ایک دفعہ دولہا بھائی (یعنی ڈاکٹر صاحب) نے حمیرا عدنان جی سے فرمائش کی کہ حلوہ کھانے کو جی چاہ رہا ہے۔ شومئی قسمت کہ حمیرا جی کو حلوہ بنانا نہیں آتا تھا۔ رات کے اس پہر کسی دکان یا بیکری سے ملنے کا بھی کوئی امکان نہیں تھا۔ ایسے میں سوچا کہ اردو محفل پہ ہی کسی سے پوچھ کر بنانا بھی ایک ممکنہ آپشن...
اگر صاحبِ لڑی یا دیگر احباب برا نہ مانیں تو ہم انتظامیہ سے اس لڑی (یا کم از کم پہلے مراسلے) کو حذف کرنے کی سفارش پیش کرنا چاہتے ہیں۔ بخدا طبیعت مکدر ہو گئی اس میں شامل کردہ مواد کو دیکھ کر۔
ایسی ہی تحاریر کے بارے میں ہم اکثر فیس بک پہ ذیلی کمنٹ کیا کرتے ہیں:-
بہت خوب جی۔ بہت مبارک ہو محمد تابش صدیقی بھائی۔
یقیناً آپ کی موجودگی اردو محفل کے حالیہ دور کو پر از رونق بنانے میں بہت اہمیت کی حامل رہی ہے۔ محفل کو ایسے ہی قابل، بردبار اور ادب شناس اراکین کی ضرورت ہے۔
اور ہاں جیسے ٹنڈولکر دو سو ٹیسٹ میچ کھیل کر ریٹائر ہو گیا تھا، آپ اسی کے نقشِ قدم پہ چلنے...
جی بالکل۔ بلاشبہ افسوس ناک مواد ہے۔
مزید افسوس ناک یہ کہ روزنامہ پاکستان کی سائٹ پہ پوسٹ ہوا ہے۔
مجیب الرحمٰن شامی اور عطاء الحق قاسمی جیسے لوگوں کے معیار کو اتنا زوال پذیر دیکھ بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری معاشرتی قدریں کیوں گراوٹ کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔
معطلی سے ڈرتے ہو
معطلی تو تم بھی ہو، معطلی تو ہم بھی ہیں
(ن م راشد دوئم، کہ جن کا پورا نام "نور معطل راشد" تھا)۔
نیز
معطل کرنے والے کم نہ ہوں گے
افسوس ہم نہ ہوں گے
وغیرہ وغیرہ
جی جناب۔ بلاشبہ آنجناب کافی معطلیت پرست واقع ہوئے ہیں۔
جناب کی کاوشوں سے حالیہ معطلیوں اور ان کے اثراتِ مابعد کا سلسلہ تو اتنا چل نکلا ہے کہ صبح نیم غنودگی میں سکرین پہ نظر پڑی تو اردو محفل پہ بھی "اردو معطل" کا گماں گزرا۔ خود کو زور سے چٹکی کاٹی تو حواس بحال ہوئے۔
مکرمی محمد امین صدیق صاحب (کہ جن کا ہر مراسلہ گنجینہء معنی کے طلسم کے درجہ پہ فائز ہونے کے لائق ہے) کے متذکرہ بالا مراسلے کی قرار واقعی قطع و برید اور بلاغت ربود پہ احقر ششدر سا رہ گیا ہے۔ پرمزاح مسودے پر مشتمل اس صف شکن جوابی مراسلے پہ راقم الحروف کی جانب سے ہدیہء تہنیت قبول کیجئے۔
وعلیکم السلام اسماعیل بھائی۔
محفل پہ خوش آمدید۔
جان کے خوشی ہوئی کہ ایم ایس دھونی کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
یقیناً عبداللہ محمد بھائی بھی یہ جان کر خوش ہوں گے۔