اس کہانی کا تراشا کم او بیش چار سال میرے پرس میں رہا، پھر اتفاق سے پرس کسی ضرورت مند کو دینا پڑ گیا، لیکن خوش قسمتی سے میں اسے اسکین کر چکا تھا۔ یہ میری پسندیدہ ترین تحریروں میں سے ایک ہے اور ایسی تحریریں شاذ ہی لکھی جاتی ہیں۔
اس کہانی سے متاثر ہو کر میں نے اسد محمد خان کی ناول "جانور" پڑھی...