شیخ صاحب کا انتقال 1971ء میں ہوا تھا سو پاکستان میں تو انکی کتابیں 2022ء میں کاپی رائٹ فری ہونگی اور تب تک شاید ہم نہ ہوں :) بہت سخت اور ناجائز قوانین ہیں کاپی رائٹس کے!
اردو یونیکوڈ آن لائن لائبریری جس پر کسی قسم کا، کسی قسم کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا، مواد نہ ہو بلکہ کاپی رائٹس سے آزاد یا باقاعدہ اجازت شدہ، اغلاط سے پاک مواد ہو، جو یورز فرینڈلی سائٹ پر قاری کو نہ صرف مکمل آن لائن پڑھنے کی سہولت دے بلکہ اسے دو تین مختلف فائل فارمیٹس میں ڈاؤن لوڈ کرنے کی...
اور ابھی میں غزل سن رہا ہوں گھر میں:
ہم کو اپنی خبر نہیں یارو
تم زمانے کی بات کرتے ہو ;)
ویسے میں نے اسی موضوع پر ایک تحریر لکھی تھی اپنے بلاگ پر "اُوئے غالب" جو غالب اور اس خاکسار کے تین بچوں اور واحد بیگم کے درمیان تعلق پر تھی :) کاش بلاگ مرحوم زندہ ہوتا!
اہم مسئلہ ہے فہد صاحب:
ٹیم ورک کی صورت میں یہ ہونا چاہیئے کہ پراجیکٹ مینیجر ای۔بُک بنانے کا ذمہ دار ہو۔ یا بنوانے کا ذمہ دار ہو اپنی ٹیم کے کسی رکن سے یا محفل کے کسی اور مہربان رکن سے۔
انفرادی صورت میں، پراجیکٹ کرنے والا اخلاقی طور پر خود ہی ذمہ دار ہو یا وہ کسی سے بنوائے۔
اور اگر پھر بھی...
ایک مزید بات جو میں کہنا چاہونگا، معذرت کے ساتھ، وہ یہ کہ اب جب کہ لائبریری پراجیکٹ کی عمر دو تین سال (یا شاید زیادہ) ہو گئی ہے تو ہمیں بجائے بنیادی بحث و مباحثہ پر وقت صرف کرنے کے، ڈائریکٹ پلین آف ایکشن پر زیادہ زور دینا چاہیئے یعنی اجتماعی پراجیکٹس کا مینیجر، اسکی ذمہ داریاں، ممبران کی ذمہ...
چونکہ یہ سارا پروگرام رضاکارانہ طور پر ہے اس لیے شاید ہمارے کچھ معزز اراکین اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتے (یہ صرف میرا ایک خیال اور مشاہدہ ہے) لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔
دراصل، اردو کی محبت تو واحد محرک ہی ہے، لیکن ہمیں لائبریری ٹیم اراکین کو زیادہ سے زیادہ موٹیویٹ کرنا پڑے گا، کیسے اس پر تجاویز...
صفحہ 62
عدالت کے احاطہ اور سڑک پر عظیم الشان مظاہرہ جاری تھا۔ قومی نعروں کی آوازیں برابر بلند ہو رہی تھیں۔ جونہی مولانا جیل کی گاڑی میں سوار ہونے لگے، ابوالکلام کی جے، بندے ماترم، مہاتما گاندھی کی جے، ہندو مسلمان کی جے اور اللہ اکبر کے پر شکوہ نعروں سے تمام فضا گونج اٹھی۔ لوگوں کی اس قدر...
صفحہ 61
مولانا صحن سے ہو کر عدالت کے کمرے میں جا رہے تھے تو باہر کے عظیم الشان مجمع نے جو سڑک پر کھڑا تھا، مولانا کی ایک ذرا سی جھلک دیکھ پائی اور اللہ اکبر کی گونج سے در و دیوار ہلنے لگے۔
جب مولانا کمرے میں داخل ہوئے تو تمام حاضرین سرو قد اٹھ کھڑے ہوئے اور بلا قصد انکی زبان سے بھی اللہ اکبر...
صفحہ 60
"مرزا پور پارک کے ایک جلسہ میں نوٹ لینے کے لیے مقرر ہوا تھا، میں نے نوٹ لیے اور پندرہ جولائی 1921ء کو ڈپٹی کمشنر کی خدمت میں پیش کر دیئے۔"
"ملزم اس جلسہ کے صدر تھے، انہوں نے وہاں ایک تقریر کی تھی، میں نے اسکے صحیح نوٹ لیے تھے۔ یہ نوٹ اسی روز شام کو مسٹر گولڈی کے سامنے پیش کر دیئے...
صفحہ 59
ملزم نے اس جلسہ میں تقریر کی تھی، میں نے ان تقریروں کا نوٹ لانگ ہینڈ میں لیا۔ میں نے تقریر کے صرف انہی حصوں کا صحیح نوٹ لیا جنہیں میں نے ضروری سمجھا تھا۔ میں کلکتہ یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ اور بی-ایس-سی ہوں۔ میں اردو سمجھتا ہوں۔ تقریباً 10 اور 12 ہزار کے درمیان جلسہ میں لوگوں کا مجمع...
صفحہ 58
اور ہندی کا مترجم ہے اور الہ آباد یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ ہے۔"
سرکاری وکیل۔ "پہلی جولائی کی اردو تقریر ذرا دیکھو؟"
گواہ۔ "میں نے ہی اسکا ترجمہ کیا تھا، اس پر میرا دستخط موجود ہے، میں نے حتی الامکان اسکا بہتر ترجمہ کیا ہے۔"
سرکاری وکیل۔ "دوسری تقریر کو بھی دیکھو جو 15 جولائی کی...
صفحہ 57
یہاں مجسٹریٹ نے مولانا کو مخاطب کر کے کہا: "کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے لیے گواہی کا ترجمہ کرایا جائے؟"
جواب میں مولانا نے فرمایا۔ "مجھے کسی ترجمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر عدالت کو ضرورت ہو تو وہ خود ایسا کر سکتی ہے۔"
مجسٹریٹ۔ "تو کیا آپ انگریزی سمجھتے ہیں۔"
مولانا۔ "نہیں"...
صفحہ 56
جواب۔ "ہاں، یکم اور 15 جولائی 1921ء کو۔"
سوال۔ "کیا یہی سینکشن تمھیں ملا تھا؟"
جواب۔ "ہاں"
سوال۔ "کیا اسی کے ذریعہ سے تمھیں مولانا ابوالکلام آزاد کو گرفتار کرنے کے لیے حکم دیا گیا تھا؟"
جواب۔ "ہاں"
سوال۔ "کیا اس پر گورنمنٹ آف بنگال کے چیف سیکرٹری کا دستخط ثبت ہے؟"
جواب۔...