کہا آپ کا بجا ہی سہی
ہم بےقدر بے وفا ہی سہی
بڑے شوق سے یہ چھوڑ کر
مگر صحن گلشن سے یوں توڑ کر
پھول آہستہ پھینکو
ہووووو
پھول آہستہ پھینکو پھول بڑے نازک ہوتے ہئں
ویسے بھی تو یہ بدقسمت نوک پہ کانٹوں کی سوتے ہیں
پھول آہستہ پھینکو
یہ دنئا یہ محفل میرے کام کی نہیں
میرے کام کی نہیں
اپنا پتہ ملے نہ خبر یار کی ملے
دشمن کو بھی نہ ایسی سزا پیار کی ملے
ان کو خدا ملے ہے خدا کی جنھیں تلاش
مجھ کو بس اک جھلک میرے دلدار کی ملے
(اللہ معافی)