نتائج تلاش

  1. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 138 مسیتی جان: اس سے تو کمبخت کسی سے نکاح کر لیتی تو یہ مصیبت پیش نہ اتی۔ الٰہی جان: (مڑک کر کیونکہ وہ نکاح کر چکی تھیں اور کئی برس تک رہ کر نکلی) بنو ابھی تمہارے گالوں میں چاول ہیں، نکاح کرو تو جانو، یہاں تو ناک ہی پر خیر گزری۔ مگر وہاں تو جان کلے لیوا پیدا ہو جاتے ہیں۔ مسیتی جان...
  2. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 131( کتاب صفحہ129) آپ نے لکھا ہے بتا دوں گی، بتا دوں گی۔ اس تکرار نے مجھے بڑا مزا دیا۔ اچھا آپ دور نہیں ہیں، مجھ سے غلطی ہوئی۔ مگر یہ تو بتا دیجئے کس قدر پاس ہیں۔ آپ نے لکھا ہے بخدا میں آپ سے صاف طور سے ملتی ہوں، میرا دل آپ کی اس عنایت کا اس قدر شکر گزار ہے کہ میرا قلم اپنے رتبہ سے...
  3. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 126 جو آپ کا دل چاہے لکھیں۔ میں صرف اس بات کا مشتاق ہوں کہ جو کچھ آپ لکھیں دل سے لکھیں۔" میں اس تحریر پر لوٹ گئی اور خود میں نے ان کی لیاقت کی بہت تعریف کی اور نہایت بے تکلفی سے ان کے اگلے پچھلے حالات دریافت کئےاس طرح پر کہ وہ سمجھ جائیں کہ یہ مجھ سے استقلال سے ملنا چاہتی ہے اور اپنی...
  4. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 121 ہو گئی تھی کہ ہر وقت ہنستے ہنساتے رہتے تھے۔اور پولیس کی ڈانٹ ڈپٹ اور حکومت وکومت کچھ نہ جتاتے تھے۔ ایک روز مجھ سے فرمانے لگے کہ اگر سچ سچ بتا دو تو ایک بات پوچھوں۔ میں نے اقرار کیا ۔ مگر انھوں نے پھر بھی بڑے اصرار سے قسمیں لیں۔جب مجھے اچھی طرح اطمینان ہو گیا تو پوچھا "ایمان سے بتا...
  5. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 116 امین الرحمٰن سے ایک حبّہ طلب نہ کیا بلکہ اور اپنی طرف سے ان کی خاطر تواضع میں اٹھا دیتی تھی۔ گھر والے جلتے تھے مگر میرے آگے دم نہ مار سکتے تھے۔ امین الرحمٰن میری لڑکی سے جو اب ڈیڑھ برس کی ہو گئی تھی، محبت کرتے تھے اور اسے بھی ان کی ایسی آہٹ ہو گئی تھی کہ شام سے ماں ماں کہہ کر گھر...
  6. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 111 دو برس میں ہم نے تیس چالیس ہزار روپیہ کھینچ لیا اور کھاری باؤلی میں دکانیں بہرام خاں کے ترامے میں مکان اور سرکیوالوں میں کئی کوٹھے خرید لئے۔ تیسرے چوتھے مہینہ میں دس پندرہ دن کو دہلی آتی تھی تو میرے ساتھ ریاست کے اہلکار بھیجے جاتے تھے، اور لینے کو پھر بھی اکثر رئیس خود کسی نہ کسی...
  7. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 106 وہ کارخانہ دار جن کے ہاں میں مجرے میں گئی تھی اور اکثر جاتی تھی ان سے بڑے بڑے کام نکلتے تھے۔ میں نے بھی انھیں ہر طرح خوش کر دیا۔ مزاج پہچان لینا، باتوں باتوں میں میں دل نرم کر دینا، بے انتہا شرم و حیا کے پردے میں چدّر (چادر) چھپول کر کے لٹا دینا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو گیا۔ اور...
  8. گُلِ یاسمیں

    اسکین دستیاب شاہد رعنا

    ریختہ صفحہ 101 انھوں نے نواب کو آمادہ کر کے اسے بلایا ہو۔ اماں: اور رات کو وہ آئے بھی تو نہیں۔ (پھر استاد جی سے) جانا خانصاحب ذرا نواب کے پاس اور کہنا کہ تمہیں کھڑے کھڑے ان کی اماں نے بلایا ہے، ایسا ہی ضروری کام ہے، مگر خبردار ایک حرف نہ بتانا۔ اماں نے میری تسلی و تشفی کی اور کہا کہ " نواب کو...
  9. گُلِ یاسمیں

    بنا کے بلبلہ ہم اس کو پھوڑ دیں

    آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سمجھائیں بھی نا کہ کیسے
  10. گُلِ یاسمیں

    محفل دا پِنڈ

    برے بندے نوں میں لبن ٹریا پر برا لبا نہ کوئی جد میں اندر جھاتی پائی تے مے توں برا نہ کوئی
  11. گُلِ یاسمیں

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    حیران ہیں کہ حالات کیسے بہتر ہوں گے۔ اللہ پاک کرم فرمائیں ہم سب پر آمن۔
  12. گُلِ یاسمیں

    کوئی ایک اچھی سی بات جو آج آپ نے پڑھی شئیر کیجیے

    مانواں ٹھنڈیاں چھانواں اس بات کی اچھے سے سمجھ آ گئی ہے۔ جس کا پہلے کبھی احساس تک نہ ہوا تھا شاید یا احساس کرنے جیسا موقعہ نہ آیا تھا۔
  13. گُلِ یاسمیں

    محفل دا پِنڈ

    اسی وی آ گئے محفل دے پنڈ وچہ۔ ذرا تیان نال تے غور کر کے سنیو جے اسی پنجاب دے واسی لوگ،سجن ساڈا دل دریا ،ساڈی اکھ صحرا
  14. گُلِ یاسمیں

    صبح بخیر!

    آمین ثُم آمین صبح بخیر
  15. گُلِ یاسمیں

    تیرے آنے کے زمانے آئے

    پاکستانی جہاں بھی ہوں، وہاں مرلے بھی ہوتے ہیں اور مربّے بھی۔ مرلے زمین کی پیمائش کے لئے اور مربے پھلوں کے۔
  16. گُلِ یاسمیں

    تیرے آنے کے زمانے آئے

    صبح کے ٹائم ہوتا ہے کم ٹمپریچر۔۔۔ دن میں تو 18 سینٹی گریڈ رہا۔ یہ بہار نہیں، بہار کی شروعات ہے۔
  17. گُلِ یاسمیں

    ہری اور لال مرچیں

    ایمبولنس ہو یا بارات دونوں کو جلدی راستہ دے دینا چاہئے کیونکہ دونوں ہی زندگی کی جنگ لڑنے جا رہے ہوتے ہیں۔
  18. گُلِ یاسمیں

    ‘زلف‘

    پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں آرزو لکھنوی
  19. گُلِ یاسمیں

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    کیا ہی دلچسپ کام ہے۔ پھر محنت کے نتیجے میں جو رنگ برنگے پھول دیکھنے کو ملتے ہیں کہ ہر کلی، ہر پھول پتی کو دیکھ کر ماشاءاللہ اور سبحان اللہ ہی زبان پہ رہتا ہے۔
Top