میرا سوال سمجھ لیں یا کچھ اور، بھئی یہ جو امریکن گورنمنٹس کی پالیسی ہوتی ہے ڈکٹیٹرز کے متعلق
"he may be a son of a bitch, but he's our son of a bitch" یہ کیا ہے ;)
شکریہ مہوش علی صاحبہ اس تھریڈ میں تشریف لانے کیلیئے، خوش آمدید!
آپ نے جس رخ کی بات کی ہے اسکے متعلق مرزا صائب تبریزی فرماتے ہیں:
مرا ز روزِ قیامت غمے کہ ھست، اینست
کہ روئے مردُمِ عالم دوبارہ باید دید
(روزِ قیامت کا مجھے جو غم ہے وہ یہی ہے کہ دنیا کے لوگوں کا چہرہ دوبارہ دیکھنا پڑے گا)
مستوں میں نہیں وہ عشق و مستی باقی
وہ پیرِ مغاں ہے اور نہ ساقی باقی
مے خانہ میں مے حافظ و رومی کی نہیں
باقی ہے برانڈی اور وسکی باقی
(خوشی محمد ناظر - نغمۂ فردوس)
فرخ صاحب میرے خیال میں 'تیر' کی جگہ 'ڈوب' ہی ہے، ہاں 'اک' صحیح لکھا آپ نے 'ایک' کی جگہ اور لیجیے کی جگہ بھی لیجے ہے۔
میرے خیال میں صحیح شعر کچھ یوں ہے :)
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ارے مغل صاحب، میں نے کہاں جانا ہے یہیں آپ کے قدموں میں ہوتا ہوں :)
دوسرے مسئلے کا حل یہ ہے کہ 'مشاعرے' کو محفلِ ادب میں شروع کریں، وہاں اگر کوئی غیر ضروری بات مشاعرے میں ہوئی تو میں خود ہی اسے علیحدہ کردونگا :cool:
میرا جو آخری ایس ایم ایس اپنے ایک دوست کے ساتھ ایکسچینج ہوا، کچھ اسطرح سے تھا۔
دوست: ؟
میں: !
اور ایسا پچھلے کئی سالوں سے ہو رہا ہے۔ "؟" کا مطلب ہوتا ہے کیا تم اس وقت مل سکتے ہو، اور اسکا "!" مطلب ہوتا ہے 'ہاں' بصورتِ دیگر مجھے معذرت لکھ کر بھیجنی پڑتی ہے۔ :)
خرم صاحب آپ 'جذبات' کچھ صحیح نہیں لکھ گئے، محترم میں مہمانِ خصوصی تو کیا 'مہمانِ عمومی' بننے کے بھی لائق نہیں ہوں۔ لہذا میری درخواست ہے کہ اس مشاعرے کے مہمانِ خصوصی جناب شاکر القادری صاحب کو بنایا جائے۔
رہی بات کلام پیش کرنے کی، تو حضور پہلے بھی عرض کیا تھا کہ دامن خالی ہے، ہاں ایک بات کا میں...
نگویم بہرِ تشریفِ قدومت خانۂ دارم
غریبم، خاکسارم، گوشۂ ویرانۂ دارم
(فنائی)
میں نہیں کہتا کہ میرے پاس آپ کی تشریف آوری کیلیئے (آپ کے شایانِ شان) خانہ ہے، غریب ہوں، خاکسار ہوں، اور (فقط) ویرانے کا گوشہ ہے۔