نہیں طالوت! ہر قوم صرف اپنی زبان میں ہی ترقی کر سکتی ہے۔ کیونکہ اسکی زبان اسکی پہچان ہوتی ہے۔ میں تو ابھی بھی شرم سے منہ چھپاتا پھرتا ہوں کہ جب نارویجنز کو سویڈن و ڈنمارک سے آزادی حاصل ہوئی، تو انہوں نے اپنے ملک میں قومی، ادبی و دفتری زبان نارویجن ہی رکھی۔۔۔ اور اسی زبان مین ترقی بھی کی۔( اس وقت...