاکٹر کے پاس۔ڈاکٹر صاحب نے اسے چیک کر کے دوا دی اور ہدایت نامہ بھی جاری کیا۔ میں نے اپنے جیب خرچ میں سے ایک روپے کا سکہ آگے کیا۔
"ڈاکٹر صاحب!آپ کی فیس۔"
ڈاکٹر صاحب مسکرائے اور فیس لینے سے انکار کر دیا۔ ہم خوشی سے اچھلتے کودتے گھر واپس آگئے۔ چڑیا کا بچہ اللہ کی مہربانی سے بھلا چنگا ہوگیا اور ہم نے اسے گھونسلہ میں رکھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔بہرحال وہ اب اڑنے کے قابل ہوگیاتھا،سو اڑ گیا۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
بہت اچھا سلسلہ ہے جاسمن ۔ مجھے یاد پڑتا ہے اسی طرح کی شیئرنگ کچھ عرصہ پہلے بھی محفلین نے کی تھی اور آج پھر اتنی ساری کاوشوں کے بارے میں جان کر اتنی ہی خوشی ہوئی۔
اللہ تعالٰی ہمیں اپنے حصے کا کام درست طریقے سے کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور یونہی دیے سے دیا جلتا رہے۔ آمین
 

جاسمن

مدیر
عملی طور کرنے کو کہا تھا انگوٹھا لگانے والے تو بہت ہیں؟
طنزیہ انداز نہ اپنایا جائے تو بہتر ہے۔
بہت سے لوگ سماجی بہبود کے کام کرتے ہیں۔گو ان کا کہیں نام نہیں ہوتا۔ان شاءاللہ جلد ہی لکھوں گی۔ذرا عمرہ کے بعد کی مصروفیات سے فارغ ہو لوں۔
 
Top