بہت اچھی خبر ہے۔
تحریر کا آخری حصہ واقعی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اب علم و ادب پر مرنے والے کم اور سستی شہرت کے متلاشی زیادہ ہیں۔ لیکن اب بھی کچھ نہ کچھ لوگ تو ایسے موجود ہیں جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اور انہیں پلیٹ فارم اور تربیتی ماحول ملے تو کچھ نہ کچھ کر ہی جائیں گے۔