منقبت امام حسین

  1. م

    میرے حسین تجھے سلام نعت خواں حافظ احمد رضا عطاری

    میرے حسین تجھے سلام میرے حسین تجھے سلام السلام یا حسین السلام یا حسین السلام یا حسین کر لیا نوش جس نے شہادت کا جام اس حسینؑ ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام میرے حسین تجھے سلام میرے حسین تجھے سلام السلام یا حسین السلام یا حسین جس کو دھوکے سے کوفے بلایا گیا جس کو دھوکے سے کوفے بلایا گیا جس کو بیٹھے...
  2. فقیر شبّیر احمد چشتی

    سیدہ زینبؔ سروری

    منقبت امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ لہو لہو ہے دلِ زار، داستانِ حسینؑ لعیں نے لوٹ لیا حیف آشیانِ حسینؑ ہے امتی کا حقیقت میں، امتحانِ حسینؑ ہنوز غم کو مناتے ہیں عاشقانِ حسینؑ فضا میں گونج رہی ہے کہیں اذانِ حسینؑ رواں دواں ہے زمانے میں کاروانِ حسینؑ لکھی نہیں ہے فقط ہم نے آج شانِ حسینؑ...
  3. فقیر شبّیر احمد چشتی

    حامدؔ امروہوی

    سلام در منقبت سیّدنا حضرت امام حسینؓ بھائی چھوٹے اور سر سے باپ کا سایا گیا لب پہ عابدؓ کے مگر شکرِ خدا پایا گیا خون آنکھوں نے بہایا ، دل کے ٹکڑے ہو گئے قصّۂ کرب و بلا جس وقت دُہرایا گیا وہ جفا تھی کون سی جس میں کمی رکھی گئی ظلم ایسا کون سا تھا جو نہیں ڈھایا گیا جس جواں بیٹے کے سہرے کی تمنّا...
  4. طارق شاہ

    شفیق خلش ::::::تا حشر ہوگئی وہ عبادت حُسیؑن کی ::::::Shafiq Khalish

    سلام تا حشر ہوگئی وہ عبادت حُسیؑن کی بے مثل راہ ِ حق میں شہادت حُسیؑن کی برکت غمِ حُسیؑن میں روزافزوں یوُں نہیں مقصد سے کی خُدا نے وِلادت حُسیؑن کی تقلِید پروَرِش میں تھی ماؤں کی کُچھ نہ کم آئی کہاں کسی میں سعادت حُسیؑن کی عباسؑ جاں نِثار، نہ آئے َپلٹ کے جب! ناناؐ نے غم میں کی تھی عیادت...
  5. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی منقبت حضرت امام حسینؓ: جو لکھنا ہے اسے توصیفِ شبّر ٭ نظرؔ لکھنوی

    جو لکھنا ہے اسے توصیفِ شبّر پئے تعظیم خامہ ہے نگوں سر پسر وہ فاطمہؓ کا نیک اختر حسینؓ ابنِ علیؓ سبطِ پیمبرؐ حسین ایسے کہ حسن ان پر نچھاور نگاہِ عشق قرباں ہر ادا پر گلِ عارض مہکتے دو گلِ تر لبِ خنداں ہیں یا یاقوتِ احمر گریباں میں چھپے گر صبحِ انور پنہ زلفوں میں لے شامِ...
  6. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی منقبت حضرت امام حسینؓ : حیدرؓ کے نورِ عین فلک بارگاہ کی ٭ نظرؔ لکھنوی

    حیدرؓ کے نورِ عین فلک بارگاہ کی کیونکر ثنا ہو جانِ رسالت پناہؐ کی توقیر ایسی کب کسی زریں کلاہ کی جیسی ہے کربلائے معلّیٰ کے شاہ کی سیرت نہ پوچھ مجھ سے مرے قبلہ گاہ کی ہے تربیت جنابِ رسالت پناہؐ کی صورت جو دیکھیے تو زہے بادشاہ کی دل دیکھیے تو بو بھی نہیں حبِ جاہ کی صبر و رضا کا پیکرِ دلکش وہ...
  7. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی منقبت حضرت امام حسینؓ: عقل میں کہاں طاقت علم میں کہاں وسعت ٭ نظرؔ لکھنوی

    عقل میں کہاں طاقت، علم میں کہاں وسعت کر سکے کوئی کیونکر، مدحِ سبطِ آنحضرتؐ چاک سینۂ خامہ، دل پہ حالتِ رقت لکھ رہا ہوں ایسے میں آنجنابؓ کی بابت آئینہ ہے ماضی کا، سامنے تصور کے دیکھتا ہوں جو منظر، دل کو اس پہ صد حیرت دشتِ کربلا میں ہے، آلِ پاک کا خیمہ بات کیا ہوئی آخر، پیش آئی کیا صورت پھول...
  8. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی منقبت حضرت امام حسینؓ:ہیں راہِ منقبت میں ہزاروں ہی پیچ و خم ٭ نظرؔ لکھنوی

    ہیں راہِ منقبت میں ہزاروں ہی پیچ و خم اے راہوارِ طبع سنبھل کر قدم قدم ہو داستاں حسینؓ کی کس طرح سے رقم دل بھی لہو لہو ہے قلم کا بھی سر قلم ملتی نہیں نظیر وہ ٹوٹا ہے کوہِ غم حیدرؓ کے نورِ عین پہ اللہ رے ستم وہ فاطمہؓ کے لعل وہ سبطِ شہِ اممؐ لختِ جگر علیؓ کے وہ اللہ کی قسم جاہ و جلال...
  9. سیدہ شگفتہ

    کونین میں اللہ کی پہچان ہے حسین

    منقبت حضرت امام حسین ابن علی کونین میں اللہ کی پہچان ہے حسین ہر صاحب عرفان کا ایمان ہے حسین دیوان ہے خالق کا یہ قرآن ہے حسین تولے گا جو ایمان وہ میزان ہے حسین لہجے سے خدا ہو وہ ثناخوان ہے حسین جنت کا جو مالک ہو وہ سلطان ہے حسین دنیا میں بھی وارث ہے نگہبان ہے حسین خالق کی فتح کا یہاں اعلان ہے...
  10. حسن محمود جماعتی

    رضائے رب العلا کو دیکھا حسین لکھا

    رضائے رب العلا کو دیکھا حسین لکھا سوار شانئہ شہ کو دیکھا حسین لکھا صحیفئہ کربلا کو دیکھا حسین لکھا سناں پہ حق کی صدا کو دیکھا حسین لکھا سوال دیں کے معیں سے پوچھا تو وہ بولے کہ دین میں دیں پناہ کو دیکھا حسین لکھا حسن محمود جماعتی
  11. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی منقبت: جو لکھنا ہے اسے توصیفِ شبّرؓ ٭ نظرؔ لکھنوی

    جو لکھنا ہے اسے توصیفِ شبّر پئے تعظیم خامہ ہے نگوں سر پسر وہ فاطمہؓ کا نیک اختر حسینؓ ابنِ علیؓ سبطِ پیمبرؐ حسین ایسے کہ حسن ان پر نچھاور نگاہِ عشق قرباں ہر ادا پر گلِ عارض مہکتے دو گلِ تر لبِ خنداں ہیں یا یاقوتِ احمر گریباں میں چھپے گر صبحِ انور پنہ زلفوں میں لے شامِ معطر درِ دولت کا کیا...
  12. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی منقبت حضرت امام حسینؓ: لہو لہو کہ سراپا ہے داستانِ حسینؓ ٭ نظرؔ لکھنوی

    لہو لہو کہ سراپا ہے داستانِ حسینؓ جگر خراش ہے دل پاش ہے بیانِ حسینؓ ہوا نہ ہو گا زمانے میں پھر بسانِ حسینؓ نہ داستاں ہے کوئی مثلِ داستانِ حسینؓ یہ مرتبہ یہ بزرگی یہ اوجِ شانِ حسینؓ رسولِ پاکؐ ہیں واللہ مدح خوانِ حسینؓ نمازِ عشق پڑھیں آ کے عاشقانِ حسینؓ فضا میں گونج رہی ہے ابھی اذانِ...
  13. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی منقبت حضرت امام حسینؓ:حق مدح کا ان کی نہ ادا ہو گا بشر سے * نظرؔ لکھنوی

    حق مدح کا ان کی نہ ادا ہو گا بشر سے جب تک نہ لکھے کوئی بشر خونِ جگر سے بنتِ شہِ لولاک کے اس لختِ جگر سے ہو کیوں نہ محبت مجھے حیدرؓ کے پسر سے صورت ہے ضیا تاب سوا روئے قمر سے سیرت کی چمک دیکھ ذرا دل کی نظر سے وہ عارضِ تاباں کہ سدا نور ہی برسے وہ زلفِ سیہ رنگ گھٹا بھی جسے ترسے ہر بندۂ...
  14. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی منقبت حضرت امام حسینؓ : لے آئی کہاں مجھ کو خیالات کی زنجیر ٭ نظرؔ لکھنوی

    لے آئی کہاں مجھ کو خیالات کی زنجیر یہ کون سا میدان ہے زیرِ فلکِ پیر سچ دیکھ رہا ہوں کہ نگاہوں کی ہے تزویر اف معرکۂ کرب و بلا کی ہے یہ تصویر افواجِ عدو وہ ہیں اِدھر خیمۂ شبیرؓ سب آلِ نبیؐ آئے ہیں فطرت ہے عناں گیر اُس سمت سیہ بختی اِدھر خوبی تقدیر ظلمت کا اُدھر رنگ اِدھر عالمِ تنویر وہ پہلوئے...
  15. غدیر زھرا

    میر نظم بطرزِ منقبتِ حضرت امام حسین علیہ السلام

    اللہ کیا جگر تھا جفا میں حسین کا جی ہی گیا ندان رضا میں حسین کا اس تشنہ لب کا عرش سے برتر ہے مرتبہ خوں تھا سبیل راہِ خدا میں حسین کا (میر تقی میر)
  16. کاشفی

    نہ پوچھیئے کہ کیا حسین ہے

    نہ پوچھیئے کہ کیا حسین ہے
Top