بھائی صاحب، منقولات تو وہی ہیں جو ذاکر صاحب نے پیش کی ہیں بحوالہ فلاں امام وغیرہم۔
اور معقولات وہ ہیں کہ شادی جیسی بدیہہ بات کو حضورپاک (ص) نے استطاعت سے منسلک کردیا اور قرآنی سزا کو حضرت عمر (ر) نے معطل کردیا۔
آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوؓں، ایک مجلس میں سر سید احمد اور شبلی نعمانی...
ابو شامل بھائی اسی لیے شاید ہمارے مرشد نے فرمایا تھا
بک رہا ہوؓں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
بھائی صاحبان، سب سے استدعا ہے کہ سیاسیات جیسے اعلٰی موضوع (تکنیکی لحاظ سے کہ یہ فلسفے کی ایک شاخ ہے) کو خرافات سے پاک ہی رکھیں تو بہتر ہے۔
لیکن جیہ یہ بھی تو دیکھیے
گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
آپ جلد از جلد یہ فریضہ انجام دیں کہ “اہلِ زبان“ ہونے کے ناطے آپکی کی ذمہ داری دوسروؓں کی مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
qaral صاحب، صحیح فرما رہے ہیں آپ۔ لیکن ہمارے مولوی تو کہتے ہیں کہ بچے درجنوں کے حساب سے پیدا کرلو، رزق انکو اللہ دے گا۔ باقی حقوق جائیں جہنم میں۔
اور وسائل کے حوالے سے حدیث میں نے پہلے بیان کرنے کی کوشش کی تھی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بچے تو دور کی بات ہے اگر کسی کے پاس شادی شدہ زندگی...
صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ کارل مارکس نے ایڈورٹائزنگ کو ایک شیطانی اور دنیا کا بد ترین کام قرار دیا تھا، یہ مارکس کی رائے ہے جس سے متفق ہونا ضروری نہیں لیکن اس میں کہیں نہ کہیں کوئی صداقت ہے سہی۔
ؓبھائی صاحب، میں نے ایک مشہور و معروف تاریخی واقعہ کا حوالہ بھی دیا تھا اجتہاد کے سلسلے میں۔
قرآن مجید میں واضح طور پر سارق کی سزا قطع ید لکھی ہوئی ہے، لیکن حضرت عمر نے مدینہ میں قحط کے زمانے میں یہ سزا معطل کردی تھی، یہ کیا تھا، نعوذ باللہ، امیر المومنین کا قرآنی احکامات سے انحراف یا حضرت...
بالکل صحیح کہہ رہے ہیں قیصرانی صاحب، ایک مشہور حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ایک نوجوان کے پاس شادی شدہ زندگی کیلے وسائل نہیں تھے تو حضور پاک (ص) نے اس سے فرمایا کہ روزے رکھا کرو۔ یعنی استطاعت اور وسائل پیشِ نظر رہنے چاہیئں۔