افسوس والی بات تو ہے پر وہ کہتے ہیں نا کہ
بڑے بڑے شہروں میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں
تو میں نے یہی سوچ کر کہ کیا ان منحوس چڑیوں کے منہ لگنا، دفع ہو کہہ کر زیادہ اہم اور تعمیری کام کرنا شروع کر دیا تھا (کہ باڑے میں موجود بھیڑوں کی ٹانگیں گن کر ان کو چار پر تقسیم کر کے بھیڑوں کی تعداد...