یہی سوال میرے ذہن میں بھی تھا احمد صاحب :)
میرے خیال میں، اگر احباب یہاں بھی کچھ پوسٹ کرنا چاہیں تو بصد شوق، اور اب اگر اپنی شاعری 'آپ کی شاعری' میں اور انتخاب 'پسندیدہ کلام' میں بھی پیش کریں تو بسم اللہ۔
زاہدا عرفاں بدلق و سُبحہ و مسواک نیست
عشق پیدا کن کہ اینہا داخلِ ادراک نیست
(غزالی مشہدی)
اے زاہد، عرفان، گدڑی، تسبیح اور مسواک نہیں ہے، (اس کے لیے تو) عشق پیدا کر کہ یہ (عرفان) داخلِ ادراک نہیں ہے (اس جگہ ادراک کا کوئی دخل نہیں ہے۔)
راجا صاحب یہ شعر ضرور درست کریں جیسے اعجاز صاحب نے لکھا ہے، میرے پاس خوشبو، مطبوعہ مراد پبلی کیشنز، اسلام آباد مئی 1994ء ہے، جب شاعرہ زندہ تھیں، دیباچہ انہی کا لکھا ہوا ہے اسی سال افسوس دسمبر میں آپ وفات پا گئیں۔
یہ پروین شاکر کا بہت مشہور بلکہ بیت الغزل ہے، واہ واہ واہ
جگنوؤں کی شمعیں بھی...
قصّۂ عاشقی مگو اے دل
بگذار ایں خصوص را بعموم
(اے دل عاشقی کا قصہ مت کہہ، اس خاص ترین بات کو عمومی طور پر (سرسری) گزار دے۔
فیضی اسرارِ عشق را ھر گز
نتواں یافتن بکسبِ علوم
فیضی، عشق کے اسرار ہر گز (فقط) علوم میں مہارت سے نہیں ملتے (کھلتے)
(شیخ ابوالفیض فیضی)
مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے یہ لکھتے ہوئے کہ احباب نے اس سلسلے کو بہت پذیرائی بخشی، سبھی احباب نے بہت اچھا انتخاب پیش کیا اور شعرائے کرام کے تو کیا کہنے، خاکسار اور فرخ صاحب آپ سب کی محبتوں کیلیئے آپ کے ممنون ہیں۔
یوں تو ہفتہ مکمل ہو گیا ہے لیکن سعود صاحب نے اعلان کیا تھا کہ محفل کا جشن مزید ایک...
لا جواب غزل ہے نوید بھائی، بہت خوب۔
آئنوں پر زوال کے دن ہیں
شیشہء دل، کمال کے دن ہیں
خیریت پوچھتے ہو لوگوں کی
شہرِ دل میں ملال کے دن ہیں
واہ واہ واہ، بہت خوبصورت اشعار ہیں، سبحان اللہ۔
اجی امر صاحب، آپ کے جملے کے تیور دیکھ کر احمد صاحب کی طرح میں بھی سوچ میں پڑ گیا تھا کہ امر صاحب تو ماشاءاللہ بذاتِ خود تخلیق کار ہیں یہ 'معشوق' و 'عاشق' جدا کیسے ہو گئے :)
عمار یار غزلوں کے عنوان مت بنایا کریں، مصرع پورا لکھیں بھائی:
کود جا میدان میں، چل اپنی قسمت آزما
اور
یہ خزائیں، زرد پتے اور اپنی بے بسی
واہ واہ کیا لا جواب مصرعے ہیں، بلکہ کہنے دیجیئے کہ لا جواب مکھڑے ہیں ;) آپ کیوں عنوان دے دیتے ہیں۔