ریاض

  1. کاشفی

    شراب ناب سے ساقی جو ہم وضو کرتے - ریاض خیرآبادی

    غزل (ریاض خیرآبادی) شراب ناب سے ساقی جو ہم وضو کرتے حرم کے لوگ طواف خم و سبو کرتے وہ مل کے دستِ حنائی سے دل لہو کرتے ہم آرزو تو حسیں خونِ آرزو کرتے کلیم کو نہ غش آتا نہ طور ہی جلتا دبی زبان سے اظہارِ آرزو کرتے شراب پیتے ہی سجدے میں ان کو گرنا تھا یہ شغل بیٹھ کے مے نوش قبلہ رو کرتے ہر ایک...
  2. کاشفی

    پی لی ہم نے شراب پی لی - ریاض خیر آبادی

    غزل (ریاض خیرآبادی) پی لی ہم نے شراب پی لی تھی آگ مثالِ آب پی لی اچھی پی لی، خراب پی لی جیسی پائی شراب پی لی عادت سی ہے نشہ نہ اب کیف پانی نہ پیا شراب پی لی چھوڑے کئی دن گزر گئے تھے آئی شب ِ ماہتاب پی لی منہ چوم لے کوئی اس ادا پہ سرکا کے ذرا نقاب پی لی منظور تھی شستگی زباں کی تھوڑی سی شرابِ...
  3. کاشفی

    خیالِ شبِ غم سے گھبرا رہے ہیں - ریاض خیر آبادی

    غزل (ریاض خیر آبادی) خیالِ شبِ غم سے گھبرا رہے ہیں ہمیں دن کو تارے نظر آرہے ہیں دم وعظ کیسے مزے میں ہیں واعظ بھرے جام کوثر کے چھلکا رہے ہیں لگا دو ذرا ہاتھ اپنی گلے میں جنازہ لئے دل کا ہم جارہے ہیں یہ اُلجھے ہیں رندوں سے کیا شیخ صاحب بڑھاپے میں کیوں ڈاڑھی رنگوارہے ہیں...
  4. کاشفی

    میرے سر پہ کبھی چڑھی ہی نہیں - مُنشی سید ریاض احمد

    غزل (مُنشی سید ریاض احمد ، متخلص ریاض - خیر آبادی، شاعری کا وطن لکھنؤ) میرے سر پہ کبھی چڑھی ہی نہیں میں نے کچے گھڑے کی پی ہی نہیں ہائے سبزے میں وہ سیہ بوتل کبھی ایسی گھٹا اُٹھی ہی نہیں کس قدر ہے بنا ہوا زاہد جیسے اس نے “وہ چیز“ پی ہی نہیں صبح کا جھٹ پٹا تھا، شام نہ تھی وصل...
  5. کاشفی

    ہوشیاری ہے فریبِ عاشقی کھانے کا نام - ریاض

    غزل ہوشیاری ہے فریبِ عاشقی کھانے کا نام عاشقی ہے بند آنکھیں کر کے لُٹ جانے کا نام قیس اور فرہاد نے تعظیم کا سجدہ کیا بزم وحشت میں جو آیا تیرے دیوانے کا نام سرفروشی عاشقی میں کامیابی کا ہے راز شمع کل روتی رہی سُن سُن کے پروانے کا نام خام کارِ عشق ہیں دلدادہءِ شہرت ریاض عاشقی ہے بندہ...
  6. فرخ منظور

    لَو دل کا داغ دے اٹھے ایسا نہ کیجیے - ریاض خیرآبادی

    لَو دل کا داغ دے اٹھے ایسا نہ کیجیے ہے ڈر کی بات آگ سے کھیلا نہ کیجیے کہتا ہے عکس حُسن کو رسوا نہ کیجیے ہر وقت آپ آئینہ دیکھا نہ کیجیے کہتی ہے مے فروشوں سے میری سفید ریش دے دیں گے دام، اُن سے تقاضا نہ کیجیے اچھی نہیں یہ آپ کی محشر خرامیاں دُنیا کو اِس طرح تہ و بالا نہ کیجیے ہے...
Top