تصور سے بھی آگے تک درو دیوار کُھل جائیں
میری آنکھوں پہ بھی یا رب تیرے اسرار کُھل جائیں
میں تیری رحمتوں کے ہاتھ خود کو بیچنے لگوں
مری تنہائیوں میں عشق کے بازار کُھل جائیں
سبحان اللہ خرم بھائی
بہت عمدہ کلام ہے۔
اور یہ طرزَ مشاعرہ بھی بہت خوب ہے بڑی آسانی سے جان چھوٹ گئی ورنہ شاعر...