نتائج تلاش

  1. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    پتھر کی لڑکی اگر میں پتھر کی لڑکی ہوتی تو اپنے پیکر کی سبز رت پر بہت سی کائی اگایا کرتی بہت سے تاریک خواب بنتی تو میں اذیت کی ملگجی انگنت اداسی کے رنگ چنتی اگر میں پتھر کی لڑکی ہوتی میں اپنے پلو میں سوگ باندھے کسی کو ان کا پتہ نہ دیتی اجالے کو ٹھوکروں میں رکھتی خموشیوں کے ببول...
  2. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    سنہرا لہجہ نیلگوں فضاؤں میں شور ہے بپا دل میں شدتوں کے موسم کی چاہتیں سوا دل میں حبس ہے بھرا دل میں میں اداس گلیوں کی اک اداس باسی ہوں بادلوں کے پردے سے واہموں کو ڈھکتی ہوں خوشبوئیں گلابوں کے جسم سے نکلتی ہیں روشنی کی امیدیں کونپلوں پہ چلتی ہیں پھر بہار آنے سے پہلے ٹوٹ جاتی ہیں...
  3. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    پگلی سپنے بنتے نیناں پر ہونٹ جب اپنے رکھ دوگے دھیرے دھیرے سرگوشی میں کانوں سے کچھ کہدوگے اور میں۔۔۔ آنکھیں موندے موندے کروٹ اپنی بد لوں گی گہری نیند کو شوخ ادا سے چپکے چپکے کھولوں گی آنچل میں چہرے کو چھپا کر کَن اَکھیوں سے دیکھوں گی چاند کی چوڑی سے کرنیں چھن چھن،چھن چھن ٹوٹیں...
  4. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    دریائےنیل اپنا رستہ ڈھونڈنا اکثر اتنا سہل نہیں ہوتا ہے لوگوں کے اس جنگل میں چلنا سہل نہیں ہوتا ہے یہ تو کوئی جگنو ہے جو لے کر روشن سی قندیل کبھی کبھی یوں راہ بنائے جیسے ہو دریائےنیل ۔۔۔۔ !!!
  5. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    دو سیاہ آنکھیں بڑی بڑی دو سیاہ آنکھیں تمہارے چہرے میں کھوگئی ہیں تمہاری آواز چلتے چلتے یہ چاہتی ہیں کہ اب عبادت صبح ہو یا شام ہو مگر ہو تمہارا چہرہ ۔۔۔ تمہارا چہرہ جو نیلگوں لہر میں ڈبودے مجھے ڈبو دے، مجھے ڈبو دے مرے بدن کے تمام کانٹے چنے اور اپنے بھی پاؤں رکھ دے وفا کے ٹھنڈے سے...
  6. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    کوئی اگر مر جائے تو کڑی دھوپ میں چلتےچلتے سایہ اگر مل جائے ۔۔۔ تو ! اک قطرےکو ترستےترستے پیاس، اگر بجھ جائے ۔۔۔ تو ! برسوں سے خواہش کےجزیرے ویراں ویراں اُجڑے ہوں اور سپنوں کےڈھیر سجا کر کوئی اگر رکھ جائے ۔۔۔ تو ! بادل ،شکل بنائیں جب نیل آکاش پہ رنگوں کی اُن رنگوں میں اس کا چہرہ...
  7. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    جانےکہاں پہ دل ہےرکھا! آج کا دن بھی پھیکا پھیکا کھڑکی سےچھپ کرتکتا ہے میں ہاری یا وہ ہے جیتا روز کا ہی معمول ہے یہ تو کل بھی بیتا آج بھی بیتا درد بھی ویسا ہی بلکل ہے تھوڑا تھوڑا ، میٹھا میٹھا چولھا، چوکا، جھاڑو، پونچھا سب کچھ کر بیٹھی تب سوچا ہر شے پونچھ کے جھاڑ کے دیکھا جانےکہاں...
  8. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    اب کےٹس سےمس نہیں ہونا اب کے ٹس سے مس نہیں ہونا ہوا کے زور پر بے دھڑک لکھے وہ ان پتوں پہ رائے بے حساب نیلمیں نیناں میں جلتے بجھتے ہیں نیلے چراغ خالی کمرے میں چلے آتے ہیں سائے بے حساب
  9. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    دل سےمت روٹھ مرے دل سےمت روٹھ مرے دیکھ منالے اس کو کھو نہ جائے کہیں سینے سے لگا لے اس کو وہ مسافر اسے منزل کی طرف جانا تھا اس لئے کردیا رستے کے حوالے اس کو مدتوں وجد میں رہتے ہوئے دیوانے کو ہوش آیا ہے تو ہر بات سنالے اس کو کس لئے اب شبِ تاریک سے گھبراتی ہوں خود ہی جب بخش دیئے سارے...
  10. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    اداسیوں کےعذابوں سے پیار اداسیوں کےعذابوں سے پیار رکھتی ہوں نفس نفس میں شبِ انتظار رکھتی ہوں یہ دیکھ کتنی منور ہے میری تنہائی چراغ، بامِ مژہ پر ہزار رکھتی ہوں نہ چاند ہے نہ ستارہ نہ کوئی جگنو ہے نصیب میں کئی شب ہائےتار رکھتی ہوں کہاں سے آئےگا نیلے سمندروں کا نشہ میں اپنی آنکھ میں غم کا...
  11. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    رات بھر دیکھے رات بھر دیکھے پہاڑوں پہ برستے موسم لالہ رُو بھیگے کناروں پہ سلگتے موسم رات کے خالی کٹورے کو لبا لب کرکے کس قدرخوشبو چھڑ کتے ہیں بہکتے موسم شام ہوتی ہے تو پھر گیت جگا دیتے ہیں پائلوں میں کسی گھنگھرو کے کھنکتے موسم شوخ بوندوں کی طرح جا کے اٹک جاتے ہیں جسم کی کوری صراحی پہ...
  12. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    مرجھائےہوئے جسم مرجھائے ہوئے جسم سجا کیوں نہیں دیتے سورج سے بچانےکی ردا کیوں نہیں دیتے کَن اکھیوں سےدیکھوگے فضاؤں میں کہاں تک تم سوکھی زمینوں کو د عا کیوں نہیں دیتے کٹیا میں پلٹ آئے گی سنیاس اٹھائے تم اپنی پجارن کو پتا کیوں نہیں دیتے ویران روش کو بھی سجاوٹ کی طلب ہے تم شاخ گلابوں کی...
  13. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    جسے ڈبو کے گیا تھا جسے ڈبو کے گیا تھا حباب پانی میں لہر وہ کھاتی رہی پیچ و تاب پانی میں کبھی تو تارِ رگِ جاں بھی چھیڑ کر دیکھو بجانے جاتے ہو اکثر رباب پانی میں تری نگاہ بہت ہے مرے لئے ساقی نہ گھول مجھ کو بنا کر شراب پانی میں خبر چھپی ہے جو لڑکی کی وہ نئی تو نہیں اُتر گئی تھی جو ہو کر...
  14. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    ستارہ ایک ستارہ ایک چلو آسماں سے ٹوٹ گیا پیالہ حادثہء ناگہاں سے ٹوٹ گیا سفر کی آخری منزل پہ جانے والےگئے چلا تھا ساتھ کہاں پر کہاں سےٹوٹ گیا سمجھ میں کیوں نہیں آتا یہ کیا معمہ ہے یقیں کا رشتہ اچانک گماں سے ٹوٹ گیا جو دل کے غار میں تعویذ لکھ کے رکھتا تھا اُسی کا رابطہ تسبیح خواں سے ٹوٹ...
  15. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    خوشبوؤں سے کلام خوشبوؤں سے کلام مت کرنا شہر میں دیکھ شام مت کرنا تتلیاں،پھول،خو اب،خوشبو تم اب کبھی میرے نام مت کرنا اپنے آنچل میں رنگ سب بھرنا رنگ یکسا ں تمام مت کرنا فون پر تم ملے ہو مشکل سے گفتگو کو تما م مت کرنا آنسوؤں کی شفق ہےآنکھوں میں کہہ کے لوگوں میں عام مت کرنا میرے اعزاز...
  16. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    گر میں دریا کے پا س گر میں دریا کے پا س آؤں گی ڈر بھی لگتا ہے ڈوب جاؤں گی تیرے اشکوں کے قیمتی موتی میں گلو بند میں جڑاؤں گی میرے جگنو سے پر سلامت ہیں میں تمہیں راستہ دکھاؤں گی ناریل کی سفید قاشوں سے روپ کی چاندنی بچھاؤں گی دشتِ جاں میں فراق کے خیمے روز لگواؤں گی ، گراؤں گی اپنے بچوں...
  17. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    کبھی بدلی سجیلی د ھوپ کو کبھی بدلی سجیلی د ھوپ کو آ کر بھگوتی ہے کبھی پروائی یادوں میں حسیں موتی پروتی ہے انھیں زینوں پہ چڑھتے پہلے کیسی کھنکھناتی تھی نگوڑی پائل اب جو پاؤں میں کانٹے چبھوتی ہے بچھڑتے وقت اندازہ نہ تھا اتنی خزاؤں کا نہ جانے سادہ دل لڑکی ابھی کیا اور کھوتی ہے اسے چھم چھم...
  18. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    ان آنکھوں کو سپنے ان آنکھوں کو سپنے دکھائے تو ہوتے کبھی تم نے دیپک جلائے تو ہوتے قدم روکتا کب سیہ پوش جنگل امیدوں کے جگنو اڑائے تو ہوتے پہنچتی اتر کرحسیں وادیوں میں پہاڑوں پہ رستے بنائے تو ہوتے سمندر کو صحراؤں میں لے کے آتی کچھ انداز اپنے سکھائے تو ہوتے لئے میں بھی کچا گھڑا منتظر...
  19. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    چھائی ہوئی ہیں چھائی ہوئی ہیں یاس کی گہری خموشیاں کب تک رہیں گی نصب یہ قبروں پہ تختیاں سوکھے ہوئے درخت پہ بارش کا تھا کرم نشے سے بھر گئیں مرے گلشن کی ڈالیاں حالات نے جو بیج مرے دل میں بوئے ہیں پھوٹا کریں گی ان میں سے شبنم کی بالیاں احساس تک نہیں تمہیں جھونکا اداس سا اک بار تم کو چھونے...
  20. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    مری خامشی میں مری خامشی میں بھی اعجاز آئے کسی سمت سے کو ئی آ واز آئے وہ چہر ہ نہ جانے کہاں کھو گیا ہے کہیں سے کبھی کوئی دم ساز آئے کسی نے تر اشا نہ اس دل کا پتھر مرے شہر میں کتنے بت ساز آئے وہ اڑ جائے نیلی رگوں سے نکل کر مرے درد کو اتنی پرواز آئے سزا بےگناہی کی میں کاٹتی ہوں کہاں مجھ...
Top