نتائج تلاش

  1. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    تاش کےگھر تاش کےگھر بنائے بیٹھی ہوں کانچ کے پر لگائے بیٹھی ہوں رسمِ یاراں کو توڑنا ہوگا حوصلے یوں بڑھائے بیٹھی ہوں ہر طرف ڈھل رہے ہیں اندھیارے دل کا دیپک جلائے بیٹھی ہوں گھونسلے وہ پرند چھوڑ گئے آس جن کی لگائےبیٹھی ہوں یاد زنجیر بن نہ جائےکہیں پاؤں اپنے اُٹھائے بیٹھی ہوں میں ستارہ...
  2. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    خوشیوں پہ وبالوں کا گماں خوشیوں پہ وبالوں کا گماں ہونےلگا ہے جانسوز خیالوں کا گماں ہونے لگا ہے ڈرتی ہوں کہ آنسو نہ جوابوں میں امڈ آئیں آنکھوں میں سوالوں کا گماں ہونے لگا ہے ان اونچی اڑانوں سے معلق ہوں فضا میں پھر مجھ کو زوالوں کا گماں ہونے لگا ہے اک روز گزرتا ہے کچھ اس حال میں میرا اک...
  3. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    زخم یادوں کے زخم یادوں کے نہیں مٹتے ہیں آسانی سے داغ دھلتے ہیں کہاں بہتے ہوئے پانی سے دیکھتی جاتی ہوں میلے کا تماشہ چپ چاپ کیا پتہ بول پڑے آنکھ ہی ویرانی سے روشنی کا یہ خزانہ مری آنکھیں ہی نہ ہوں شمع تو میں نے بجھادی ہے پریشانی سے میرےچہرے میں جھلکتا ہے کسی اور کا عکس آئنہ دیکھ رہا ہے...
  4. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    ملےگی میری بھی کوئی نشانی ملےگی میری بھی کوئی نشانی چیزوں میں پڑی ہوئی ہوں کہیں میں پرانی چیزوں میں مرے وجود سے قائم ہیں بام و در میری سمٹ رہی ہے مری لامکانی چیزوں میں لپک رہا ہے میری سمت نقرئی بازار مچل رہی ہے کوئی شادما نی چیزوں میں یہ خوشنما ئی لہو کے عوض خریدی ہے گھلا ہوا ہے نگاہوں...
  5. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    اپنی صدا سے اپنی شناسائی اپنی صدا سے اپنی شناسائی کھو گئی تنہائیوں کے شور میں تنہائی کھو گئی سینے میں گھٹ رہی ہے محبت کی سانس سانس چلتی تھی میرے گھر میں جو پروائی کھو گئی بارات دیکھ کر کسی گھبر و کی رات کو سسکاریوں کےشور میں شہنائی کھو گئی دریافت آسمان کی بھائی نہیں ہمیں سیارے دیکھتے...
  6. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    پاس منزل کےپہنچ کر پاس منزل کے پہنچ کر کوئی موڑا نہ کرے آدھے رستے میں ہمیشہ مجھے چھوڑا نہ کرے بھیک کی طرح وہ دیتا ہے رفاقت مجھ کو اتنا احسان میری جان پہ تھوڑا نہ کرے ٹوٹ کر چور اگر ہوگئی جڑنے کی نہیں کوئی طعنوں سے انا کو مری پھوڑا نہ کرے وہ حفاظت نہیں کرتا نہ کرے رہنے دو زخم سے میرے...
  7. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    ابر بھی جھیل پر برستا ہے ابر بھی جھیل پر برستا ہے کھیت اک بو ند کو ترستا ہے درد سہہ کر بھی ملتی ہے تسکین وہ شکنجہ کچھ ایسے کستا ہے اس کی مرضی پہ ہے عروج و زوال بخت ساز آسماں پہ بستا ہے احتیاطاً ذر ا سا دور رہیں اب تو ہر ایک شخص ڈستا ہے ہم بھی جوہر شناس ہیں جاناں دل کا سودا بھی کوئی...
  8. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    وہ مور پنکھ سے وہ مور پنکھ سے ہر زخم جھلنے جائے گا سلگتی آگ سے ز ندہ نکلنے جائے گا رکی رکی ہے پتنگوں کی سانس آج کی رات تھرکتی شمع پہ اب کون جلنے جائے گا دلوں کےسب در و دیوار توڑ کر یہ وقت محل کو اور کھنڈر میں بدلنے جائے گا خزاں جب آئے گی تو پھول پھول کا جوبن کہاں بہار کے سانچے میں...
  9. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    مرےگھر میں محبت مرےگھر میں محبت خوبصورت شام آنے دے سنہری ریت کے صحراؤں کا پیغام آنے دے طواف اس پر بھی تو واجب ہے نیناں کعبہء دل کا ٹہر جا تو اسے بھی اس طرف دو گام آنے دے
  10. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    چھلکا چھلکا رہتا ہے چھلکا چھلکا رہتا ہے درد سے بھرا ساون پیار کے لئے لمحہ بھول جانے کو جیون خوش جمال نے کیسی آگ میں جلا یا ہے میں تو جیسے بھٹی میں تپ کے ہوگئی کندن جو چھپا ہے زلفوں کی کالی کالی بدلی میں ڈس نہ لے کہیں اس کو پاس جاکے یہ ناگن دھل گئی دھنک ساری بارشوں کی جھڑیوں میں جھلملا...
  11. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    نرم گرم شاموں کو نرم گرم شاموں کو بھول بھول جاتی ہوں دل پہ لکھے نامو ں کو بھول بھول جاتی ہوں بھیجنےکسی کو ہو ں پھول ، کا رڈ، تصویریں میں ضروری کاموں کو بھول بھول جاتی ہوں روشنی ہو ، رعنائی، رنگ ہو کہ خوشبو ہو سب حسیں مقاموں کو بھول بھول جاتی ہوں صاف استعاروں کو مستند اشاروں کو پیار کے...
  12. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    اُس نے نرم کلیوں کو اُس نےنرم کلیوں کو روند روند پاؤں سے تازگی بہاروں کی چھین لی اداؤں سے بھیج اپنے لہجے کی نرم گر م کچھ تپش برف کب پگھلتی ہے چاند کی شعاؤں سے پاؤں میں خیالوں کے راستے بچھائے ہیں آج ہی چرانے ہیں پھول اس کے گاؤں سے دور دور رہتی ہے ایک غمزدہ لڑکی ہجر توں کی راہوں سے وصل...
  13. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    سب اختیار اس کا ہے سب اختیار اس کا ہے کم اختیار میں شاید اسی لئے ہوئی بے اعتبار میں پھرتی ہےمرے گھر میں اماوس کی سرد رات دالان میں کھڑی ہوں بہت بےقرار میں تھل سےکسی کا اونٹ سلامت گزر گیا راہِ وفا میں رہ گئی مثل غبار میں انگلی میں رہ گئی ہے انگوٹھی گِھسی ہوئی لاؤں کہاں سے اب وہی نقش...
  14. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    زلف کو صندلی جھونکا زلف کو صندلی جھونکا جو کبھی کھولے گا جسم ٹوٹے ہوئے پتے کی طرح ڈولے گا بادشاہوں کی طرح دل پہ حکومت کرکے وہ مجھے تاش کے پتوں کی طرح رولے گا جنبش لب سے بھی ہوتا ہے عیاں سب مطلب وہ مری بات ترازو میں مگر تولے گا کسی برگد کی گھنی شاخ سے دل کا پنچھی میری تنہا ئی کو دیکھے...
  15. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    چٹانوں سے وہ ٹکر ا کر چٹانوں سے وہ ٹکر ا کر گری ہے آبشاروں میں رہی ندیا مگر قیدی ہمیشہ دو کناروں میں کھلی ہے کاغذی پھولوں کی شادابی درختوں پر چھپی ہےمیرے اندر کی خزاں فرضی بہاروں میں کہیں بھیگے ہوئے جھونکے کلی کو چوم جاتے ہیں کہیں بپھری ہوئی پاگل ہوا ہے آبشاروں میں کبھی ہم نیل کے...
  16. قیصرانی

    سوال گندم جواب چنے

    کسی ٹریفک پولسئے سے پوچھتے ہیں۔ محبت کیا ہے؟ بےبی ہاتھی
  17. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    کوئی سرگوشیوں سے کوئی سرگوشیوں سے کیوں بولے میری خاموشیوں سے کیوں بولے میں خزاں رنگ ہوں ہمیشہ سے جسم خوش پوشیوں سے کیوں بولے در و دیوار تم بھی چپ رہتے مصلحت کوشیوں سےکیوں بولے سب کو یہ فکر ہے سرِ محفل دل طرب جوشیوں سےکیوں بولے سونا اپنی جگہ پہ سونا ہے کھوٹ،زر پوشیوں سےکیوں بولے ہے...
  18. قیصرانی

    کوئی اداسی، کوئی یاد؟

    سبحان اللہ بےبی ہاتھی
  19. قیصرانی

    سوال گندم جواب چنے

    کیونکہ یہ جب جذبات ہوں‌تو عقل گم ہو جاتی ہے۔ محبت اندھی کیوں ہوتی ہے؟ بےبی ہاتھی
  20. قیصرانی

    پروگرامنگ کوئز

    راجہ بھیا، ٹیچنگ کرتے کرتے کوڈنگ تو یاد نہیں رہی۔ لاجیک البتہ آتی ہے۔ باقی یہ تو بہت سمپل ہے۔ وہی کسی بھی کریکٹر کو ان پٹ لیں گے۔ باقی لوپ تو وہی ہوگی چاہے تو آسکی متبادل میں‌کر لیں۔ بےبی ہاتھی
Top