ناصرکاظمی

  1. نیرنگ خیال

    ناصر کاظمی اب کے سال پُونم میں جب تو آئے گی ملنے

    اب کے سال پُونم میں جب تو آئے گی ملنے، ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گزاریں گے دھڑکنیں بچھا دیں گے، شوخ ترے قدموں میں، ہم نگاہوں سے تیری، آرتی اتاریں گے تو کہ آج قاتل ہے، پھر بھی راحتِ دل ہے، زہر کی ندی ہے تو، پھر بھی قیمتی ہے تو پَست حوصلے والے، تیرا ساتھ کیا دیں گے!، زندگی اِدھر آجا! ہم تجھے...
  2. سیما علی

    ناصر کاظمی کِسی کا درد ہو دِل بے قرار اپنا ہے

    کِسی کا درد ہو دِل بے قرار اپنا ہے ہَوا کہِیں کی ہو، سینہ فگار اپنا ہے ہو کوئی فصل مگر زخم کِھل ہی جاتے ہیں سدا بہار دلِ داغدار اپنا ہے بَلا سے ہم نہ پیئیں، میکدہ تو گرم ہُوا بقدرِ تشنگی رنجِ خُمار اپنا ہے جو شاد پھرتے تھے کل، آج چُھپ کے روتے ہیں ہزار شُکر غمِ پائیدار اپنا ہے اِسی لیے یہاں...
  3. طارق شاہ

    ناصر کاظمی ::::: وہ اِس ادا سے جو آئے تو یُوں بَھلا نہ لگے ::::: Nasir Kazmi

    غزلِ ناصر کاظمی وہ اِس ادا سے جو آئے تو یُوں بَھلا نہ لگے ہزار بار مِلو پھر بھی آشنا نہ لگے کبھی وہ خاص عِنایت کہ سَو گُماں گُزریں کبھی وہ طرزِ تغافل، کہ محرمانہ لگے وہ سیدھی سادی ادائیں کہ بِجلیاں برسیں وہ دلبرانہ مرُوّت کہ عاشقانہ لگے دکھاؤں داغِ محبّت جو ناگوار نہ ہو سُناؤں قصّۂ...
  4. طارق شاہ

    ناصر کاظمی ::::: وا ہُوا پھر درِمیخانۂ گُل ::::: Nasir Kazmi

    غزلِ ناصر کاظمی وا ہُوا پھر درِ میخانۂ گُل پھرصبا لائی ہے پیمانۂ گُل زمزمہ ریز ہُوئے اہلِ چمن پھر چراغاں ہُوا کاشانۂ گُل رقص کرتی ہُوئی شبنم کی پَری لے کے پھر آئی ہے نذرانۂ گُل پُھول برسائے یہ کہہ کر اُس نے میرا دِیوانہ ہے دِیوانۂ گُل پھرکسی گُل کا اِشارہ پا کر چاند نِکلا سرِ مےخانۂ...
  5. طارق شاہ

    ناصر کاظمی ::::: کہیں اُجڑی اُجڑی سی منزِلیں، کہیں ٹُوٹے پُھوٹے سے بام و در ::::: Nasir Kazmi

    غزلِ ناصر کاظمی کہیں اُجڑی اُجڑی سی منزِلیں، کہیں ٹُوٹے پُھوٹے سے بام و در یہ وہی دِیار ہے دوستو! جہاں لوگ پِھرتے تھے رات بھر میں بھٹکتا پِھرتا ہُوں دیر سے ، یونہی شہر شہر، نگر نگر کہاں کھو گیا مِرا قافلہ، کہاں رہ گئے مِرے ہمسفر جنھیں زندگی کا شعُور تھا انھیں بے زری نے بِچھا دِیا جو گراں...
  6. طارق شاہ

    ::::: خواب میں، رات ہم نے کیا دیکھا ::::: Nasir Kazmi

    غزلِ ناصر کاظمی خواب میں، رات ہم نے کیا دیکھا آنکھ کُھلتے ہی چاند سا دیکھا کیاریاں دُھول سے اٹی پائیں آشیانہ جَلا ہُوا دیکھا فاختہ سر نگوں بَبولوُں میں پُھول کو پُھول سے جُدا دیکھا اُس نے منزِل پہ لا کے چھوڑ دِیا عُمر بھر جس کا راستا دیکھا ہم نے موتی سمجھ کے چُوم لِیا سنگریزہ جہاں پڑا...
  7. طارق شاہ

    ناصر کاظمی ::::: خموشی اُنگلیاں چٹکا رہی ہے ::::: Nasir Kazmi

    غزلِ ناصر کاظمی خموشی اُنگلیاں چٹکا رہی ہے تِری آواز اب تک آ رہی ہے دلِ وحشی لیے جاتا ہے، لیکن ہَوا زنجیر سی پہنا رہی ہے تِرے شہرِ طرب کی رونقوں میں طبیعت اور بھی گھبرا رہی ہے کرم اے صرصرِ آلامِ دَوراں دِلوں کی آگ بُجھتی جا رہی ہے کڑے کوسوں کے سنّاٹے میں لیکن تِری آواز اب تک آ رہی ہے...
  8. ع

    ناصر کاظمی محرومِ خواب دیدہء حیراں نہ تھا کبھی

    محرومِ خواب دیدہء حیراں نہ تھا کبھی تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی تھا لطفِ وصل اور کبھی افسونِ انتظار یوں دردِ ہجر سلسلہ جنباں نہ تھا کبھی پرساں نہ تھا کوئی تو یہ رسوائیاں نہ تھیں ظاہر کسی پہ حالِ پریشاں نہ تھا کبھی ہر چند غم بھی تھا مگر احساسِ غم نہ تھا درماں نہ تھا تو ماتم درماں نہ...
  9. طارق شاہ

    ناصر کاظمی :::: کسی کا درد ہو دِل بے قرار اپنا ہے :::: Nasir Kazmi

    انْبالہ ایک شہر تھا، سُنتے ہیں اب بھی ہے میں ہُوں اُسی لُٹے ہُوئے قریے کی روشنی اے ساکنانِ خطۂ لاہور دیکھنا لایا ہُوں اُس خرابے سے میں لعلِ معدنی ناصر کاظمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج جناب ناصر کاظمی صاحب کی 42 ویں برسی ہے۔ اِس موقع کی نسبت سے ،میں اُن کے دیوان سے اپنی ایک پسندیدہ غزل آپ سب...
  10. طارق شاہ

    ناصر کاظمی :::: شہر سنسان ہے کدھر جائیں :::: Nasir Kazmi

    غزل شہر سنسان ہے کدھر جائیں خاک ہو کر کہیں بکھر جائیں رات کتنی گزُر گئی لیکن اتنی ہمّت نہیں ، کہ گھر جائیں یوں تِرے دھیان سے لرزتا ہُوں جیسے پتّے ہوا سے ڈر جائیں اُن اجالوں کی دُھن میں ‌پھرتا ہُوں چَھب دِکھاتے ہی جو گزُر جائیں رین اندھیری ہے اور کنارہ دُور چاند نکلے تو، پار اُتر جائیں...
  11. طارق شاہ

    ناصر کاظمی :::: صدائے رفتگاں پھر دِل سے گزُری -- Nasir Kazmi

    غزلِ صدائے رفتگاں پھر دِل سے گزُری نگاہِ شوق، کِس منزِل سے گزُری کبھی روئے ، کبھی تُجھ کو پُکارا شبِ فُرقت بڑی مُشکل سے گزُری ہوائے صُبْح نے چونْکا دِیا، یُوں ! تِری آواز جیسے دِل سے گزُری مِرا دل خُوگرِ طُوفاں ہے، ورنہ ! یہ کشتی بارہا ساحِل سے گزُری ناصرکاظمی
  12. نیرنگ خیال

    ناصر کاظمی جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے

    جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے کیسی سنسان فضا ہوتی ہے ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد جیسے ویران سرا ہوتی ہے رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن اس میں توہین وفا ہوتی ہے منہ اندھیرے کبھی اُٹھ کردیکھو کیا تروتازہ ہوا ہوتی ہے اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ...
  13. طارق شاہ

    ناصر کاظمی پھر نئی فصْل کے عنواں چمکے

    غزل ناصرکاظمی پھر نئی فصْل کےعنواں چمکے ابْر گرجا، گُلِ باراں چمکے آنکھ جھپکوں تو شرارے برسیں سانس کھینچوں تو رگِ جاں چمکے کیا بِگڑ جائے گا اے صُبْحِ جمال آج اگر شامِ غرِیباں چمکے اے فلک بھیج کوئی برقِ خیال کچھ تو شامِ شبِ ہِجراں چمکے پھر کوئی دل کو دُکھائے ناصر کاش یہ گھر کسی...
  14. طارق شاہ

    ناصر کاظمی - کیا لگے آنکھ ، کہ پِھر دل میں سمایا کوئی

    غزل ناصر کاظمی کیا لگے آنکھ ، کہ پِھر دل میں سمایا کوئی رات بھر پِھرتا ہے اِس شہر میں سایا کوئی فِکر یہ تھی کہ شب ہجر کٹے گی کیوں کر لُطف یہ ہے کہ ہمَیں یاد نہ آیا کوئی شوق یہ تھا کہ محبت میں جلیں گے چُپ چاپ رنج یہ ہے کہ، تماشہ نہ دِکھایا کوئی شہْر میں ہمدمِ دیرِینہ بُہت تھے ناصر وقت...
  15. طارق شاہ

    ناصر کاظمی - کہاں گئے وہ سُخنوَر جو میرِ محفِل تھے

    غزل ناصر کاظمی کہاں گئے وہ سُخنوَر جو میرِ محفِل تھے ہمارا کیا ہے، بھلا ہم کہاں کے کامِل تھے بَھلا ہُوا کہ، ہَمَیں یوں بھی کوئی کام نہ تھا جو ہاتھ ٹُوٹ گئے، ٹُوٹنے کے قابِل تھے حرام ہے جو صُراحی کو مُنْہ لگایا ہو ! یہ اور بات کہ ہم بھی شرِیک محفِل تھے گُزر گئے ہیں جو خوشبوئے رائیگاں...
  16. طارق شاہ

    ناصر کاظمی " بیگانہ وار اُن سے ملاقات ہو تو ہو "

    غزل ناصرکاظمی بیگانہ وار اُن سے ملاقات ہو تو ہو اب دُوردُور ہی سے کوئی بات ہو تو ہو مشکل ہے پھرمِلیں کبھی یارانِ رفتگاں تقدیر ہی سے اب یہ کرامات ہو تو ہو اُن کو تو یاد آئے ہُوئے مدّتیں ہُوئیں جینے کی وجہ اور کوئی بات ہو تو ہو کیا جانوں کیوں اُلجھتے ہیں وہ بات بات پر مقصد...
  17. طارق شاہ

    ناصر کاظمی "حاصلِ عشق تِرا حُسنِ پشیماں ہی سہی"

    غزل ناصرکاظمی حاصلِ عشق تِرا حُسنِ پشیماں ہی سہی میری حسرت تِری صُورت سے نمایاں ہی سہی حُسن بھی حُسن ہے محتاجِ نظر ہے جب تک شعلۂ عشق چراغِ تہِ داماں ہی سہی کیا خبر خاک ہی سے کوئی کرن پُھوٹ پڑے ذوقِ آوارگئ دشت و بیاباں ہی سہی پردۂ گُل ہی سے شاید کوئی آواز آئے فرصتِ سیروتماشائے بہاراں ہی...
Top