تمہاری قبر پر
میں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا
مجھے معلوم تھا
تم مَر نہیں سکتے
تمہاری موت کی سچی خبر
جس نے اڑائی تھی
وہ جھوٹا تھا
وہ تم کب تھے.
کوئی سوکھا ہُوا پتا
ہوا سے ہِل کے ٹُوٹا تھا
میری آنکھیں
تمہارے منظروں میں
قید ہیں اب تک
میں جو بھی دیکھا ہوں
سوچتا ہوں ، وہ وہی ہے
جو تمہاری نیک نامی
اور بدنامی...