امید
وہ صبح کبھی تو آئے گی
ان کالی صدیوں کے سر سے، جب رات کا آنچل ڈھلکے گا
جب دکھ کے بادل پگھلیں گے، جب دکھ کا ساگر چھلکے گا
جب امبر جھوم کے ناچے گا، جب دھرتی نغمے گائے گی
وہ صبح کبھی تو آئے گی
جس صبح کی خاطر جگ جگ سے، ہم سب مر مر کر جیتے ہیں
جس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے...