کاشفی بھائی!
شعر ویسا ہی ہے جیسا راقم نے رقم کیا ہے ۔ :biggrin:
یعنی :
ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی
جس کو ہوں دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟
یہاں دیکھیے غزل نمبر 134۔ اور ایسا کیوں ہے یہ بتانے کے لئے چچا غالب بھی موجود نہیں رہے۔ :) اب اُن سے کون پوچھے وہ تو پہلے...