کبھی بول بھی
دلِ سوختہ
کبھی بول بھی
جو اسیر کہتے تھے خود کو تیری اداؤں کے وہ کہاں گئے
جو سفیر تھے تیر ی چاہتوں کی فضاؤں کے وہ کہاں گئے
وہ جو مُبتلائے سفر تھے تیرے خیال میں
وہ جو دعویدار تھے عمر بھی کی وفاؤں کے وہ کہاں گئے
کبھی کوئی راز تو کھول بھی
کبھی بول بھی
دلِ نا خدا
کبھی بول بھی...
۔
محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہوگا یہ طے ہوا تھا
بچھڑ کے بھی ایک دوسرے کا خیال ہوگا یہ طے ہوا تھا
وہی ہوا نہ بدلتے موسم میں تم نے ہم کو بھلا دیا ہے
کوئی بھی رت ہو نہ چاہتوں کا زوال ہو گا یہ طے ہوا تھا
دوستو!
آداب،
پچھلے دنوں غالب کے ایک شعر سے مڈ بھیڑ ہو گئی تھی اور نتیجے میں یہ مضمون سرزد ہوا تھا، سوچا آپ کی خدمت میں بھی پیش کر دیں۔ ملاحظہ کیجے۔
بس کہ دشوار ہے۔۔۔
غالباً یہ گزشتہ ہفتے کی بات ہے جب محفل میں ایک شعر برائے تشریح پیش ہوا ، شعر غالب کا تھا اورکچھ یوں تھا۔
رگ سنگ...
مغل بھائی
یہ شعر میرا نہیں ہے، کسی نا معلوم شاعر کا ہے اچھا لگا تھا سو آپ سے شئر کیا تھا۔۔
ہاں اپنا ایک شعر پیش کیے دیتا ہوں۔۔۔
کچے رنگوں کا تھا آنچل آنسوئوں سے مل گیا
نت نئے رنگوں سے عارض سج گئے ہیں آپ کے
سخنور صاحب،
بے حد نوازش۔ رہی بات پسندیدہ شعراء کرام کی تو بات کچھ یوں ہے کہ ہر اچھا شعر بلا امتیازِ زمان و مکان اچھا لگتا ہے اور پھرا س شعر یا اشعار کی نسبت سے وہ شاعر بھی اپنی جگہ بنا ہی لیتا ہے۔ غالب و میر کو تو سب ہی پسند کرتے ہیں۔ اور ان کے ہم عصر بھی جو آج تک یاد کیے جاتے ہیں تو یہ...
اسے گنوا کہ میں زندہ ہوں اس طرح محسن
کہ جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتا ے
یا
اُسے گنوا کر پھر اس کو پانے کا شوق دل میں تو یوں ہے محسن
کہ جیسے پانی پہ دائرہ سا کوئی بنائے تو کچھ نہ پائے
بھائی اچھا ہوا آپ نے بتا دیا کہ اس طرح کی بھی کوئی لڑی ہے شاید وہاں ہم کچھ بول سکیں ۔۔۔
کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
دنیا سمجھ رہی ہے کہ سب کچھ تیرا ہوں میں
ویسے کوئی اس قسم کی بھی لڑی ہو "لوگ چونا کیوں لگاتے ہیں" تو بتائیے گا۔۔۔ :)