تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جَنوں ہے، یوں ہے
اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے، یوں ہے
تو نے دیکھی ہی نہیں دشتَ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرئہ خوں ہے، یوں ہے
کیا کہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
بھائی عمران شناور۔۔۔۔۔! سب سے پہلے تو آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے دلنشین کلام سے اس مشاعرے کو رونق بخشی۔
رہا آپ کا پیش کردہ کلام تو بے ساختہ دل سے واہ واہ واہ نکلتی ہے ۔ بہت خوبصورت غزلیں پیش کی ہیں آپ نے دونوں ہی۔ دونوں غزلوں سے خاکسار نے انتخاب کرنے کی کوشش کی لیکن ایک ایک شعر ایسا...
اچھا تو آپ بھی کراچی کی ہیں۔ویسے آپ کے گھر پر زیادہ تر کونسی زبان بولی جاتی ہے؟ اور یہ بروشکی اور شینا بلوچی زبان کے اریب قریب ہیں یا الگ؟
ویسے سندھی میں ہماری آپ کی کہانی ایک سی ہے۔ یہاں دیکھیے۔