ظفری بھائی، سارہ خان، فاتح صاحب اور ضبط آپ سب کا بہت شکریہ۔
حضور آپ کی کوشش پر ایسے ہزاروں سرِ تفاخر قربان آپ ہمت تو پکڑیئے۔
لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں ;)
رباعی
سر بر مفراز، خاکِ پائے ہمہ باش
دلہا مخراش، در رضائے ہمہ باش
با خلق نیامیختن از خامیِ تست
ترکِ ہمہ گیر و آشنائے ہمہ باش
(خواجہ الطاف حسین حالی)
سر مت اٹھا، ہمیشہ خاکِ پا بن، دلوں کو تکلیف مت دے، ہمیشہ رضا پر (راضی) رہ، خلق کے ساتھ نہ ملنا تری خامیوں میں سے ہے، ہر چیز کو ترک کر دے اور ہر...
میں معذرت خواہ ہوں کہ میرے جملے سے یہ مطلب بھی نکل آیا حالانکہ میرے پیشِ نظر بُلھے شاہ کی وہ بات تھی کہ سچ آکھاں تے بھانبھڑ بل دے نیں (سچ کہوں تو شعلے بھڑکتے ہیں)۔
امید ہے مزاج بخیر ہونگے نبیل صاحب، آپ کی کم کم آمد سے محفل سونی سونی سی ہے (کم از کم میرے لیے) اور 'سیاست' کے زمرے میں گو گرمی تو ہے لیکن وہ آتش فشانی نہیں جو آپکے مراسلات کے بعد پیدا ہوتی تھی :)
رباعی
اوّل بہ وفا جامِ وصالم در داد
چوں مست شدم دامِ جفا را سر داد
با آبِ دو دیدہ و پُر از آتشِ دل
خاکِ رہِ او شدم بہ بادم در داد
(حافظ شیرازی)
پہلے تو وفا سے مجھے وصال کا جام دیا، جب میں مست ہو گیا تو جفا کا جال ڈال دیا، دو روتی ہوئی آنکھوں اور آگ بھرے دل کے ساتھ، جب میں اس کی راہ کی خاک بنا...
ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے
وقت کی زد میں ہیں یادوں کے خزانے میرے
زندہ رہنے کی ہو نیّت تو شکایت کیسی
میرے لب پر جو گِلے ہیں وہ بہانے میرے
رخشِ حالات کی باگیں تو مرے ہاتھ میں تھیں
صرف میں نے کبھی احکام نہ مانے میرے
میرے ہر درد کو اس نے اَبَدیّت دے دی
یعنی کیا کچھ نہ دیا مجھ کو خدا نے...
مندی کے ساتھ خواہاں ہے، اے کاش زندگی میں تجھ کو اسکی اتنی بھی پرواہ ہوتی جیسے ارد پر سفیدی، دنیا کے چھوٹے چھوٹے نقصان اور ذرا ذرا سے زیان تجھ کو مضطر اور بے چین کر دیا کرتے تھے، اگرچہ کیا دنیا اور کیا دنیا کا خسارہ، کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا، لیکن تباہیِ دین کی تجھ کو خبر تک بھی تو نہیں ہوئی۔...
بہت شکریہ حجازی صاحب، بہت اچھی غزل ہے۔
لیکن آپ نے اسے 'موسیقی کی دنیا' میں کیوں پوسٹ کیا ہے اسے تو 'پسندیدہ کلام' میں ہونا چاہیئے نا، کیا یہ کسی نے گائی ہے۔ اور بھائی صاحب اسے تنقید مت سمجھیئے گا بلکہ یہ تو میں نے ہاتھ بڑھایا ہے۔ :)
آپ کی مرضی ہے خرم صاحب، ویسے میرا خیال ہے کہ ساگر صاحب کو بھی اس بحر پر عبور حاصل ہو جائے تو کسی اور بحر کو دیکھیں۔ بحر متقارب مثمن سالم پر مکمل عبور کیلیئے 'مسدسِ حالی' کا مطالعہ اور تقطیع کرنی چاہیئے کہ ہزاروں اشعار پر مشتمل یہ نظم اسی بحر میں ہے۔ بازار میں عام ملتی ہے اور محفل پر میں نے بھی...
نظامی صاحب دراصل اصنافِ سخن کی دو قسمیں ہیں، ایک موضوع کے یا نفسِ مضمون کے لحاظ سے اور دوسری ہیت یا فارم (شکل) کے لحاظ سے۔
موضوع کے لحاظ سے مشہور اصنافِ سخن میں حمد، نعت، منقبت، مرثیہ، سلام، سہرا، شہر آشوب وغیرہ وغیرہ شامل ہیں یعنی قریب قریب ان میں ایک ہی خیال ہوتا ہے۔
جب کہ ہیت کے لحاظ سے...
نظامی صاحب، نعت کیلیئے کوئی صنفِ سخن مخصوص نہیں ہے یہ تو عقیدت کی بات اور اسکا اظہار ہے۔ غزلیں، قصیدے، رباعیاں، قطعے، پابند اور آزاد نظمیں، قریب قریب سبھی اصنافِ سخن میں شعراء کرام نے آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور عقیدت کے نذرانے پیش کیے ہیں۔