ہاں نا اب کیا ہو سکتا ہے بھلا۔۔۔ اب تو لکھ ہی ڈالی۔۔۔ اور کیا خوب لکھی۔
وہی تو۔۔۔ ہمارا منا سا مراسلہ دب کے رہ گیا ۔۔۔ ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں۔۔۔ کی مانند ۔
اوہ اب معلوم ہوا کہ انھیں سنگھاڑا کیوں کہا جاتا ہے۔۔۔
سینگوں جیسی شکل لگ رہی ہے ان کی تو۔
محمداحمد بھائی۔۔۔۔ ان کے کھانے سے سینگ تو نہ نکلتے ہوں گے نا؟
سوپ کے جیسے استعمال کیجئیے۔ اور پکاتے ہوئے اس میں ایک دو گاجریں بھی کدو کش کر کے ڈال لیجئیے۔
ہاں بغیر تڑکے کے کھانی ہے تو آپ کی مرضی ورنہ ہماری طرح لہسن ادرک اور زیرے کا تڑکا لگا سکتے ہیں دیسی گھی کے ساتھ۔
مزے کی نہ لگے تو پیسے واپس۔