غزل
فضا میں رنگ نہ ہوں آنکھ میں نمی بھی نہ ہو
وہ حرف کیا کہ رقم ہو تو روشنی بھی نہ ہو
وہ کیا بہار کہ پیوندِ خاک ہو کے رہے
کشاکشِ روش و رنگ سے بری بھی نہ ہو
کہاں ہے اور خزانہ بجز خزانۂ خواب
لٹانے والا لٹاتا رہے کمی بھی نہ ہو
یہی ہوا ، یہی بے مہرو بے لحاظ ہوا
یہی نہ ہو تو چراغوں...