ناصر کاظمی پھر نئی فصْل کے عنواں چمکے

طارق شاہ

محفلین
غزل
ناصرکاظمی
پھر نئی فصْل کےعنواں چمکے
ابْر گرجا، گُلِ باراں چمکے
آنکھ جھپکوں تو شرارے برسیں
سانس کھینچوں تو رگِ جاں چمکے
کیا بِگڑ جائے گا اے صُبْحِ جمال
آج اگر شامِ غرِیباں چمکے
اے فلک بھیج کوئی برقِ خیال
کچھ تو شامِ شبِ ہِجراں چمکے
پھر کوئی دل کو دُکھائے ناصر
کاش یہ گھر کسی عنواں چمکے
ناصر کاظمی
 

طارق شاہ

محفلین
آنکھ جھپکوں تو شرارے برسیں
سانس کھینچوں تو رگِ جاں چمکے
واہ کیا حسبِ حال شعر ہے۔
تشکّر اظہار خیال پر !
بلال! بالا شعراچھا ہے
اس کا " چمکے" دیگر اشعار کے 'چمکے' سے جداگانہ مفہومِ خوب رکھتا ہے

مجھے مطلع بہت ہی اچھا لگا اس میں نئی غموں کے اندیشوں کو بہ فصل کیا خوب
مُتّصِل عوامل سے چمکایا گیا ہے

بہت خوش رہیں
 
Top