واہ واہ واہ، کیا خوبصورت غزل ہے
مے برستی ہے فضاؤں پہ نشہ طاری ہے
میرے ساقی نے کہیں جام اچھالے ہوں گے
اُن سے مفہومِ غمِ زیست ادا ہو شاید
اشک جو دامنِ مژگاں نے سنبھالے ہوں گے
واہ واہ
اناللہ و انا الیہ راجعون۔
بہت افسوس ہوا یہ خبر سن کر، اللہ تعالٰی مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں، آمین یا رب العالٰمین۔
شکریہ جناب شیئر کرنے کیلیئے، مطلع نے باقی خوبصورت شعر اپنی چھاؤں میں چھپا رکھے ہیں
اب تو اُس کی آنکھوں کے میکدے میّسر ہیں
پھر سکون ڈھونڈو گے ساغروں میں جاموں میں
واہ واہ واہ، لا جواب
واہ کیا خوبصورت غزل ہے، کسی گلوکار نے بہت دلکش انداز میں گائی بھی ہے اور بہت سنی تھی کسی زمانے میں۔
دوسرا شعر بھی دیکھیئے گا فرخ صاحب، میں نے اس میں "رونے" کی جگہ "اڑنے" سنا ہے یعنی
جنگل جنگل اڑنے والے سب موسم