شکریہ محبوب خان صاحب، فراز کی خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیئے!
آپ نے اسے پروین شاکر کی غزل والے تھریڈ میں ڈال دیا تھا لیکن میں نے اسے الگ کر دیا ہے۔
والسلام
شکریہ فرخ صاحب، انقلاب کہاں محترم، ایک چھوٹی سی پھلجڑی سمجھیں۔
ڈھونڈ تو میں کوئی غزل ہی رہا تھا پوسٹ کرنے کیلیئے کہ اسکے عنوان نے چونکا دیا، لیکن سب سے اہم یہ کہ مختصر نظم تھی :)
میں گوتم نہیں ہوں
میں گوتم نہیں ہوں
مگر میں بھی جب گھر سے نکلا تھا
یہ سوچتا تھا
کہ میں اپنے ہی آپ کو ڈھونڈنے جا رہا ہوں
کسی پیڑ کی چھاؤں میں
میں بھی بیٹھوں گا
اک دن مجھے بھی کوئی گیان ہوگا
مگر جسم کی آگ
جو گھر سے لے کر چلا تھا
سلگتی رہی
گھر کے باہر ہوا تیز تھی
اور بھی یہ بھڑکتی رہی
ایک اک پیڑ...
اللہ تعالٰی آپ کو اپنے بچوں کی طرف سے مزید خوشخبریاں عطا فرمائیں!
واقعی یہ کوہ کنی ابھی میرے سامنے ہے، بیٹے 7 اور 5 سال کے ہیں اور اسکول جاتے ہیں، اور بیٹی ابھی دو سال کی بھی نہیں ہے، بہرحال
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)
سَرشکم رفتہ رفتہ بے تو دریا شُد، تماشا کُن
بیا در کشتیٔ چشمم نشین و سیرِ دریا کُن
(آتشی قندھاری)
ہمارے آنسو تیرے جدائی میں رفتہ رفتہ دریا بن گئے ہیں ذرا دیکھ تو، آ اور ہماری آنکھ کی کشتی میں بیٹھ کر اس دریا کی سیر کر۔