محمود و ایاز والا فلسفہ تو نہ رہا۔
اس سے بہتر تھا کہ نماز ہی الگ پڑھ لیتے۔ ایک بڑی تعداد جسے سٹیڈیم کے باہر ہی روک لیا گیا، وہ بھی جنازے میں شریک ہو جاتی۔
علامہ اقبالؒ سے معذرت کے ساتھ:
اب صفیں رکھتے ہیں خادم کی جدا وقتِ نماز
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے افسر یہ مجاز
اب نہ وہ وقت ہے باقی نہ ہی محمود و ایاز
نہ ہی وہ بندہ رہا ہے جو کہ تھا بندہ نواز
آمین. جزاک اللہ.
سراسر محبت ہے آپ کی.
اللہ تعالیٰ نے انسان کی شخصیت میں ہر دو پہلو رکھے ہیں. اچھائی کا بھی اور برائی کا بھی. یہ ماحول اور صحبت کا اثر ہوتا ہے جو ایک پہلو کو اجاگر کر دیتا ہے اور دوسرے کو چھپا دیتا ہے.