غزل
اکثر اپنے درپئے آزار ہو جاتے ہیں ہم
سوچتے ہیں اِس قدر ، بِیمار ہوجاتے ہیں ہم
مُضْطَرِب ٹھہْرے ، سو شب میں دَیر سے آتی ہے نِینْد!
صُْبْح سے پہلے مگر ، بیدار ہو جاتے ہیں ہم
نام کی خواہش، ہَمَیں کرتی ہے سرگرْمِ عَمَل
اِس عَمَل سے بھی مگر، بیزار ہوجاتے ہیں ہم
جُھوٹا وعدہ بھی اگر...
غزل
خُود حِجابوں سا، خُود جَمال سا تھا
دِل کا عالَم بھی بے مِثال سا تھا
عکس میرا بھی آئِنوں سے نہاں
وہ بھی اِک کیفیّت خیال سا تھا
دشت میں، سامنے تھا خَیمۂ گُل
دُورِیوں میں عَجب کمال سا تھا
بے سَبَب تو نہیں تھا آنکھوں میں
ایک مَوسَم، کہ لا زَوَال سا تھا
خَوف انْدھیروں کا، ڈر اُجالوں سے...
غزل
کہاں گئے میرے دِلدار و غمگُسار سے لوگ
وہ دِلبَرانِ زَمِیں، وہ فَلک شِعار سے لوگ
!وہ موسَموں کی صِفَت سب کو باعثِ تسکِیں
وہ مہْر و مَہ کی طرح، سب پہ آشکار سے لوگ
ہر آفتاب سے کِرنیں سَمیٹ لیتے ہیں
ہمارے شہر پہ چھائے ہُوئے غُبار سے لوگ
ہم ایسے سادہ دِلوں کی، کہیں پہ جا ہی نہیں
چہار سمْت...
غزل
شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھی
کیوں ورنہ اِنتظار بھی ہے، اِضطِرار بھی
دھیان آ گیا تھا، مرگِ دِلِ نامُراد کا
مِلنے کو مِل گیا ہے سُکُوں بھی قرار بھی
اب ڈھونڈنے چلے ہو مُسافر کو، دوستو!
حَدِّ نِگاہ تک، نہ رہا جب غُبار بھی
ہر آستاں پہ ناصِیہ فرسا ہیں آج وہ
جو کل نہ کر سکے تھے...
غزل
زیبِ گُلو، وہ زُلفِ گِرہ گِیر اب بھی ہے
وحشی اَسِیرِ حلقۂ زنجیر اب بھی ہے
کب کا اُجڑ چُکا ہے شِوالہ شباب کا
لیکن وہ بُت، کہ آنکھ میں تصویر اب بھی ہے
دِل ہے کہ، ٹُوٹتا ہی چَلا جائے ہے، مگر!
اِمکاں میں ایک صُورتِ تعمیر اب بھی ہے
آمادۂ سوال نہیں غیرتِ جُنوں!
ورنہ، دُعا کے حرف میں...
غزل
مِری زَمِیں پہ جو مَوسم کبھی نہیں آیا
یہی بُہت ہے کہ، اُس پر مجھے یقیں آیا
مَیں خود ہی ہِجْر کا موسم، مَیں خود وِصال کا دِن
مِرے لِیے، مِرا روزِ جزا یہیں آیا
تسلِّیوں سے کہاں بارِ زِندگی اُٹھتا!
یَقِیں تو اپنی وَفاؤں پہ بھی، نہیں آیا
اِن آنسوؤں کا سَفر بھی ہے بادَلوں جیسا
بَرس گیا ہے...
غزل
فیضان محبّت نہ ہُوا عام ابھی تک
تارِیک ہے اِنسان کا انجام ابھی تک
مَیخانے میں، ہے تِشنہ لَبِی عام ابھی تک
گردِش میں، محبّت کے نہیں جام ابھی تک
چِھینا ہے سُکوں دَہْر کا، اربابِ خِرد نے
ہَیں، اہلِ جُنوں مورَدِ اِلزام ابھی تک
واماندۂ منزِل ہے جو اے راہ رَوِ شوق !
شاید، ہے تِرا ذَوقِ...
غزل
اکبؔر الہٰ آبادی
ہستیٔ حق کے معانی جو مِرا دِل سمجھا
اپنی ہستی کو اِک اندیشۂ باطِل سمجھا
وہ شناوَر ہُوں جو ہر مَوج کو ساحِل سمجھا
وہ مُسافِر ہُوں، جو ہر گام کو منزِل سمجھا
حضْرتِ دِل کو چڑھا آیا مَیں، بُتخانے میں
اُن کے انداز سے، اُن کو اِسی قابِل سمجھا
ہُوئی دُنیا میں مِرے جوشِ...
غزل
جگؔر مراد آبادی
آیا نہ راس نالۂ دِل کا اثر مجھے
اب تُم مِلے تو کچھ نہیں اپنی خبر مجھے
دِل لے کے مجھ سے دیتے ہو داغِ جِگر مجھے
یہ بات بُھولنے کی نہیں، عمر بھر مجھے
ہر سُو دِکھائی دیتے ہیں وہ، جلوہ گر مجھے
کیا کیا فریب، دیتی ہے میری نظر مجھے
مِلتی نہیں ہے لذّتِ دردِ جِگر مجھے
بُھولی...
غزل
احسان دانشؔ
یہ تو نہیں کہ تُم سے محبّت نہیں مُجھے
اِتنا ضرُور ہے کہ شِکایت نہیں مجھے
میں ہُوں، کہ اِشتیاق میں سر تا قَدم نَظر
وہ ہیں کہ ،ِاک نَظر کی اِجازت نہیں مجھے
آزادئِ گُناہ کی حسرت کے ساتھ ساتھ
آزادئِ خیال کی جُرأت نہیں مجھے
دَوبھر ہے گرچہ جَور ِعَزِیزاں سے زندگی
لیکن خُدا...
غزل
جوكہی تجھ سے بات كہہ دينا
ہےمصيبت میں ذات كہہ دینا
أن كے جانے سے جو ہُوئی طارى
وه كٹی ہے نہ رات كہہ دینا
ہم دِل آزارى پر، پَشیماں ہیں !
پُوچھ كر ذات پات كہہ دينا
اِستتقامت جو قول و فعل میں تھى
ہے وه، اب بھى ثبات كہہ دينا
معنٰی ركھتے نہیں بغیر أن كے
کچھ حيات وممات كہہ دينا
أن كى صرفِ...
غزل
اسدؔ رضا
راہیں دُھواں دُھواں ہیں، سفر گرد گرد ہے
یہ منزلِ مُراد تو، بس درد درد ہے
اپنے پڑوسِیوں کو بھی پہچانتا نہیں
محصُور اپنے خَول میں اب فرد فرد ہے
اِس موسَمِ بَہار میں، اے باغباں! بتا
چہرہ ہر ایک پُھول کا، کیوں زرد زرد ہے
لفّاظِیوں کا گرْم ہے بازار کِس قَدر
دستِ عَمل...
غزل
نشورؔ واحدی
کبھی جُھوٹے سَہارے غم میں راس آیا نہیں کرتے
یہ بادل اُڑ کے آتے ہیں، مگر سایا نہیں کرتے
یہی کانٹے تو ، کچھ خوددار ہیں صحن ِگلُِستاں میں
کہ شبنم کے لیے دامن تو پھیلایا نہیں کرتے
وہ لے لیں گوشۂ دامن میں اپنے، یا فلک چُن لے
مری آنکھوں میں آنسو، بار بار آیا نہیں کرتے
سلیقہ...
غزل
خوش باش زندگی کے کسی باب کی طرح
ہم دن گُزار آئے حَسِیں خواب کی طرح
پل بھر نہ اِنحِرافِ نظارہ، نہ اِحتِمال!
تھے کم نہ لُطفِ دید میں مہتاب کی طرح
بارآورایک بھی دِلی خواہش نہیں ہوئی
گُزری ہر ایک شب شَبِ سُرخاب کی طرح
ہم دِل کی بے بَسی کا ازالہ نہ کر سکے!
گھیرا تھا اُن کےعشق نے گرداب کی...
غزل
شفیق خلؔش
ا گر نہ لُطف دِل و جاں پہ بے بہا ہوگا
تو اِضطِراب ہی بے حد و اِنتہا ہوگا
خُدا ہی جانے، کہ درپیش کیا رہا ہوگا
ہمارے بارے اگر اُس نے یہ کہا ہوگا
ہُوا نہ مجھ سے جُدائی کے ہر عذاب کا ذکر !
اِس اِک خیال سے، اُس نے بھی یہ سہا ہوگا
خیال آئے بندھی ہچکیوں پہ اس کا ضرور
کسی بہانے ہمیں...
غزل
شفیق خلشؔ
اپنی مرضی سے گو نہیں آئے
رونا قسمت کا رو نہیں آئے
دُوری اِک عارضی تقاضہ تھی
اُن سے ہم ہاتھ دھو نہیں آئے
دِل کی بربادی کا سَبب ہیں وہی
کہہ کے آنے کا، جو نہیں آئے
یار مطلُوب تھے جو کاندھے کو !
دو ہی پہنچے تھے، دو نہیں آئے
بندھ ٹوٹیں گے ضبط کے سارے
یہ ہَمَیں ڈر تھا، سو نہیں آئے...
غزل
لاحق اگرچہ پہلی سی وہ بیکلی نہیں !
لیکن ملال و حُزن کی صُورت بَھلی نہیں
ہیش اُن کے، سچ یہی ہے کہ اپنی گلی نہیں
کوشش ہزار کی، مگر اِک بھی چلی نہیں
درپے ہے جاں کی اب بھی خیالوں میں وہ پری
جس کے شباب کی ذرا رنگت ڈھلی نہیں
کب دِل میں میرے عزمِ مُصمّم کے زور پر
نِسبت سے اُن کی اِک نئی...
غزل
ضیاؔ جالندھری
چاند ہی نِکلا، نہ بادل ہی چَھما چَھم برسا
رات دِل پر، غَمِ دِل صُورتِ شبنم برسا
جلتی جاتی ہیں جَڑیں، سُوکھتے جاتے ہیں شَجر
ہو جو توفیِق! تو آنسو ہی کوئی دَم برسا
میرے ارمان تھے برسات کے بادل کی طرح
غُنچے شاکی ہیں کہ، یہ ابر بہت کم برسا
پے بہ پے آئے، سجل تاروں کے...
غزل
کرب چہرے کا چھپاتے کیسے
پُر مُسرّت ہیں جتاتے کیسے
ہونٹ بھینچے تھے غَم و رِقَّت نے
مسکراہٹ سی سجاتے کیسے
بعد مُدّت کی خبرگیری پر
اشک آنکھوں کے بچاتے کیسے
دوستی میں رہے برباد نہ کم !
دشمنی کرتے نبھاتے کیسے
درد و سوزش سے نہ تھا آسودہ
دِل تصور سے لُبھاتے کیسے
اِک قیامت سی بَپا حالت میں...
غزل
شاید کہِیں بھی ایسا اِک آئینہ گر نہ ہو
اپنے ہُنر سے خود جو ذرا بَہرہ وَر نہ ہو
شاعِر کے ہر لِکھے کا مَزہ خُوب تر نہ ہو
اپنی سُخن وَرِی میں اگر دِیدَہ وَر نہ ہو
جانے کہاں گئی مِری ترغِیبِ زندگی
جس کے بِنا حَیات یہ جیسے بَسر نہ ہو
سَیر و صَبا کے جَھونکوں کی اُمّید اب نہیں
طاری اِک ایسی...