نتائج تلاش

  1. قیصرانی

    دولہا اور دلہنیں

    میرا خیال ہے کہ تاریخ‌ لکھنے کے چکر میں‌ تاریک لکھ گئے فرزوق بھائی۔ بےبی ہاتھی
  2. قیصرانی

    بل گیٹس 2008 تک مائیکروسوفٹ کی ذمہ داریوں سے سبکدوش

    جی زکریا بھائی، مجھے آپ کی تمام باتوں کا اعتراف ہے۔ درست کہا۔ ویسے سننے میں‌آیا تھا کہ جب پاکستان کا جب ٹوٹل بجٹ 5 ارب ڈالر تھا، تب بل گیٹس کی ایک چیریٹی کی مد 5 ارب ڈالر تھی (2000 سے قبل) بےبی ہاتھی
  3. قیصرانی

    [ زاویہ 2 ] تبصرے اور تجاویز

    ماشاء‌اللہ۔ آپ کے منہ میں‌گھی شکر شمشاد بھائی، اور ایک گولی ڈاؤنٍل کی بھی یا چاہیں تو انسولین کا ایک انجیکشن (نارمل لیتے ہیں کہ ن پ ہ) بےبی ہاتھی
  4. قیصرانی

    فرزانہ صاحبہ کی واپسی

    کوئی بات نہیں۔ کوشش کریں۔ باقی اب اتنا بھی سنجیدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بےبی ہاتھی
  5. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    ماں بڑا محروم موسم ہے تمہاری یاد کا اے ماں نجانےکس نگر کو چھوڑ کر چل دی ہو مجھ کو ماں! شفق چہروں میں اکثر ڈھونڈتی رہتی ہوں میں تم کو کسی کا ہاتھ سر پہ ہو تو لگتا ہے تم آئی ہو کوئی تو ہو جو پوچھے کیوں ترے اندر اداسی ہے مرے دل کے گھروندے کی صراحی کتنی پیاسی ہے مجھے جادوئی...
  6. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    ناریل کا پیڑ ساحل کے پاس تنہا اک پیڑ ناریل کا اک خواب ڈھونڈھتا ہے یادوں میں بھیگا بھیگا آنچل سے نیلے تن میں آکاش جیسے پیاسے سیپوں کے ٹوٹے پھوٹے خالی پڑے ہیں کاسے وہ ریت بھی نہیں ہے جس پر لکھا تھا تم نے ساگر سکوت میں ہے لہریں بھی سو رہی ہیں اک قاش بے دلی سے بس چاند کی پڑی ہے...
  7. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    تنہائیوں‌کی دھوپ مجھے تنہائیوں کی دھوپ میں چلنے کی عادت ہے کوئی بھی کیفیت دل میں زیادہ دیر کب اتری وہی تو جانتا ہے منتظر تھی کب سے میں اس کی سوالِ خامشی کے گرم میلوں کی دوپہروں میں وہ آنکھیں جانتی ہیں دیر تک اس بند مٹھی میں میں اس بہتے ہوئے پانی کو روکے رہ نہیں سکتی خراشیں دُکھ...
  8. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    کبھی تم بھی کبھی تم بھی ہم کو ہی سوچنا رہا دل کہاں ،کبھی کھوجنا کبھی اُڑتے پنچھی دبوچنا کبھی خود کھرنڈ کو نوچنا کبھی جب شفق میں ہنسی کھلے کسی نین جھیل میں خوں ملے تو اداس چاند کو دیکھنا کوئی رخ اکیلے ہی ڈھونڈنا یہ رُتیں جو دھیرے سے چھوتی ہیں ہمیں خوشبوؤں سے بھگوتی ہیں یہ رُتیں نہ...
  9. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    سوندھی خوشبو سوندھی مٹی کی یہ صراحی قطرہ قطرہ گونج رہی ہے بھیگی بھیگی شبنم کی رم جھم کرتی جھنکاروں سے جب بھی کوئی پیاس بجھانے اوک میں پانی بھرتا ہے جانے کیسے چوری چوری پار، سمندر کرتا ہے سوندھی سوندھی خوشبو اس کی روح کے پار اُترتی ہے دور۔ ۔ ۔ بہت ہی دور جزیروں میں جو تارے گرتے...
  10. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    پہلی خوشی میلہ ہے بستی میں دو دن رات بھی ناچے جھومے دن جھولے والے دور دور سے لائے ہیں تہوار کھٹ مٹھےجذبوں سے مہکا مہکا ہے بازار شیشے کے صندوق میں چوڑی والا خواب سجا کر لایا اپنی چونچ میں اک طوطے نے جانے کس کا حال دبایا رس گنے کا ٹپ ٹپ کر کے رستا جائے مشینوں سے اونٹوں کے کوہانوں پر...
  11. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    تمہاری یاد سونی سونی خالی خالی اک سرمئی حویلی میں راگ۔ ۔ ۔ ستار نے چھیڑا ہے اک جلتی مشعل لے کر شب ۔ ۔ ۔ ملنےکو آئی ہے فانوسوں کی چھن چھن ،چھن میں جھلمل جھلمل چاندنی پر رقص ہوا کا جاری ہے سوکھی چنبیلی کی اک بیل خستہ ستون سے لپٹی ہے اور تھرکتی لَو کا رنگ لےکر لاکھوں ننھے دیپ...
  12. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    فقط اک پھول پرندے لوٹتے دیکھے تو یہ دھوکا ہوا مجھ کو کہ شاید جستجو میری یا کوئی آرزو میری ترے در سے پلٹ آئی مجھے تنہا بیاباں سے گزرتے لگ رہا ہے ڈر جدائی کے شجر کی اب حفاظت بس سے باہر ہے یہ پانی آنکھ سے گرتا اگر سیلاب ہو جائے یہ پیلی دھوپ، مہکی رُت سراب و خواب ہوجائے تو پھر...
  13. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    کب تم مجھ کو یاد کروگے؟ وقت کے الجھے الجھے دھاگے جب دل توڑ کے چل دیں گے پگڈنڈی پر پیلے پتے تم کو تنہا دیکھیں گے پیڑوں کےسینے پر لکھے نام بھی ہوجائیں تحلیل اور ہوا بھی سمت کو اپنی کر جائے تبدیل بھینی بھینی خوشبو ہم کو ہر اک گام پکارے گی کر کے یخ بستہ جب ہم کو برف اس پار سدھارے گی...
  14. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    ٹوٹے پر چڑیاں درختوں سے ہرے پتے ہوا کیوں نوچ لیتی ہے۔۔۔! وہ ان چڑیو ں کے ٹوٹے پَر کہاں پر بیچ دیتی ہے۔۔۔! انھیں جو مول کوئی لے دکھوں سے تول کوئی لے اگر دل میں یہ چبھ جائیں۔۔۔ تو گہرے نقش کھب جائیں اگر ہم وقت سے چھپ کر کہیں بے وقت ہو جائیں اور ان چڑیوں کی صورت ۔۔۔ وقعت اپنی ہم...
  15. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    وہ پیلے پیڑ کیوں روئے مسافر تم ذرا سوچو یہ اجلی دھوپ جاتے پل وہ پیلے پیڑ کیوں روئے! گلابی پھول کھلتے پل وہ پیلے پیڑ کیوں روئے! گھنیری شام اپنی زلف کے سائے میں چھپتی ہے سمندر، بند آنکھوں سے اگر اپنے پپوٹوں میں کبھی لبریز ہوتا ہے اگر سوچوں کی لہریں رفتہ رفتہ ٹوٹ جاتی ہیں تو قسمت کے...
  16. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    آخری خواہش ندی کنارے خواب پڑا تھا ٹوٹا پھوٹا، بےسد ھ ‘ بیکل لہریں مچل کر اس کو تکتیں سانجھ سویرے آ کر پل پل سیپی چنتے چنتے میں بھی جانے کیوں چھو بیٹھی اس کو یہ احساس ہوا کہ اُس میں روح ابھی تک جاگ رہی ہے ہاتھ کو میرے اس کی حرارت دھیرے دھیرے تاپ رہی ہے تب آغوش میں اس کو اُٹھایا...
  17. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    بغیر انجام کی منزل بہت گہرا کنواں ہے اور۔ ۔ ۔ زنگ آلود میرا ڈول بہت محتاط ہو کر تہہ میں اس کو میں نے ڈالا تھا مگر میں کیا بتاؤں۔ ۔ ۔ اب کی بار اس نے بھرا ہے کیا بہت سے گرم گرم آنسو بہت ہی خشک خشک آہیں نہایت اَن چھوئی خواہش بہشتی منظروں کے خواب کسی کی مسکراہٹ کھوکھلی سی پھیکی...
  18. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    گہر ساز سنہرے بالوں کی نرم خوشبو جو شبنمی موتیوں سے میں نے سلگ سلگ کر اتار دی ہے اداسیوں کے چمکتے جھمکوں کی آب کتنی سنوار دی ہے جلا کے کندن کا ہار کی ہے میں شوخ گردن کے گرد اب تک تمھارا ریشم سا لمس لے کر ہزاروں گرہیں بنا رہی ہوں نجانے کب سے بلا رہی ہوں بہت ہی وہمی بہت ہی سہمی مجھے...
  19. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    خوشبو کل ملبوس نکالا اپنا ہلکا کاسنی رنگت کا دھڑ سے کھول کے دل کے پٹ کو خوشبو سن سن کرتی آئی جیسے نیل کنارے پر لہراتا اک چنچل آنچل جیسے سرد اماوس میں کُرتا جھلمل تاروں کا جیسے سرخ گلابوں کی رم جھم کے پھندنے کلیاں جیسے رات کی رانی بن کے جھالر سر سر کرتی ہو جیسے چمبیلی چمپا کے...
  20. قیصرانی

    درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

    چاندنی کے ہالے میں چاندنی کے ہالے میں کس کو کھوجتی ہو تم چھپ کے یوں اداسی میں کس کو سوچتی ہو تم بار بار چوڑی کے سُر کسے سناتی ہو شور سے صدا کس کی توڑ توڑ لاتی ہو بزم میں بہاروں کی کھوئی کھوئی لگتی ہو دوستوں کے مجمع میں کیوں اکیلی رہتی ہو موج موج بہتی ہو آنسوؤں میں رہتی...
Top