ملےگی میری بھی کوئی نشانی
ملےگی میری بھی کوئی نشانی چیزوں میں
پڑی ہوئی ہوں کہیں میں پرانی چیزوں میں
مرے وجود سے قائم ہیں بام و در میری
سمٹ رہی ہے مری لامکانی چیزوں میں
لپک رہا ہے میری سمت نقرئی بازار
مچل رہی ہے کوئی شادما نی چیزوں میں
یہ خوشنما ئی لہو کے عوض خریدی ہے
گھلا ہوا ہے نگاہوں...