مرےقریب ہی
بدن پہ میں نےمگر برف ڈال رکھی ہے
سنائی دی وہی آواز سبز پتوں سے
کسی کی یاد ہوا نے سنبھال رکھی ہے
بھٹک بھٹک گئی سسی تھلوں کے ٹیلے پر
یہ گوٹھ پیار کی گو دیکھ بھا ل رکھی ہے
ہمارے دل پہ محبت کا وار اچانک تھا
رکھی ہی رہ گئی جس جا پہ ڈھال رکھی ہے
رہیں گے نام وہ پیڑوں پہ نقش صدیوں...