الف عین صاحب

  1. محمد عسکری

    محترم استذہ اکرام کی خدمت میں ایک غزل برائے اصلاح۔

    دِلوں کو موم بناؤ تو کوئ بات بنے. خوشی کے دیپ جلاؤ تو کوئ بات بنے. حقیر و ناتواں مفلس کو سب ستاتے ہیں. ترس غریب پہ کھاؤ تو کوئ بات بنے. اداس رہنے سے دل کا سکون جاتا ہے. غموں میں خود کو ہنساؤ تو کوئ بات بنے. جہاں بھی دیکھو وہیں پر فساد برپا ہے. پیامِ امن سناؤ تو کوئ بات بنے. قدم قدم پہ فسوں...
  2. محمد عسکری

    ایک اور غزل برائے اصلاح جناب محترم الف عین اور محمد یعقوب آسی سر اور دیگر اساتذہ کی خدمت میں۔

    ﺷﻮﺥ ﻣﺪﻣﺴﺖ ﺗﯿﺮﯼ ﺣﺴﻦِ ﺟﻔﺎﮐﺎﺭ ﺗﯿﺮﺍ . ﮐﺴﮑﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺑﮭﻼ ﭘﯿﺎﺭ ﺗﯿﺮﺍ . ﺟﺎﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ ﻟﮕﻦ ﺗﺠﮭﺴﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﺎﻥِ ﺟﮩﺎﮞ . ﻟﺬﺕِ ﺷﮭﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮨﺮ ﻭﺍﺭ ﺗﯿﺮﺍ . ﮐﺘﻨﮯ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﮯ ﻭﺿﻮ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﺐ ﺟﺎﮐﮯ ﮐﮩﯿﮟ . ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮬﻤﮑﻮ ﻣﯿﺴّﺮ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﺗﯿﺮﺍ . ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﮯ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﺗﯿﺮﮮ . ﻣﻘﺘﻞِ ﺣﺴﻦ ﺍﮔﺮ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ...
  3. محمد عسکری

    ۔غزل برائے اصلاح استاد محترم جناب الف عین سر کی خدمت میں

    ﺩﻭﺭِ ﻣﺎﺿﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺉ ﺑﮭﯽ ﮔﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﮭﮑﻮ . ﻣﻨﺰﻝِ ﺫﯾﺴﺖ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﮭﮑﻮ . ﺑﮩﺖ ﮐﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻣِﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﯾﺎﺭ ﮐﻮﺉ . ﮐﻮﺉ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣِﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﮭﮑﻮ . ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻑ ﮐﮭﺎﺅﮞﮕﺎ ﺗﺠﮭﺴﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ . ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﻮﺕِ ﻏﻢ ﺳﮯ ﮈﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﮭﮑﻮ . ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯﮔﺎ . ﺩِﻝ ﻭ ﺩﻣﺎﻍ ﺳﮯ ﻇﺎﻟﻢ ﺑُﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ...
  4. سید عطوف الحسن

    یہ لکھا تو میں نے یے

    لکهوں جو دل کو جو ہے ثمر میرا کہے ہے توکہ، یہ ہے ہنر میرا برائے جاں اسے مانگوں تو کس سے جسے تم کہتے نہی ، ہے مگر میرا بے چینی اپنی کہی سماج سے میں نے بنایا باتوں سے بسمل، ہے جگر میرا ملے وہ شعلہ جبیں مجهہ سے کبهی یہ کیسے اس سے کہوں تو، ہے نگر میرا مانگنے کی اگر مجهے حسرت ہے حسن کہوں کہ کیا...
  5. Abbas Swabian

    ٭٭٭ ہم دہشت گرد کیسے ہو سکتے ہیں؟٭٭٭

    ٭٭٭ ہم دہشت گرد کیسے ہو سکتے ہیں؟٭٭٭ السلام علیکم ۔امید ہے آپ سب خیریت سے ہونگے- انتیس جون 2015کو یہ حقیر سی کوشش کی ہے ،امید ہے آپ پسند کریں گے اوریہ پیغام شئیر کریں گے۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ میں ابتداء کیسے کروں ؟ اللہ کی قسم میں روتے ہوئےلکھ رہا ہوں۔میں گلہ کروں بھی تو کس سے کروں؟ اگر غیر...
  6. Shahzad hussain

    حسین یادیں جلا گیا ہے

    حسین یادیں جلا گیا ہے اکیلا ہم کو بٹھا گیا ہے جھکی نہ تھی جو کسی کے آگے ہماری گردن جھکا گیا ہے وہ ساتھ گزرے ہوے ہمارے حسین لمحے بھلا گیا ہے رفاقتیں تھیں حماقتیں تھیں وہ سارے ناطے مٹا گیا ہے گلی میں ہر سو ہیں لاشے بکھرے وہ رخ سے پردہ اٹھا گیا ہے ادھر ہی بیٹھا ہوں سائل اب تک جدھر وہ ہم کو...
  7. آوازِ دوست

    یوں بے خبر نہ ہو

    شعلوں پہ آشیاں ہے، یوں بے خبر نہ ہو وہ اہلِ دِل ہی کیا جو صاحبِ نظر نہ ہو جو نِکلے نہ کوئی سورج میری آہِ نیم شب سے پھر جو کبھی سحر ہو مجھے ایسی سحر نہ ہو دشتِ جُنوں میں کھِلتے ہیں گُل اہلِ جُنوں کے واسطے بھلے راہیں لہو لہو ہوں اور کوئی شجر نہ ہو ہر سو مقتل کو لیے جائے ہے راہِ زندگی یہاں تیری...
  8. آوازِ دوست

    وزن

    ایک دِن سوچا کہ شاعری کے قواعد سے آشنائی کُچھ ایسی معیوب بات بھی نہیں ہے کہ اِسے یکسر نظراندازکر دیا جائےآخر ہمارا پہلا فین منظرِ عام پر آ چُکا تھا۔ طاہر صاحب کے آفس کا اتفاقیہ چکر لگا تو میں یہ دیکھ کر حیران (بلکہ پریشان) رہ گیا کہ اُن کی آفس ٹیبل کے شیشے کے نیچے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر خوشخط املا...
  9. گل زیب انجم

    غزل

    غزل نگاہوں میں تیر سانپ جو آستین میں رکھتے ہیں صورت واللہ وہ کتنی حسین رکھتے ہیں گفتار دلکش میں نہیں ثانی کوئی اُن کا زہر زبان میں کتنا میرے ہم نشین رکھتے ہیں ہوتا نہ کیونکر گھائل آخر دل ہی تو ہے مستی آنکھوں میں مسکان لبوں پہ دلنشین رکھتے ہیں ہم ہار گے سب کچھ وارفتگیِ محبت میں شعلہ عجب...
  10. گل زیب انجم

    غزل

    غزل ہم نے تو یہ کہا تھا کہ خط لکھنا کب کہا تھا کہ نظم لکھنا یا افسانہ لکھنا . برسوں سے کہہ رہے ہو جو بات اب نہ وہ کہنا. لکھنا تو اب کی بار نیا کوئی بہانا لکھنا . سرد راتوں میں بہل جائے جس سے دل. لکھنا تو ایسا کوئی ترانہ لکھنا . کیوں لکھ نہ پائے محبت نہیں یا فرصت نہ تھی . کیسے بدلے ہو مزاج...
  11. محمدارتضیٰ آسی

    غزل برائے اصلاح "سنو میں خاک ہوتا جا رہا ہوں"

    سنو میں خاک ہوتا جا رہا ہوں حدِ افلاک ہوتا جا رہا ہوں شرارت اسکی آنکھوں میں ہے ایسی کہ میں چالاک ہوتا جا رہا ہوں وظیفے میں اسے پڑھتا ہوں ہر شب قسم سے پاک ہوتا جا رہا ہوں گزرتی جا رہی ہے سانس اور میں پسِ ادراک ہوتا جا رہا ہوں عجب اک خوف ہے مجھ کو یہ آسی بہت بے باک ہوتا جا رہا ہوں محمد ارتضٰی آسی
  12. محمدارتضیٰ آسی

    غزل برائے اصلاح "وہ اپنے پاس بُلائے تو کوئی بات بنے"

    وہ اپنے پاس بلائے تو کوئی بات بنے اگر وہ بات بنائے تو کوئی بات بنے وہ اپنی تیغ صفت آبدار نظروں سے بلا کا وار چلائے تو کوئی بات بنے ہمارا کیا ہے ابھی چُٹکیوں میں بک جائیں مگر وہ دام لگائے تو کوئی بات بنے اسی کی صوت میں کوئل کے سُر بکھرتے ہیں وہ آج گیت سنائے تو کوئی بات بنے یہ عاشقی کا تقاضہ...
  13. انیس فاروقی

    ایک شعر کی اصلاح چاہتا ہوں ۔مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

    ایک شعر ہے یوں اس کی اصلاح کی درخواست ہے پھر نہ تقدیسِ ادب ہم سے قضا ہو جائے آج یہ قرض بھی صدیوں کا ادا ہو جائے
  14. ذیشان خالق

    غزل

    یہ میری پہلی غزل ہے آپ سب سے اصلاح کی درخواست ہے کبھی جو تھے ہمدم ہمارے وہ پیارے کہاں گئے مسیحا تھے میرے درد کے وہ سہارے کہاں گٰئے عمر دراز سے ھیں پڑے اسی دشت جنون میں اترے جہاں سے تھے یہاں وہ کنارے کہاں گٰئے نہٰیں جانتے اب کیسے ہو گا زندگی کا سفر رواں رہنما تھے بنے جو...
  15. علی احمد الف

    براے اصلاح ،، رات کا اندھیرا ہو دور ہی سویرا ہو اک حسین وادی میں چاند کا بسیرا ہو

    رات کا اندھیرا ہو دور ہی سویرا ہو اک حسین وادی میں چاند کا بسیرا ہو جھیل کے کنارے پر آ شیانہ میرا ہو تتلیوں کا جھرمٹ ہو بادلوں کا گھیرا ہو اور میرے کندھے پر سر وہ ہو جو تیرا ہو تیرے اجلے چہرے کو گیسوں نے گھیرا ہو صرف میری آنکھیں ہوں اور تیرا چہرہ ہو جلترنگ ہو کنگن کی رنگ حیا جو گہرا ہو بات ہو...
  16. عمرمختارعاجز

    ایک تازہ غزل برائے تنقید،تبصرہ اور اصلاح

    ان کو چاہنے والا میں کون ہوں محترمی جناب والا میں کون ہوں ان کی مست آنکھیں،گلابی ہونٹ واہ جلنےوالے کا منہ کالا میں کون ہوں میں ہوں ان کاعاشق،پیار کرنے والا پوچھتے کیا ہو حوالہ،میں کون ہوں فلسفیوں ،شاعروں اور سائینسدانوں نے مجھے مشکل میں ڈالا میں کون ہوں عاجز،عاجز بندہ ہے رب کریم کا آپ ہیں ارفع و...
Top