بہت خوب راجا بھائی !
اچھی غزل ہے۔ داد قبول کیجے۔
مطلع کا مصرع اولیٰ ابھی بھی مزہ نہیں کر رہا ۔ اسے آپ چاہیں تو یوں بھی کر سکتے ہیں یا اس سے ملتا جلتا:
۔ پنکھ دے کر اُڑان چھینے گا۔
لیکن کم ازکم ہم تو ان کو ہندی فلمیں نہ پکاریں، اردو ہی کہا کریں۔
یہتوہےیہفلمیںبھییقیناًاردوفلمیںہیہیںلیکنلوگشایدپاکستانیاورہندوستانیفلموںمیںتفریقکےلئےیہاصطلاحاستعمالکرتےہیں۔
انگلینڈ اور آئرلینڈ کا میچ واقعی بہت دلچسپ رہا۔ کیون اوبرائن کی اننگ یادگار اور میچ وننگ تھی. میں یہی سوچ رہا تھا کہ یہ ورلڈکپ تو بہت پھیکا پھاکا جا رہا ہے اور ابھی تک کوئی اپ سیٹ دیکھنے کو نہیں ملا. پاکستان کے خلاف اپ سیٹس کی تاریخ گو کہ رہی ہے لیکن ہم پاکستان کے خلاف اپ سیٹ کے متحمل نہیں ہو...
غزل
نین کُھلتے نہ تھے، نیند آتی نہ تھی، رات آہستہ آہستہ ڈھلتی رہی
سارے اوراقِ غم منتشر ہوگئے، دیر تک دل میں آندھی سی چلتی رہی
گھاس تھی جگنوؤں کو چُھپائے ہوئے، پیڑ تھے تیرگی میں نہائے ہوئے
ایک کونے میں سر کو جھکائے ہوئے درد کی شمع افسردہ جلتی رہی
پہلا دن تھا محبت کی برسات کا، وقت...
تمہیں خبر ہی نہیں کیسے سر بچایا ہے
عذاب جاں پہ سہا ہے تو گھر بچایا ہے
تمام عمر تعلق سے منحرف بھی رہے
تمام عمر اسی کو مگر بچایا ہے
ہر اعتراض پہ گہری طویل خاموشی
یہی تو وصف میرے ہمسفر بچایا ہے
منور جمیل
ایک آدمی کیمسٹ کے پاس گیا۔
آدمی : مجھے زہر چاہیے۔
کیمسٹ: بہت معذرت جناب! لیکن میں نسخے کے بغیر آپ کو زہر نہیں دے سکتا۔
آدمی نے جیب سے نکاح نامہ نکال کر دکھایا تو کیمسٹ نے تاسف سے دیکھا اور پوچھا: جناب بڑی بوتل چاہیے یا چھوٹی۔