جاگیر
پھر اسی وادئ شاداب میں لوٹ آیا ہوں
جس میں پنہاں مرے خوابوں کی طرب گاہیں ہیں
میرے احباب کے سامانِ تعیش کے لیے
شوخ سینے ہیں، جواںجسم، حسیں بانہیں ہیں
سبز کھیتوں میں یہ دبکی ہوئی دوشیزائیں
ان کی شریانوںمیںکس کس کا لہو جاری ہے
کس میں جرات ہے کہ اس راز کی تشہیر کرے
سب کے لب پر مری ہیبت کا...