لیکن سب پھولوں کے ساتھ تو کانٹے نہیں ہوتے نا۔
پھول سے لگاؤ ہو تو کانٹوں کو بھی برداشت کرنا سیکھنا چاہئیے۔ وہ بیچارے تو پھول کے گرد حفاظتی حصار بنائے ہوتے ہیں۔
معلوم نہیں لگے یا نہیں۔ بیج منگوائے ہیں کالے گلاب کے۔ جو پہلے ہمارے پاس ہے وہ جار میں بند ہے ڈھائی سال سے۔ اب اس کی پتیاں ایک ایک کر کے گرنے لگی ہیں۔
یہاں نہیں ملتا کالا گلاب۔ بہت ڈھونڈا۔ بیج بھی کسی اور ملک سے ملے ہیں۔
سماں بھی اور گفتگو بھی۔ ایسے لگتا ہے کہ بہت ساری خواتین ایک ساتھ بولنے میں لگی ہوں لیکن دھیمے دھیمے۔ اور مزے کی بات یہ کہ راجو اور انار کلی کی بھی دوستی ہے ان سے۔ باہر کھلے گھومتے رہتے اب تو۔
اگ تے جلی نئیں۔۔۔ حقہ کیویں تازہ ہو وی گیا۔
ہمیں بھی آتا ہے حقہ میں پہلے گڑ ، پھر اس کے اوپر تمباکو اور پھر ان پہ جلی ہوئی تھاپیاں رکھتے ہیں۔ حقے کے نیچے والے حصے میں پانی بھی ڈالتے ہیں۔