مجھے ان جگہوں پر شبہ ہے۔
آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زميں
اس کو اگر یوں بھی کر دیا جائے
آسماں بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زميں
تب بھی بدلا کے بجائے بدلہ پڑھا جا رہا ہے
اس شعر کی کوئی کَل سیدھی نہیں ہے
جنوري، فروري اور مارچ ميں پڑے گي سردي
اور اپريل، مئي اور جون ميں ہو گي گرمي
بے سبب لوگ...