حسین ابن علی

  1. منہاج علی

    شہادت سے کچھ مدّت قبل مولا علیؑ کی حسنینؑ کو وصیت۔

    انیسویں رمضان کو نمازِ فجر میں حالتِ سجدہ میں امیر المومنین حضرت علیؑ ابنِ ابی طالبؑ کا سر ابنِ ملجم نے زہر سے بجھی ہوئی تیغ سے شگافتہ کردیا۔ تین دن تک آپ شدید علالت میں رہے اکیسویں رمضان کی سحر کو آپؑ خالق سے جا ملے۔ آپ نے ضربت لگنے کے بعد اپنے دو بیٹوں (حسنؑ اور حسینؑ) کو طویل وصیت فرمائی۔...
  2. W

    نظم برائے اصلاح اور تنقید

    زیارتِ کربلا جذبات کے سیلاب کو اشکوں سے بڑھاتا ہوں میں وارفتگی کے تیز ریلے میں بہا جاتا ہوں میں ہلچل مچائی قلب نے کیسی ہے سینے میں مرے اندر اٹھے طوفان کی شدت سے تھرّاتا ہوں میں سارے دلائل ریت کی دیوار ثابت ہو گئے مجبور اتنا دل کے ہاتھوں خود کو اب پاتا ہوں میں کیسے نگاہوں سے چھپا رکھّوں گا دل...
  3. W

    برائے تنقید و اصلاح

    جناب علی اصغر صحرا کو کیا جس نے تبسم سے گلستاں آغوش میں وہ پھول اٹھا لائے تھے ذیشاں چہرہ وہ حسیں پیاس کی شدت سے تھا ویراں اٹھتا تھا لبِ خشک سے ہر قلب میں ہیجاں لشکر میں کوئی ایک بھی دل تھا نہ مہرباں کیا سوچتے؟ سینے تھے فقط روح کے زنداں اک تیر نے اُس گل کو کیا خون میں غلطاں اس طرح وہ...
  4. سیدہ شگفتہ

    کونین میں اللہ کی پہچان ہے حسین

    منقبت حضرت امام حسین ابن علی کونین میں اللہ کی پہچان ہے حسین ہر صاحب عرفان کا ایمان ہے حسین دیوان ہے خالق کا یہ قرآن ہے حسین تولے گا جو ایمان وہ میزان ہے حسین لہجے سے خدا ہو وہ ثناخوان ہے حسین جنت کا جو مالک ہو وہ سلطان ہے حسین دنیا میں بھی وارث ہے نگہبان ہے حسین خالق کی فتح کا یہاں اعلان ہے...
  5. حسن محمود جماعتی

    مرے حسین تجھے سلام::: حسین ابن حیدر پہ لاکھوں سلام

    جن کا جھولا فرشتے جھلاتے رہے لوریاں دے کے نوری سلاتے رہے جن پہ سفّاک خنجر چلاتے رہے جن کو کاندھوں پہ آقابٹھاتے رہے اس حسینؑ ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام کر لیا نوش جس نے شہادت کا جام جس کا نانا دو عالم کا مختار ہے جو جوانانِ جنّت کے سردار ہے جس کا سر دشت میں زیرِ تلوار ہے جو سراپائے محبوبِ غفّار...
  6. ابن حسین

    سیدنا حسین ابن علی 

    میرے الفاظ گونگے ہیں مرے جذبات کے آگے زبان کھلتی نہیں قرآں کی آیات کے آگے۔ اسی کی روشنی سے آج تک دونوں جہاں روشن ہوا سینہ سپر جو چاند کالی رات کے آگے۔ خزاں ہر پھول کا رنگ اور خوشبو تک اڑا لیتی اگر وہ خود نہ آتا آہنی لمحات کے آگے۔ زمین و آسماں کے رہنے والے ہیں...
  7. کاشفی

    محسن نقوی سلام: کیا خاک وہ ڈریں گے لحد کے حساب سے؟ - محسن نقوی شہید

    سلام (محسن نقوی شہید) کیا خاک وہ ڈریں گے لحد کے حساب سے؟ منسوب ہیں جو خاکِ رَہ بوتراب سے مشکل کشا ہیں پاس، فرشتو ادب کرو مشکل میں ڈال دوں گا سوال و جواب سے خیبر میں دیکھنا یہ ہے جبریل یا اَجل لپٹا ہوا ہے کون علی کی رکاب سے پہلے یہ ضد تھی خواب میں دیکھیں گے خُلد کو اب ضد یہ ہے کہ خلد میں جاگیں...
  8. کاشفی

    محسن نقوی سلام: بصَد رکُوع و سجود و قیام کہنا ہے - محسن نقوی شہید

    سلام (محسن نقوی شہید) بصَد رکُوع و سجود و قیام کہنا ہے حسین ابنِ علی پر سلام کہنا ہے زباں کو چاہیے کچھ اعتمادِ خاکِ شفا ہمیں جبیں کو معلّیٰ مقام کہنا ہے غمِ حسین میں اک اشک کی ضرورت ہے پھر اپنی آنکھ کو، کوثر کا جام کہنا ہے یہ نام کیوں نہ کروں زندگی میں وردِ زباں؟ مجھے لحد میں علی کو امام کہنا...
Top