غزل
کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا
میں دریا تھا مگر صحرا نشیں تھا
شکست و ریخت کیسی، فتح کیسی
کہ جب کوئی مقابل ہی نہیں تھا
ملے تھے ہم تو موسم ہنس دیئے تھے
جہاں جو بھی ملا، خنداں جبیں تھا
سویرا تھا شبِ تیرہ کے آگے
جہاں دیوار تھی، رستہ وہیں تھا
ملی منزل کسے کارِ وفا میں
مگریہ راستہ کتنا...
الیاس احمد گدی کی ناول "فائر ایریا" حال ہی میں ختم کیا ہے۔ اس ناول میں کول فیلڈ کے مزدورں کی زندگی / ابتری کی عکاسی کی گئی ہے ۔ یہ ہندوستانی مصنف ہیں اور فائر ایریا ایوارڈ یافتہ ناول ہے۔
ہم لوٹیں گے
(روحِ فیض سے معذرت کے ساتھ)
ہم لوٹیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی لوٹیں گے
وہ پیسہ جو پبلک کا ہے
بیت المال میں جو رکھا ہے
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کو آنا ہے
جو خواب میں ہم نے دیکھا ہے
جب سارے کے سارے بنکِ جہاں
نوٹوں سے ہرے بھر جائیں گے
ہم شاہ...
عشق میں پہلے ڈرتے تھے بربادی سے
ہوتے ہوتے ہو گئے ہیں اب عادی سے
کنجِ قفس سے آنے جانے والوں کو
گھومتے پھرتے دیکھتا ہوں آزادی سے
بہت خوب آصف شفیع صاحب!
بہت اچھی غزل ہے پڑھ کر دل خوش ہو گیا۔ خاص طور پر مطلع تو بہت لاجواب ہے۔
نذرانہءتحسین پیش خدمت ہے جناب!
تاخیر کے لئے معذرت کے...
واہ صاحب! بہت عمدہ غزل ہے۔
سرور راز صاحب کی زیادہ تر غزلیں استادانہ اور شاید اسی وجہ سے ثقالت کی طرف مائل ہوتی ہیں لیکن چھوٹی بحر کی یہ غزل بہت خوب ہے۔
شکریہ کاشفی بھائی!