مرثیہ نمبر 1
(گزشتہ سے پیوستہ)
مطلعِ دوم
(27)
ہاں اے فلکِ پیر، نئے سر سے جواں ہو
اے ماہِ شبِ چار دہم، نور فشاں ہو
اے ظلمتِ غم، دیدۂ عالم سے نہاں ہو
اے روشنیِ صبحِ شبِ عید، عیاں ہو
شادی ہے ولادت کی یداللہ کے گھر میں
خورشید اترتا ہے شہنشاہ کے گھر میں
( 28 )
اے شمس و قمر، اور قمر ہوتا...