شامِ شہرِ یاراں ۔ فیض

محمد وارث نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 20, 2007

  1. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شامِ شہرِ یاراں

    (فرمایشیں)



    مرثیۂ امام

    رات آئی ہے شبّیر پہ یلغارِ بلا ہے
    ساتھی نہ کوئی یار نہ غمخوار رہا ہے
    مونِس ہے تو اِک درد کی گھنگھور گھٹا ہے
    مُشفِق ہے تو اک دل کے دھڑکنے کی صدا ہے
    تنہائی کی، غربت کی، پریشانی کی شب ہے
    یہ خانۂ شبّیر کی ویرانی کی شب ہے

    دشمن کی سپہ خواب میں‌ مدہوش پڑی تھی
    پل بھر کو کسی کی نہ اِدھر آنکھ لگی تھی
    ہر ایک گھڑی آج قیامت کی گھڑی تھی
    یہ رات بہت آلِ محمّد پہ کڑی تھی
    رہ رہ کے بُکا اہلِ‌حرم کرتے تھے ایسے
    تھم تھم کے دِیا آخرِ شب جلتا ہے جیسے

    اِک گوشے میں‌ ان سوختہ سامانوں‌ کے سالار
    اِن خاک بسر، خانماں ویرانوں‌ کے سردار
    تشنہ لب و درماندہ و مجبور و دل افگار
    اِس شان سے بیٹھے تھے شہِ لشکرِ احرار
    مسند تھی، نہ خلعت تھی، نہ خدّام کھڑے تھے
    ہاں‌ تن پہ جدھر دیکھیے سو زخم سجے تھے

    کچھ خوف تھا چہرے پہ نہ تشویش ذرا تھی
    ہر ایک ادا مظہرِ تسلیم و رضا تھی
    ہر ایک نگہ شاہدِ اقرارِ وفا تھی
    ہر جنبشِ لب منکرِ دستورِ جفا تھی
    پہلے تو بہت پیار سے ہر فرد کو دیکھا
    پھر نام خدا کا لیا اور یوں ہوئے گویا

    الحمد قریب آیا غمِ عشق کا ساحل
    الحمد کہ اب صبحِ شہادت ہوئی نازل
    بازی ہے بہت سخت میانِ حق و باطل
    وہ ظلم میں‌کامل ہیں تو ہم صبر میں ‌کامل
    بازی ہوئی انجام، مبارک ہو عزیزو
    باطل ہُوا ناکام، مبارک ہو عزیزو

    پھر صبح کی لَو آئی رخِ پاک پہ چمکی
    اور ایک کرن مقتلِ خونناک پہ چمکی
    نیزے کی انی تھی خس و خاشاک پہ چمکی
    شمشیر برہنہ تھی کہ افلاک پہ چمکی
    دم بھر کے لیے آئینہ رُو ہو گیا صحرا
    خورشید جو ابھرا تو لہو ہو گیا صحرا

    پر باندھے ہوئے حملے کو آئی صفِ‌ اعدا
    تھا سامنے اِک بندۂ حق یکّہ و تنہا
    ہر چند کہ ہر اک تھا اُدھر خون کا پیاسا
    یہ رُعب کا عالم کہ کوئی پہل نہ کرتا
    کی آنے میں ‌تاخیر جو لیلائے قضا نے
    خطبہ کیا ارشاد امامِ شہداء نے

    فرمایا کہ کیوں درپۓ ‌آزار ہو لوگو
    حق والوں ‌سے کیوں ‌برسرِ پیکار ہو لوگو
    واللہ کہ مجرم ہو، گنہگار ہو لوگو
    معلوم ہے کچھ کس کے طرفدار ہو لوگو
    کیوں ‌آپ کے آقاؤں‌ میں ‌اور ہم میں ‌ٹھنی ہے
    معلوم ہے کس واسطے اس جاں پہ بنی ہے

    سَطوت نہ حکومت نہ حشم چاہیئے ہم کو
    اورنگ نہ افسر، نہ عَلم چاہیئے ہم کو
    زر چاہیئے، نے مال و دِرم چاہیئے ہم کو
    جو چیز بھی فانی ہے وہ کم چاہیئے ہم کو
    سرداری کی خواہش ہے نہ شاہی کی ہوس ہے
    اِک حرفِ یقیں، دولتِ ایماں‌ ہمیں‌ بس ہے

    طالب ہیں ‌اگر ہم تو فقط حق کے طلبگار
    باطل کے مقابل میں‌ صداقت کے پرستار
    انصاف کے، نیکی کے، مروّت کے طرفدار
    ظالم کے مخالف ہیں‌ تو بیکس کے مددگار
    جو ظلم پہ لعنت نہ کرے، آپ لعیں ہے
    جو جبر کا منکر نہیں ‌وہ منکرِ‌ دیں ‌ہے

    تا حشر زمانہ تمہیں مکّار کہے گا
    تم عہد شکن ہو، تمہیں غدّار کہے گا
    جو صاحبِ دل ہے، ہمیں ‌ابرار کہے گا
    جو بندۂ‌ حُر ہے، ہمیں‌ احرار کہے گا
    نام اونچا زمانے میں ‌ہر انداز رہے گا
    نیزے پہ بھی سر اپنا سرافراز رہے گا

    کر ختم سخن محوِ‌ دعا ہو گئے شبّیر
    پھر نعرہ زناں محوِ وغا ہو گئے شبیر
    قربانِ رہِ صدق و صفا ہو گئے شبیر
    خیموں میں‌ تھا کہرام، جُدا ہو گئے شبیر
    مرکب پہ تنِ پاک تھا اور خاک پہ سر تھا
    اِس خاک تلے جنّتِ ‌فردوس کا در تھا


    (1964)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصل پوسٹ از علی بابا
    (لیکن اس میں کافی ٹائپنگ کی غلطیاں تھیں، بلکہ کچھ قوافی بھی غلط تھے، تصیح کردی گئی ہے۔)


    ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مدح

    حسین شہید سہروردی مرحوم نے راولپنڈی "سازش" کیس ملزموں کی جانب سے وکالت کی تھی۔ مقدمے کے خاتمے پر انھیں یہ سپاسنامہ پیش کیا گیا۔



    کس طرح بیاں ہو ترا پیرایۂ تقریر
    گویا سرِ باطل پہ چمکنے لگی شمشیر
    وہ زور ہے اِک لفظ اِدھر نُطق سے نکلا
    واں سینۂ اغیار میں پیوست ہُوئے تیر
    گرمی بھی ہے ٹھنڈک بھی، روانی بھی سکوں بھی
    تاثیر کا کیا کہیے، ہے تاثیر سی تاثیر
    اعجاز اسی کا ہے کہ اربابِ ستم کی
    اب تک کوئی انجام کو پہنچی نہیں تدبیر
    اطرافِ وطن میں ہُوا حق بات کا شُہرہ
    ہر ایک جگہ مکر و ریا کی ہُوئی تشہیر
    روشن ہوئے اُمّید سے رُخ اہلِ وفا کے
    پیشانیٔ اعدا پہ سیاہی ہوئی تحریر



    (2)

    حرّیتِ آدم کی رہِ سخت کے رہگیر
    خاطر میں نہیں لاتے خیالِ دمِ تعزیر
    کچھ ننگ نہیں رنجِ اسیری کہ پُرانا
    مردانِ صفا کیش سے ہے رشتۂ زنجیر
    کب دبدبۂ جبر سے دبتے ہیں کہ جن کے
    ایمان و یقیں دل میں کیے رہتے ہیں تنویر
    معلوم ہے ان کو کہ رہا ہوگی کسی دن
    ظالم کے گراں ہاتھ سے مظلوم کی تقدیر
    آخر کو سرافراز ہُوا کرتے ہیں احرار
    آخر کو گرا کرتی ہے ہر جَور کی تعمیر
    ہر دَور میں سر ہوتے ہیں قصرِ جم و دارا
    ہر عہد میں دیوارِ ستم ہوتی ہے تسخیر
    ہر دَور میں ملعون شقاوت ہے شمر کی
    ہر عہد میں مسعود ہے قربانیٔ شبّیر



    (3)

    کرتا ہے قلم اپنے لب و نطق کی تطہیر
    پہنچی ہے سرِ حرفِ دعا اب مری تحریر
    ہر کام میں برکت ہو ہر اک قول میں قوّت
    ہر گام پہ ہو منزلِ مقصود قدم گیر
    ہر لحظہ ترا طالعِ اقبال سوا ہو
    ہر لحظہ مددگار ہو تدبیر کی تقدیر
    ہر بات ہو مقبول، ہر اک بول ہو بالا
    کچھ اور بھی رونق میں بڑھے شعلۂ تقریر
    ہر دن ہو ترا لطفِ زباں اور زیادہ
    اللہ کرے زورِ بیاں اور زیادہ

    ۔
     
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    گیت


    منزلیں، منزلیں
    شوقِ دیدار کی منزلیں
    حُسنِ دلدار کی منزلیں، پیار کی منزلیں
    پیار کی بے پنہ رات کی منزلیں
    کہکشانوں کی بارات کی منزلیں
    سربلندی کی، ہمّت کی، پرواز کی
    جوشِ پرواز کی منزلیں
    راز کی منزلیں
    زندگی کی کٹھن راہ کی منزلیں
    سربلندی کی، ہمّت کی، پرواز کی
    جوشِ پرواز کی منزلیں
    راز کی منزلیں
    آن ملنے کے دن
    پھول کھلنے کے دن
    وقت کے گھور ساگر میں صبح کی
    شام کی منزلیں
    چاہ کی منزلیں
    آس کی، پیاس کی
    حسرتِ یار کی
    پیار کی منزلیں
    منزلیں حسنِ عالم کے گلزار کی
    منزلیں، منزلیں
    موج در موج ڈھلتی ہوئی رات کے درد کی منزلیں
    چاند تاروں کے ویران سنسار کی منزلیں
    اپنی دھرتی کے آباد بازار کی منزلیں
    حق کے عرفان کی
    نور انوار کی منزلیں
    وصلِ دلدار کی منزلیں
    قول و اقرار کی منزلیں
    منزلیں، منزلیں


    (فلم، "قسم اُس وقت کی")

    ۔
     
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    گیت


    اب کے دیکھیں راہ تمھاری
    بیت چلی ہے رات
    چھوڑو
    چھوڑو غم کی بات
    تھم گئے آنسو
    تھک گئیں اکھّیاں
    گزر گئی برسات
    بیت چلی ہے رات
    چھوڑو
    چھوڑو غم کی بات
    کب سے آس لگی درشن کی
    کوئی نہ جانے بات
    کوئی نہ جانے بات
    بیت چلی ہے رات
    چھوڑو غم کی بات
    تم آؤ تو من میں اترے
    پھولوں کی بارات
    بیت چلی ہے رات
    اب کیا دیکھیں راہ تمھاری
    بیت چلی ہے رات


    (فلم، "جاگو ہُوا سویرا")


    ۔
     
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    گیت


    ہم تیرے پاس آئے
    سارے بھرم مٹا کر
    سب چاہتیں بھلا کر
    کتنے اداس آئے
    ہم تیرے پاس جا کر
    کیا کیا نہ دل دکھا ہے
    کیا کیا بہی ہیں اکھیاں
    کیا کیا نہ ہم پہ بیتی
    کیا کیا ہوئے پریشاں
    ہم تجھ سے دل لگا کر
    تجھ سے نظر ملا کر
    کتنے فریب کھائے
    اپنا تجھے بنا کر

    ہم تیرے پاس آئے
    سارے بھرم مٹا کر
    تھی آس آج ہم پر کچھ ہوگی مہربانی
    ہلکا کریں گے جی کو سب حالِ دل زبانی
    تجھ کو سنا سنا کر
    آنسو بہا بہا کر
    کتنے اداس آئے
    ہم تیرے پاس جا کر
    ہم تیرے پاس آئے
    سارے بھرم مٹا کر


    (فلم۔ "سُکھ کا سپنا")


    ۔
     
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اُمیدِ سحر کی بات سنو

    جگر دریدہ ہوں چاکِ جگر کی بات سنو
    الم رسیدہ ہوں دامانِ تر کی بات سنو
    زباں بریدہ ہوں زخمِ گلو سے حرف کرو
    شکستہ پا ہوں ملالِ سفر کی بات سنو
    مسافرِ رہِ صحرائے ظلمتِ شب سے
    اب التفاتِ نگارِ سحر کی بات سنو
    سحر کی بات، امیدِ سحر کی بات سنو

    ۔
     
  7. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے
    سر پر ہیں خداوند سرِ عرش خدا ہے

    کب تک اسے سینچو گے تمنائے ثمر میں
    یہ صبر کا پودا تو نہ پھولا نہ پھلا ہے

    ملتا ہے خراج اس کو تری نانِ جویں سے
    ہر بادشہِ وقت ترے در کا گدا ہے

    ہر ایک عقوبت سے ہے تلخی میں سوا تر
    وہ رنج جو نا کردہ گناہوں کی سزا ہے

    احسان لیے کتنے مسیحا نفسوں کے
    کیا کیجیے دل کا، نہ جلا ہے نہ بجھا ہے


    اکتوبر 77ء

    ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    (پنجابی نظماں)




    لمّی رات سی درد فراق والی
    تیرے قول تے اساں وساہ کر کے
    کَوڑا گُھٹ کیتی مٹھڑے یار میرے
    مٹھڑے یار میرے، جانی یار میرے
    تیرے قول تے اساں وساہ کر کے
    جھانجراں وانگ، زنجیراں چھنکائیاں نیں
    کدی کنّیں مندراں پائیاں نیں
    کدی پیریں بیڑیاں چائیاں نیں
    تیری تاہنگ وِچ پَٹ دا ماس دے کے
    اساں کاگ سدّے، اساں سنیہہ گھلّے
    رات مُکدی اے، یار آوندا اے
    اسیں تک دے رہے ہزار ولّے
    کوئی آیا نہ بِناں خُنامیاں دے
    کوئی پُجّا نہ سوا اُلاہمیاں دے
    اَج لاہ اُلاہمے مٹھڑے یار میرے
    اَج آ ویہڑے وِچھڑے یار میرے
    فجر ہووے تے آکھیے بسم اللہ
    اَج دولتاں ساڈے گھر آئیاں نیں
    جیہدے قول تے اساں وساہ کیتا
    اوہنے اوڑک توڑ نبھائیاں نیں


    1971ء

    ۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    گیت


    کدھرے نہ پیندیاں دسّاں
    وے پردیسیا تیریاں
    کاگ اُڈاواں، شگن مناواں
    وگدی وا دے ترلے پاواں
    تری یاد پوے تے روواں
    ترا ذکر کراں تاں ہسّاں
    کدھرے نہ پیندیاں دسّاں
    وے پردیسیا تیریاں

    درد نہ دسّاں گُھلدی جاواں
    راز نہ کھولاں مُکدی جاواں
    کس نوں دل دے داغ وِکھاواں
    کس در اَگّے جھولی ڈھاواں
    وے میں کس دا دامن کھسّاں
    کدھرے نہ پیندیاں دسّاں
    وے پردیسیا تیریاں

    شام اُڈیکاں، فجر اُڈیکاں
    آکھیں تے ساری عمر اُڈیکاں
    آنڈ گوانڈی دیوے بلدے
    ربّا ساڈا چانن گَھلدے
    جگ وَسدائے میں وی وَسّاں
    کدھرے نہ پیندیاں دسّاں
    کدھرے نہ پیندیاں دسّاں
    وے پردیسیا تیریاں


    1971ء

    ۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  10. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    میری ڈولی شوہ دریا

    (74ء کے سیلاب زدوں کے امدادی فنڈ کے لیے لکھے گئی)


    کل تائیں سانوں بابلا
    تو رکھّیا ہِک نال لا
    سَت خیراں ساڈیاں منگیاں
    جد جُھلّی تتّی وا
    اَج کیکن ویہڑیوں ٹوریا
    کویں لاہے نی میرے چاء
    میرے گہنے نیل ہتھ پیر دے
    میری ڈولی شوہ دریا
    اَج لتھّے سارے چاء
    میری ڈولی شوہ دریا
    نال رُہڑدیاں رُڑھ گیاں سدّھراں
    نال روندیاں رُل گئے نیر
    نال ہُونج ہُونج کے لَے گئے
    میرے ہتھ دی لیکھ لکیر
    میری چُنّی بک سواہ دی
    میرا چولا لِیر و لِیر
    لج پالن بَوہڑے بھین دی
    کوئی کرماں والے وِیر
    میرے کرماں والے وِیر
    میرا چولا لِیر و لِیر
    میرے لتّھے سارے چاء
    میری ڈولی شوہ دریا
    سسّی مر کے جنتن ہوگئی
    میں تر کے اَوتر حال
    سُن ہاڑے اِس مسکین دے
    ربّا پورا کر سوال
    میری جھوک وَسّے، میرا ویر وَسّے
    فیر تیری رحمت نال
    کوئی پُورا کرے سوال ربّا
    تیری رحمت نال
    میرے لتّھے سارے چاء
    میری ڈولی شوہ دریا
     
  11. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ربّا سچّیا


    ربّا سچّیا توں تے آکھیا سی
    جا اوئے بندیا جگ دا شاہ ہیں توں
    ساڈیاں نعمتاں تیریاں دولتاں نیں
    ساڈا نَیب تے عالیجاہ ہیں توں
    ایس لارے تے ٹور کد پُچھیا ای
    کِیہہ ایس نمانے تے بیتیاں نیں
    کدی سار وی لئی اُو رب سائیاں
    تیرے شاہ نال جگ کیہہ کیتیاں نیں

    کِتے دھونس پولیس سرکار دی اے
    کِتے دھاندلی مال پٹوار دی اے
    اینویں ہڈّاں چ کلپے جان میری
    جیویں پھاہی چ کُونج کُرلاوندی اے
    چنگا شاہ بنایا اِی رب سائیاں
    پَولے کھاندیاں وار نہ آوندی اے

    مینوں شاہی نئیں چاہیدی رب میرے
    میں تے عزّت دا ٹُکّر منگناں ہاں
    مینوں تاہنگ نئیں، محلاں ماڑیاں دی
    میں تے جِیویں دی نُکّر منگناں ہاں

    میری مَنّیں تے تیریاں مَیں منّاں
    تیری سَونہہ جے اِک وی گلّ موڑاں
    جے ایہہ مانگ نئیں پُجدی تیں ربّا
    فیر میں جاواں تے رب کوئی ہور لوڑاں


    1974ء
     
  12. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    قطعہ

    اَج رات اِک رات دی رات جی کے
    اَساں جُگ ہزاراں جی لِتّا اے
    اَج رات امرت دے جام وانگوں
    اینہاں ہتھّاں نے یار نوں پی لتا اے
     
    • زبردست زبردست × 1
  13. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    تراجم


    ناظم* حکمت


    زندان سے ایک خط

    مری جاں تجھ کو بتلاؤں، بہت نازک یہ نکتہ ہے
    بدل جاتا ہے انساں جب مکاں اس کا بدلتا ہے
    مجھے زنداں میں پیار آنے لگا ہے اپنے خوابوں پر
    جو شب کو نیند اپنے مہرباں ہاتھوں سے
    وا کرتی ہے در اس کا
    تو آ گرتی ہے ہر دیوار اس کی میرے قدموں پر
    میں ایسے غرق ہو جاتا ہوں اس دم اپنے خوابوں میں
    کہ جیسے اِک کرن ٹھہرے ہوئے پانی پہ گرتی ہے
    میں ان لمحوں میں کتنا سرخوش و دلشاد پھرتا ہوں
    جہاں کی جگمگاتی وسعتوں میں کس قدر آزاد پھرتا ہوں
    جہاں درد و الم کا نام ہے کوئی نہ زنداں ہے
    "تو پھر بیدار ہونا کس قدر تم پر گراں ہوگا؟"
    نہیں ایسا نہیں ہے، میری جاں، میرا یہ قصہ ہے
    میں اپنے عزم و ہمت سے
    وہی کچھ بخشتا ہوں نیند کو جو اس کا حصہ ہے



    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    *ترکی کا شہرہ آفاق شاعر جس نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران ترکی کی جنگِ حریت میں حصہ لیا اور بعد میں بیشتر عمر قید و بند اور جلا وطنی میں گزاری۔ 63ء میں وفات پائی۔


    ۔
     
  14. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ویرا * کے نام


    اُس نے کہا آؤ
    اُس نے کہا ٹھہرو
    مسکاؤ کہا اس نے
    مر جاؤ کہا اس نے
    میں آیا
    میں ٹھہر گیا
    مسکایا
    اور مر بھی گیا


    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    *ناظم حکمت کی رُوسی بیوی
     
  15. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    وا میرے وطن


    او میرے وطن، او میرے وطن، او میرے وطن
    مرے سر پر وہ ٹوپی نہ رہی
    جو تیرے دیس سے لایا تھا
    پاؤں میں وہ اب جوتے بھی نہیں
    واقف تھے جو تیری راہوں سے
    مرا آخری کُرتا جاک ہوا
    ترے شہر میں جو سِلوایا تھا
    اب تیری جھلک
    بس اُڑتی ہوئی رنگت ہے میرے بالوں کی
    یا جُھرّیاں میرے ماتھے پر
    یا میرا ٹوٹا ہوا دل ہے
    وا میرے وطن، وا میرے وطن، وا میرے وطن
     
  16. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اولنجر*، عمر علی سلیمان


    صحرا کی رات

    کہیں بھی شبنم کہیں نہیں ہے
    عجب، کہ شبنم کہیں نہیں ہے
    نہ سرد خورشید کی جبیں پر
    کسی کے رخ پر، نہ آستیں پر
    ذرا سی شبنم کہیں نہیں ہے
    پسے ہوئے پتھروں کی موجیں
    خموش و ساکن
    حرارتِ ماہِ نیم شب میں سلگ رہی ہیں
    اور شبنم کہیں نہیں ہے
    برہنہ پا غول گیدڑوں کے
    لگا رہے ہیں بنوں میں ٹھٹھے
    کہ آج شبنم کہیں نہیں ہے
    ببول کے استخواں کے ڈھانچے
    پکارتے ہیں
    نہیں ہے شبنم، کہیں نہیں ہے
    سفید، دھندلائی روشنی میں
    ہیں دشت کی چھاتیاں برہنہ
    ترس رہی ہیں جو حسنِ انساں لیے کہ شبنم کا ایک قطرہ
    کہیں پہ برسے
    یہ چاند بھی سرد ہو رہے گا
    افق پہ جب صبح کا کنارا
    کسی کرن سے دہک اٹھے گا
    کہ ایک درماندہ راہرو کی
    جبیں پہ شبنم کا ہاتھ چمکے


    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    * قازقستان کا ممتاز نوجوان شاعر

    ۔
     

اس صفحے کی تشہیر