دانند عاشقاں کہ نیاید بہ ھیچ کار
عمرے کہ بے تو می گُزَرَد در شمارِ عمر
(حافظ شیرازی)
(عاشق جانتے ہیں کہ کسی کام نہیں آتی، عمر کی گنتی میں وہ عمر کہ جو تیرے بغیر گزرتی ہے)
صد رفیق و صد ہمدم، پر شکستہ و دل تنگ
داورا نمی زیبَد، بال و پر بمن تنہا
(شاعر: نامعلوم)
میرے بہت سے ساتھی اور ہمدم بغیر بال و پر کے اور مجروح دل ہیں، (لہذا) اے مالک یہ زیب نہیں دیتا کہ فقط میرے ہی بال و پر ہوں۔