کب تک
اک سپاہی کو پہنا دی گئی آخر زنجیر
ہے تو بیداد مگر یہ نئی بیداد نہیں
اسی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں کتنے رشید
نام بھی جن کا ہمیں پوری طرح یاد نہیں
چڑھ کے پھانسی پہ اتر آیا ہے سہگل صد شکر
کتنے سہگل اسی پھانسی پہ مگر جھول گئے
ان شہیدوں کا تھا ہر قطرۂ خوں شاہنواز
رفتہ رفتہ جنہیں ارباب وطن بھول...