اداسیوں کےعذابوں سے پیار
اداسیوں کےعذابوں سے پیار رکھتی ہوں
نفس نفس میں شبِ انتظار رکھتی ہوں
یہ دیکھ کتنی منور ہے میری تنہائی
چراغ، بامِ مژہ پر ہزار رکھتی ہوں
نہ چاند ہے نہ ستارہ نہ کوئی جگنو ہے
نصیب میں کئی شب ہائےتار رکھتی ہوں
کہاں سے آئےگا نیلے سمندروں کا نشہ
میں اپنی آنکھ میں غم کا...