شاہد حمید

  1. مغزل

    نہ سَونا اَے دِل ---عیسوی سال کی شبِ آخر و اوّل--- شاہد حمید

    نہ سَونا اَے دِل ( عیسوی سال کی شبِ آخر و اوّل) شاہدؔحمید آج کی رات نہ سَونا اَے دِل آج کی رات مُرادوں سے بھری آتی ہے آج کی رات سواری ہے ہَوا کے رَتھ پر غم مِٹا دیتی ہے ہر لہر خوشی کی آ کر آج کی رات نہ سَونا اَے دِل آج کی رات مُقَدَّر سے چلی آئی ہے جس سے مِلنے کے لئے ایک بَرس...
  2. مغزل

    ہم ہی کیا روز و شب گزرتے ہیں ----------- شاہد حمید

    غزل ہم ہی کیا روز و شب گزرتے ہیں تیرے کوچے سے سب گزرتے ہیں وہ بھی عالی نسب تھے جو گزرے یہ بھی عالی نسب گزرتے ہیں لوگ ہی لوگ بے شمار و قطار چند اہلِ ادب گزرتے ہیں دیکھنا ہے تو دیکھتے رہئے کب وہ آتے ہےں کب گزرتے ہیں یاد رکھتی ہے پھر اُنہیں دُنیا جو نئے دے کے ڈھب گزرتے...
  3. مغزل

    خیال شوق کہاں زیرِ پا گزرتا ہے ------ شاہدحمید

    غزل خیال شوق کہاں زیرِ پا گزرتا ہے ہَوا و ابر سے مِلتا ہُوا گزرتا ہے ہزار حادثے ہوتے ہےں ایک لمحے میں کبھی گزرتا ہے تو سانحہ گزرتا ہے گزرتے جاتے ہےں اب سانحے بھی پے دَر پے کِسے خیال گزرتا ہے کیا گزرتا ہے چراغ و اشک برابر ہےں روشنی کے لئے ےہ کس کا عکس سرِ آئینہ گزرتا ہے...
  4. مغزل

    چراغ واشک و ہوا و ستارا دیکھتا ہوں --- شاہد حمید

    غزل چراغ واشک و ہوا و ستارا دیکھتا ہوں میں حسن یار کا ہر استعارا دیکھتا ہوں جو اِک نظر میں توجہ سمیٹ لیتے ہیں اسی لئے تو انہیں میں دوبارہ دیکھتا ہوں نہ کھل سکے ہے زبان و بیاں سے جن کا حال قریب ہوکے میں اُن کا گزارا دیکھتا ہوں جسے سمجھتا ہوں منہا وہی ہوا حاصل یہ زندگی کا عجب...
  5. مغزل

    گردشِ سُخن آشنا ------- نظم از شاہد حمید

    گردشِ سُخن آشنا رَوز اِک نظم سُناتا ہُوں جِسے رَوز اِک زخم دِکھاتا ہُوں جِسے وہ فقط دیدہِ بیدارِ گرفتار نہیں کم______ سرِ شعلہِ پندارِ گرفتار نہیں رَوز اِک حال سے معمور کوئی تازہ نَوا لَب پہ آجائے تو اُس گوش پہ رکھ آتا ہوں فردِ مَے نوشیِ با ہوش پہ رکھ آتا ہوں حرفِ اظہار کو...
Top