نتائج تلاش

  1. محمد وارث

    کھلے رنگ شباباں دے نیں

    آصف ایناں خرچ نیئں کردے ایہہ تے کم نواباں دے نیں مقطع شاید تساں ایس لئی نیں لکھیا کہ کوئی شاعر نوں پہچان نہ لئے :) ایہہ خوبصوت کلام ساڈی سوہنی محفل دے سوہنے شاعر جناب آصف شفیع ہوراں دا اے۔
  2. محمد وارث

    کیا سروکار ہمیں رونقِ بازار کے ساتھ - سعداللہ شاہ

    شکریہ عمران صاحب خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے!
  3. محمد وارث

    نوشتہِ دیوار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح

    بہت خوبصورت غزل ہے صبیح صاحب، لا جواب، واہ واہ واہ کیا خوبصورت اشعار ہیں: کارواں یونہی بھٹکتا رہے ہربار صبیح نیک نیت نہ ہوں‌گرقافلہ سالار صبیح وہ جو ازخودہی بنے بیٹھے ہیں سردارصبیح وقت اک دن انہیں لائے گا سرِ دار صبیح سامنے آکے رہے سچ سرِبازار صبیح کوئی کتنا ہی کرے جھوٹ کا پرچار صبیح واہ...
  4. محمد وارث

    مستقبل قریب کے اخبارات سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظفر اقبال

    یہ ظفر اقبال صاحب کالم نگار بھی ہیں، بلکہ میرا ان سے پہلا تعارف برسوں پہلے ان کے کالموں کے حوالے سے ہی ہوا تھا جب یہ جنگ لاہور میں لکھتے تھے اور میں اخبارات پڑھا کرتا تھا :)
  5. محمد وارث

    رشتے سب مہرباں نہیں ملتے۔

    اوہ خدایا، اس طرف میرا دھیان ہی نہیں گیا، کبھی واسطہ جو نہیں پڑا اس طرح کے کام سے :)
  6. محمد وارث

    رشتے سب مہرباں نہیں ملتے۔

    اچھی کاوش ہے راجا صاحب! اچھے اشعار ہیں! اعجاز صاحب مطلع میں میرے خیال میں 'مہرباں رشتوں' سے مراد بے غرض رشتے ہیں جو مرورِ زمانہ سے شاید بدلتے جا رہے ہیں، اور زندگی کو دشت اور مہربان رشتوں کو شاعر نے سائبان سے تشبیہ دی ہے اور کیا خوب بات ہے مجھے تو پسند آیا مطلع :) اور یہ شعر بہت اچھا ہے راجا...
  7. محمد وارث

    تو نے سمجھا ہی نہیں۔۔۔ ثناءاللہ شاہ

    بہت خوبصورت اشعار ہیں واہ واہ!
  8. محمد وارث

    جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ہے

    آپ یہاں ہوتے تو اس 'فور ان ون' ہوتے بھی دیکھ لیتے :)
  9. محمد وارث

    صحیح لفظ کیا؟ تقویٰ یا تقوے؟

    میرے خیال میں بھی الف مکسورہ کو اسی طرح لکھا اور پڑھا جاتا ہے، یعنی تقویٰ تو ہر حال میں صحیح ہے، جہاں تک مذکورہ مصرعے کی بات ہے تو شاعر نے 'زہد و تقویٰ' کی جو ترکیب استعمال کی ہے وہ بھی اسی طرح استعمال ہوتی ہے!
  10. محمد وارث

    انپیج 3،02 یونیکوڈ فانٹس اسنیپس!

    بوٹیاں اس مرغی کی ہونگی جو ملاؤں کی ہوتی ہے :)
  11. محمد وارث

    غزل اور اس کی بحر

    راجا صاحب یہ مشہور و معروف غزل حکیم ناصر کی ہے۔ بحر: بحر رمل مخبون محذوف مقطوع افاعیل: فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن اجازتیں: پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ 'فعلاتن' بھی آسکتا ہے، آخری رکن 'فعلن' کی جگہ 'فَعِلن، فعلان اور فعِلان' بھی آسکتا ہے! یوں اس میں آٹھ وزن جمع ہو سکتے ہیں۔ اشاری نظام: 2212...
  12. محمد وارث

    فارسی شاعری خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ

    رباعی مُنعِم ھمہ کسبِ مال و زر می دانَد زاہد ھمہ اورادِ سحر می داند عارف ہنرِ معرفت آموختہ است خوش بخت کسے کہ ایں ہنر می دانَد (اہلی شیرازی) مالدار صرف مال و زر کے کاروبار جانتا ہے، زاہد فقط صبح کے ورد وظائف ہی جانتا ہے، عارف (جاننے والے) نے معرفت کا سبق پڑھا ہے، خوش قسمت ہے وہ کہ جو یہ ہنر...
  13. محمد وارث

    خالد مسعود خان

    یہ اردو سن کر وہ نانی جی بھی بے اختیار ہنستی ہونگی، کیا معلوم وہ برزگ یہی چاہتے ہوں ;)
  14. محمد وارث

    بے رُخی پر تری ہم آج کُچھ ایسا روئے۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔ ش زاد

    اچھی غزل ہے شہزاد صاحب۔ مطلع، بالخصوص مصرعِ ثانی میری انتہائی ذاتی رائے میں مزید بہتر کہا جا سکتا تھا۔ بہت خوبصورت شعر ہے واہ واہ، لاجواب، بہت خوب: اُس کی تقدیر میں اتنا تو تبسُم لکھ دے یاد کر کے اُسے ہم دشت میں جتنا روئے یہ شعر بھی بہت اچھا ہے، بہت پسند آیا، لیکن اگر دلبر رو ہی رہا ہے...
  15. محمد وارث

    فارسی شاعری خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ

    نقشِ خسرو از دلِ سنگینِ شیریں شُستہ بُود کوہکن زاں قطرۂ آبے کہ اندر تیشہ داشت (غنیمت کُنجاہی) خسرو (پرویز) کا نقش شیریں کے سخت دل سے دھو دیا، فرہاد نے اس پانی کے قطرے کے ساتھ جو اسکے تیشے کے اندر تھا (تیشے کی چمک سے)!
  16. محمد وارث

    آج کا بلاگ - آپ کے بلاگ پر نئی پوسٹ کا اقتباس!

    حرمِ کعبہ میں ابوجہل کی روح کا نوحہ - جاوید نامہ از اقبال سے اشعار نوحہ روحِ ابوجہل در حرمِ کعبہ سینۂ ما از مُحمّد داغ داغ از دمِ اُو کعبہ را گل شُد چراغ ہمارا سینہ محمد (ص) کی وجہ سے داغ داغ ہے، اسکے دم (پھونک) سے کعبہ کا چراغ بجھ گیا۔ از ہلاکِ قیصر و کسریٰ سرُود نوجواناں را ز دستِ ما...
  17. محمد وارث

    اقبال کی ایک بھولی ہوئی غزل

    میرے خیال میں تو بالکل صحیح عنوان ہے، عوام الناس کو ان باتوں سے کیا :)
  18. محمد وارث

    فارسی شاعری خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ

    طریقت بجُز خدمتِ خلق نیست بہ تسبیح و سجّادہ و دلق نیست (سعدی شیرازی) طریقت، خدمتِ خلق کے سوا کچھ اور نہیں ہے، یہ تسبیح اور سجادہ اور گُدڑی سے (میں) نہیں ہے!
  19. محمد وارث

    ٹوٹ بٹوٹ کرے کیا یار۔ صوفی تبسّم

    مگر یہ خاکسار تو آپ کے فراق کی آگ میں جل، اپنی راکھ کا بھبوت رما، کب سے بیٹھا ہوا ہے، اب انتظار کون کرے ;)
Top